| 89570 | جنازے کےمسائل | نماز جنازہ |
سوال
میراسوال یہ ہےکہ کیا نماز جنازہ کے لئے وقت مقرر کرنا اور مقررہ وقت کے اعلانات کرنا شریعت سے ثابت ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
انتظامی ضرورت کے پیش نظر وقت مقرر کر نے اور اس کے اعلان کرنے میں کوئی حرج نہیں۔تاہم نماز جنازہ جتنا جلدی ہوسکےادا کرنا مستحب اور افضل ہے ، اس میں بلا ضرورت تاخیردرست نہیں ۔ یاد رہے کہ جنازہ میں تاخیر محض اس نیت سے کرنا کہ زیادہ لوگ نماز ِجنازہ میں حاضر ہو ں مکروہ ہے۔
اگر مجمع جمع کرنے کے علاوہ کوئی معقول شرعی یا قانونی عذر پایا جائے تو تاخیر کی گنجائش ہوگی ۔ شرعی عذر کی بنیاد پر تاخیر کی مثال جیسے تدفین میں مصروفیت کی صورت میں جمعہ چھوٹنے کا خدشہ ہو ۔قانونی عذر کی بنیاد پر تاخیر کی مثال جیسےقبرستان بند ہو یا کوئی دیگر قانونی کاروائی ہو ، ڈاکٹر صاحب تصدیق وفات نہ کررہے ہوں ۔توان اعذار کی بنیاد پر نماز جنازہ ،تدفین وغیرہ میں تاخیر کی گنجائش ہے ۔
حوالہ جات
(صحیح البخاری :الرقم ،1188)
حدثنا إسماعيل قال: حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن أبي هريرة رضي الله عنه:أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نعى النجاشي في اليوم الذي مات فيه، خرج إلى المصلى، فصف بهم، وكبر أربعا.
سنن ابن ماجۃ:الرقم 1482
حدثنا حرملة بن يحيى قال: حدثنا عبد الله بن وهب قال: أخبرني سعيد بن عبد الله الجهني، أن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب، حدثه عن أبيه، عن جده علي بن أبي طالب أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا تؤخروا الجنازة إذا حضرت»
حاشية ابن عابدين 2/339
(قوله وبالإعلام بموته) أي إعلام بعضهم بعضا ليقضوا حقه هداية. وكره بعضهم أن ينادي عليه
في الأزقة والأسواق لأنه يشبه نعي الجاهلية والأصح أنه لا يكره إذا لم يكن معه تنويه بذكره و تفخيم.
)البحر الرائق شرح كنز الدقائق:(2/206
يكره تأخير الصلاة ودفنه ليصلي عليه الجمع العظيم بعد صلاة الجمعة، ولو خافوا فوت الجمعة بسبب دفنه يؤخر الدفن .
البناية شرح الهدايۃ:3/240
يكره تأخير الصلاة عليه ودفنه إلى وقت صلاة الجمعة، ولو خافوا فوات وقت الجمعة بسبب دفنه أخروا دفنه.
حنبل اکرم
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
07/رجب المرجب 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حنبل اکرم بن محمد اکرم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


