| 89284 | جائز و ناجائزامور کا بیان | عورت کو دیکھنے ، چھونے اورجماع کرنے کے احکام |
سوال
گھر والے میری شادی کر رہے ہیں مگر میں شدید ذہنی کشمکش میں ہوں کچھ سوالات ہیں -1کہ کیامیاں بیوی کا ایک دوسرے کی شرم گاہ دیکھنا مکروہ ہے-2کیا اورل سیکس بھی ناپسندیدہ ہے؟ میرے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی ہےکہ اگر یہ چیزیں گندی اور مکروہ ہیں تو پھر ہمبستری کیسے جائز اور پاکیزہ ہو سکتی ہے؟ -3اس وجہ سے مجھے جنسی خواہش پوری کرنا بھی گندہ اور نفرت انگیز لگنے لگا ہے، حتیٰ کہ نکاح سے بھی دل ہٹ رہا ہے، اور میں سوچتا ہوں کہ کہیں میری فطرت ہی خراب تو نہیں؟ بچپن سے کچھ خیالات آتے تھے، اب لگتا ہے کہ شاید میرا ذہن ہی گندہ ہے۔وسوسہ یہ بھی ہے کہ اگر شادی نہ کی تو زنا سے کیسے بچوں؟ -4 اگر کروں تو کیا ایسی کراہت کے ساتھ نکاح درست رہے گا -5کیا ایسی ذہنی حالت میں کنوارہ رہ جانا شرعاً جائز ہے، اور روزے وغیرہ سے شہوت پر قابو پانے کی اجازت ہوگی؟ اس ذہنی کشمکش کا کوئی حل بتایا جائے کیونکہ دو مہینے سے شدید پریشان ہے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
۱۔میاں بیوی کا ایک دوسرے کی شرم گاہ دیکھنا گناہ نہیں ،تاہم اگر نہ دیکھا جائےتو زیادہ بہتر ہے۔
۲۔ شوہر کااپنی شرمگاہ کو بیوی کے منہ میں داخل کرنا سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔ نیز اگرنجاست منہ میں چلی گئی تو ناجائز بھی ہوجائے گا۔ اس لیے بہرصورت ایک مسلمان کے لیے اس سے اجتناب لازم ہے ۔پس غیر فطری طریقہ کو اختیار کرنے کی بجائے تسکینِ شہوت کے لیے فطری طریقہ ہی اختیار کرنا چاہیے۔
۳۔جماع ایک جائز فطری فعل ہے ۔ خواہ مخواہ آپ اس فعل کو گندہ نہ سمجھیں اور وسوسے کا شکارنہ ہوں ۔
۴۔نکاح کرنا پسندیدہ اور سنت عمل ہے ۔جب مالی گنجائش ہو تو نکاح کرنا پسندیدہ فعل ہے ،لہذا بلاترددنکاح کریں وساوس آہستہ آہستہ ختم ہو جائیں گے۔
حوالہ جات
(الفتاوى العالمكيرية:(3/327
أما النظر إلى زوجته ومملوكته فهو حلال من قرنها إلى قدمها عن شهوة وغير شهوة وهذا ظاهر إلا أن الأولى أن لا ينظر كل واحد منهما إلى عورة صاحبه،
وفي الهندية(5/372):
إذا أدخل الرجل ذكره في فم امرأته، قد قيل: يكره، وقد قيل: بخلافه كذا في الذخيرة.
)الدر المختار شرح تنوير الأبصار:(3/6
(ويكون واجبا عند التوقان) فإن تيقن الزنا إلا به فرض.
نهاية.وهذا إن ملك المهر والنفقة، وإلا فلا إثم بتركه.
صحيح البخاري :5065
حدثنا عمر بن حفص: حدثنا أبي: حدثنا الأعمش، قال: حدثني إبراهيم، عن علقمة قال:
كنت مع عبد الله، فلقيه عثمان بمنى، فقال: يا أبا عبد الرحمن، إن لي إليك حاجة، فخليا، فقال عثمان: هل لك يا أبا عبد الرحمن في أن نزوجك بكرا تذكرك ما كنت تعهد؟ فلما رأى عبد الله أن ليس له حاجة إلى هذا أشار إلي، فقال: يا علقمة. فانتهيت إليه، وهو يقول: أما لئن قلت ذلك، لقد قال لنا النبي صلى الله عليه وسلم: «يا معشر الشباب، من استطاع منكم الباءة فليتزوج، ومن لم يستطع فعليه بالصوم؛ فإنه له وجاء».
حنبل اکرم
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
15 /جمادی الثانیہ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حنبل اکرم بن محمد اکرم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


