| 89286 | ایمان وعقائد | کفریہ کلمات اور کفریہ کاموں کابیان |
سوال
مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب "امداد المشتاق الی اشرف الاخلاق "میں مقالات شریفہ( حصہ سوئم)از مولانا احمد حسین صاحب میں (٢٩٠)یوں درج ہے:- "میں (راوی ملفوظات) حضرت کی خدمت میں غذائے روح کا وہ سبق جو حضرت شاہ نور محمد صاحب کی شان میں ہے سنا رہا تھا جب اثر مزار شریف کا بیان آیا تو فرمایا کہ میرے حضرت کا ایک جولاہا مرید تھا - بعد انتقال حضرت کے مزار شریف پر عرض کیا کہ حضرت میں بہت پریشان اور روٹیوں کا محتاج ہوں،کچھ دستگیری فرمائیں ۔حکم ہوا کہ تم کو ہمارے مزار سے دو آنے یا آدھ آنہ روز ملا کرے گا۔ ایک مرتبہ میں زیارت مزار کو گیا وہ شخص بھی حاضر تھا،اس نے کل کیفیت بیان کر کے کہاکہ مجھے ہر روز وظیفہ مقررہ قبر سے ملا کرتا ہے ۔(حاشیہ)قولہ وظیفہ مقرر، اقول یہ منجملہ کرامات کے ہے۔سوال یہ ہے کہ جولاہے مرید کا وفات کیے ہوئے حضرت سے دستگیری کرنا شرک کیوں نہیں ؟اس طرح سے تو میں بھی اجمیر شریف جاکر خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر جاکر یہ کہہ سکتا ہوں کہ خواجہ میری دستگیری کر دیجیے اگر چہ خواجہ وفات کر گئےہیں جیسے جولاہے مرید نے فوت شدہ حضرت سے دستگیری کی۔ برائے کرم روشنی ڈالیے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس واقعہ کے آخر میں یہ واضح کردیاکہ یہ واقعہ منجملہ کرامات میں سے ہے۔ایک جولاہے نےعقیدت میں ایسے کہہ دیا بطورکرامت اللہ تعالی نے اس کا بندوبست کردیا۔اہلِ سنت والجماعت کے عقائدمیں یہ بات شامل ہے کہ کرامت اللہ تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے جو اللہ تعالی اپنے ولی کے ہاتھ پر ظاہر کرتے ہیں۔ ولی کو بذات خوداس امر کے صادر کرنے پر کوئی اختیار نہیں ہوتا،نیزاس توجیہ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ مرید کا عقیدہ بھی درست تھا ورنہ کرامت ظاہر نہ ہوتی۔
لہذا اس واقعے پر یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ اس میں شرک کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے تاہم اگر کوئی شرکیہ عقیدے سے ایسا کہے گا تو یہ گمراہی کی بات ہوگی۔
حوالہ جات
تفسير الألوسي روح المعاني:(3/298
أن الاستغاثة بأصحاب القبور- الذين هم بين سعيد شغله نعيمه وتقلبه في الجنان عن الالتفات إلى ما في هذا العالم، وبين شقي ألهاه عذابه وحبسه في النيران عن إجابة مناديه والإصاخة إلى أهل ناديه- أمر يجب اجتنابه ولا يليق بأرباب العقول ارتكابه، ولا يغرنك أن المستغيث بمخلوق قد تقضى حاجته وتنجح طلبته فإن ذلك ابتلاء وفتنة منه عز وجل، وقد يتمثل الشيطان للمستغيث في صورة الذي استغاث به فيظن أن ذلك كرامة لمن استغاث به.
(حاشیۃ ابن عابدین :(3/551
وعبارة النسفي في عقائده: وكرامات الأولياء حق، فتظهر الكرامة على طريق نقض العادة للولي، من قطع المسافة البعيدة في المدة القليلة، وظهور الطعام والشراب واللباس عند الحاجة، والمشي على الماء والهواء، وكلام الجماد والعجماء، واندفاع المتوجه من البلاء، وكفاية المهم من الأعداء وغير ذلك من الأشياء. اهـ. (قوله: بل سئل) أي النسفي، وقوله: فقال إلخ جواب بالجواز على وجه العموم.
)حاشیۃ ابن عابدین :(2/439
إن ظن أن الميت يتصرف في الأمور دون الله تعالى، فاعتقاده ذلك كفر اهـ.
حنبل اکرم
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
15 /جمادی الثانیہ 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حنبل اکرم بن محمد اکرم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


