03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وقف املاک کو لمبے عرصے کے لیے کرائے پر دینا
89710وقف کے مسائلوقف کے متفرّق مسائل

سوال

عرض یہ ہے کہ ہماری مسجد کے نام پر ایک مارکیٹ موجود ہے۔ 1990ء میں اُس وقت کی کمیٹی ( وقف کے متولی)نے 90 سالہ معاہدے پر تقریباً 70 تا 90 ہزار روپیہ میں مارکیٹ کاقبضہ(  حق استعمال )کرائے کےطور پردیا  تھا۔ معاہدے میں یہ شرط رکھی گئی تھی کہ:1.اگر مسجد کو ضرورت پیش آئے تو وہ دوبارہ مارکیٹ واپس لے سکے گی۔2. مارکیٹ کے کرایہ کا نصف حصہ ہر ماہ مسجد کو دیا جائے گا3۔مارکیٹ واپسی لینے کی صورت میں رقم واپس ادا کرنی ہوگی اب تک یہی معاہدہ جاری ہے اور اسی پر مارکیٹ چل رہی ہے۔سوال:شرعی نقطۂ نظر سے کیا اس طرح کا معاہدہ درست ہے؟اگر یہ درست نہیں ہے تو اس کا شرعی حل اور لائحہ عمل کیا ہونا چاہئے؟آپ حضرات سے شرعی رہنمائی کی درخواست ہے۔

تنقیح:اصل میں اس زمین کو ہی مسجد کے لیے وقف کیا گيا تھا اور جب مسجد کے نفع کے لیے مارکیٹ بنانے کا ارادہ کیا گیا تب مسجد کے پاس پیسہ نہیں تھا ،اس لیے ان سے پیسہ  لیا گیا۔جن لوگوں سے پیسہ لیا گیا ان لوگوں کو ہی 90 سال کے لیے مارکیٹ کی دوکانیں بایں شرط  دی گئیں کہ .1جوماہانہ کرایہ مارکیٹ کو ملے گا اس میں آدھا حصہ مسجد کو ہر ماہ ملنا چاہیے۔2. مارکیٹ کے کرایہ کا نصف حصہ ہر ماہ مسجد کو دیا جائے گا.3مارکیٹ واپس لینے کی صورت میں رقم واپس ادا کرنی ہوگی اور اسی شرط پر ابھی بھی دکانیں چل رہی ہے، باقی آئندہ کیا ہوگا وہ تو نا معلوم ہے لیکن ہوسکتا ہےکہ مسجد کو کبھی وسیع کرنے کی ضرورت پیش آئے اور وہ دکاندار لوگ نہ دیں صرف اسی بات کا اندیشہ ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کےبیان"مارکیٹ واپس لینے کی صورت میں رقم واپس ادا کرنی ہوگی"کے مطابق   وقف کے حضرات نےجو پیسہ لیا اس کی حیثیت  قرض کی ہے ان  کے لیے   ایسا معاہدہ کرنا جائز نہیں تھا کیونکہ ہر وہ قرض جس سے منفعت حاصل کی جائے اس سے آپ ﷺنے درج ذیل حدیث مبار کہ  میں  منع فرمایا ہے    عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه «نهى عن ‌قرض ‌جر ‌نفعا»۔

دوسرا اہم مسئلہ 90سال کے اجارہ کا بھی ہے۔لمبی مدت  کے اجارہ میں فقہاء کا اختلاف ہے، چناچہ اختلاف کی اصل  منشاوقف کے مال کی حفاظت ہے ۔لہذا اگر متولی وقف کو یقین ہے کہ لمبے عرصے  کے لیے  خاص اس مستاجر کو کرایہ پر دینے میں وقف کے مال کی حفاظت ہے تو اس صورت میں لمبے عرصے کے لیے کرائے  پر  دینا جائز ہے  ۔اور اگر متولی وقف کو  خدشہ ہو   کہ لمبے عرصےتک کرائے پر دینے میں وقف  کو    نقصان ہو گا، توایسی صورت میں کرائے پر دینا جائز نہیں۔

لہذا  متولی حضرات کو چاہیے کہ اول تو اس ناجائز معاہدے پراستغفار کریں اور معاہدے کو  ختم کر یں ۔اب تک کی مدت میں ان دکانوں کا جوکرایہ  مارکیٹ کےمطابق بنتا ہو وہ لے کر باقی قرض واپس کردیں ۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ  خاص ان لوگوں کو دوبارہ کرائے پر دینے میں وقف  کا فائدہ  اور حفاظت ہے ،تو مارکیٹ کے مطابق کرایہ  مقرر کر کے انہیں بھی دے سکتے ہیں ۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:7/395

(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض۔

)حاشیۃ ابن عابدین:(4/404

 فصل يراعى شرط الواقف في إجارته فلم يزد القيم بل القاضي لأن له ولاية النظر لفقير وغائب وميت (فلو أهمل الواقف مدتها قيل تطلق) الزيادة للقيم (وقيل تقيد بسنة) مطلقا (وبها) أي بالسنة (يفتى في الدار وبثلاث سنين في الأرض) إلا إذا كانت المصلحة بخلاف ذلك وهذا مما يختلف زمانا وموضعا وفي البزازية: لو احتيج لذلك يعقد عقودا فيكون العقد الأول لازما لأنه ناجز والثاني لا لأنه مضاف. قلت: لكن قال أبو جعفر الفتوى على إبطال الإجارة الطويلة ولو بعقود ذكره الكرماني في الباب التاسع عشر وأقره قدري أفندي.

(رد المحتار) (4/ 401)

واعلم أن المسألة فيها ثمانية أقوال ذكرها العلامة قنالي زاده في رسالته أحدها: قول المتقدمين عدم تقدير الإجارة بمدة ورجحه في أنفع الوسائل والمفتى به ما ذكره المصنف خوفا من ضياع الوقف كما علمت.(قوله: إلا إذا كانت المصلحة بخلاف ذلك) هذا أحد الأقوال الثمانية، وهو ما ذكره الصدر الشهيد من أن المختار أنه لا يجوز في الدور أكثر من سنة إلا إذا كانت المصلحة في الجواز، وفي الضياع يجوز إلى ثلاث سنين إلا إذا كانت المصلحة في عدم الجواز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وهذا أمر يختلف باختلاف المواضع واختلاف الزمان اهـ وعزاه المصنف إلى أنفع الوسائل وأشارإلى أنه لا يخالف ما في المتن لأن أصل عدول المتأخرين عن قول المتقدمين بعدم التوقيت إلى التوقيت إنما هو بسبب الخوف على الوقف فإذا كانت المصلحة الزيادة أو النقص اتبعت، وهو توفيق حسن.                                                                                             

ماخوذ  از تبویب ،فتوی نمبر 57823:

حنبل اکرم

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

18/رجب المرجب /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حنبل اکرم بن محمد اکرم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب