03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر اختیاری طورپر کلمہ کفر کا زبان سے جاری ہونے کا حکم
89509ایمان وعقائدکفریہ کلمات اور کفریہ کاموں کابیان

سوال

اگر کسی شخص نے بے اختیاری میں کلمہ کفر"ہر ہر مہا دیو"(اے شِو! اے عظیم دیوتا! یا شِو کی جے ہو) کہہ دیا، یہ جملہ کہتے وقت اسکو معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا بول رہا ہے ،یعنی ذہن پر توجہ نہ ہونے کی وجہ سے مذکورہ کفریہ جملہ زبان سے بلا نیت نکل گیا ، پھر اسی لمحے فوراً ذہن میں آیا کہ میں نے یہ کیا کہہ دیا ہے فوراً استغفراللہ کہا ،نیز مذکورہ جملے میں لفظِ" مہا دیو "جان بوجھ کر نہیں کہا تھا ، تو اب اسکے ایمان و نکاح کا کیا حکم ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

غیر اختیاری طور پرمنہ   سے کلمہ کفر    جاری ہونے سے آدمی کافر  نہیں ہوتا ،ایمان اور نکاح بدستور قائم رہتے ہیں۔البتہ قلبی اطمینان کے لیےتوبہ،  استغفار اور کچھ صدقہ کا اہتمام کر لیا جائے۔

حوالہ جات

(حاشیۃ ابن عابدین :4/224)

ومن تكلم بها مخطئا أو مكرها لا يكفر عند الكل ومن تكلم بها عالما عامدا كفر عند الكل.

)البحر الرائق:(5/134

أن من تكلم بكلمة للكفر هازلاً أو لاعبًا كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده، كما صرح به في الخانية. ومن تكلم بها مخطئًا أو مكرهًا لايكفر عند الكل، ومن تكلم بها عامدًا عالمًا كفر عند الكل، ومن تكلم بها اختيارًا جاهلاً بأنها كفر ففيه اختلاف. اهـ

حنبل اکرم

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

01/رجب المرجب /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حنبل اکرم بن محمد اکرم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب