| 89520 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
طلاق نامہ کا اردو میں ترجمہ :
میں علی ظفر ولد ظفر علی نے 31 اگست 2018 کو مسز منزہ عثمان دختر عثمان سبحان ریّو کے ساتھ نکاح کیا۔ ابتدا میں ہم خوشگوار زندگی گزار رہے تھے، لیکن بعد میں اختلافات پیدا ہوئے، مستقل جھگڑے اور ناخوشگوار واقعات پیش آئے، جس سے تعلقات میں تلخی پیدا ہوئی اور رشتہ داروں کی متعدد کوششوں کے باوجود حالات بہتر نہ ہو سکے۔ کوئی اور چارہ نہ رہنے کے سبب میں نے فیصلہ کیا کہ میں مسز منزّہ عثمان کو طلاق دوں۔ لہذا "مسز منزہ عثمان میں تمھیں طلاق دیتا ہوں ،مسز منزہ عثمان میں تمھیں طلاق دیتا ہوں ،مسز منزہ عثمان میں تمھیں طلاق دیتا ہوں " جس کے بعد شوہر اور بیوی کے تمام تعلقات ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئے ہیں۔ مسز منزّہ عثمان پر میری طرف سے بطور بیوی کوئی ذمہ داری باقی نہیں رہے گی اور عدت کے اختتام کے بعد وہ جس شخص سے چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ نکاح نامہ میں ذکر شدہ مہر 500,000 روپے (پانچ لاکھ روپے صرف) نکاح کے پہلے دن ادا کی جا چکی ہے۔ یہ طلاق نامہ مورخہ 25 ستمبر 2025 کے مطابق مکمل کیا گیا اور میں علی ظفر اس پر اپنے دستخط کرتاہوں۔
سوال : میرے شوہر نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق نامہ بھیجا میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا اس طلاق نامے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے اور یہ طلاقیں درست اور موثر ہیں یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
طلاق نامہ میں تحریر الفاظ سے آپ کی سوکن پر تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔یہ طلاقیں مؤثر ہیں، اب وہ میاں بیوی کے طور پر اکٹھے نہیں رہ سکتے ۔
حوالہ جات
سورۃ البقرۃ: (229,230)
﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (229) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (230)﴾
)الفتاوى الهندية:(1/378
الكتابة على نوعين مرسومة وغير مرسومة ونعني بالمرسومۃ أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب وغير موسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا وهو على وجهين مستبينة وغير مستبينة فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته ۔۔۔۔۔وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.
(حاشیۃ ابن عابدین :(3/247
وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابة أو قال للرجل: ابعث به إليها، أو قال له: اكتب نسخة وابعث بها إليها.
حنبل اکرم
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
04/رجب المرجب 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حنبل اکرم بن محمد اکرم | مفتیان | شہبازعلی صاحب |


