| 89563 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
ابھی پاکستان میں کرپٹو کرنسی لیگل ہوگئی تو پاکستان میں یہ کرپٹو کرنسی کیسی ہے؟ جائز ہے یا نا جائز؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو فی الحال قانونی حیثیت حاصل نہیں،البتہ اس حوالے سے حکومتی سطح پر ریگولیٹری اتھارٹی Pakistan Virtual Assets Regulatory Authority کے قیام کےفیصلہ کو اس کی قانونی منظوری کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم چونکہ ابھی تک کوئی واضح ریگولیٹری فریم ورک متعارف نہیں کرایا گیا،جس میں کرپٹو کرنسی کی ٹریڈنگ کے تمام پہلوؤں کو واضح کیا گیا ہو اور ان کو کسی ضابطہ بندی کے تحت لایا گیا ہو۔ اس لیے موجودہ صورتحال میں اس بنیاد پر اس کے جوازکادعوی درست نہیں۔ ہاں اگر کرپٹو کے حوالے سے واضح ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرا دیا جاتا ہے،جس میں اس کے تمام پہلوؤں کو واضح کیا گیا ہو تو پھر شرعی حدود وقیود کے ساتھ جواز کا امکان موجود ہے۔
دار الافتاء جامعۃ الرشید کی رائے توقف کی ہے ۔لہذا کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت سے فی الحال گریز کرنا چاہیے۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع(5/198): ومنها:الخلو من شبهة الربا ،لأن الشبهة ملحقة بالحقيقة في باب الحرمات احتياطا، وأصله ما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ،أنه قال لوابصة بن معبد رضي الله عنه: الحلال بين والحرام بين، وبينهما أمور مشتبهات، فدع ما يريبك إلى ما لا يريبك.
المبسوط للسرخسي(30/106):
ثم ما يتردد بين الحظر والإباحة يترجح معنى الحظر فيه لقوله عليه السلام :الحلال بين والحرام بين وبينهما أمور مشتبهات ،فدع ما يريبك إلى ما لا يريبك.
محمد وجیہ الدین
دارالافتاءجامعہ الرشیدکراچی
1447/ رجب المرجب /09
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد وجیہ الدین بن نثار احمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


