03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سسر کے انتقال کے بعد داماد کا سسر کے گھر میں رہنے کا حکم
89504جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ میں نےشادی کی ہے 2017 میں اورشادی سے لیکر آج تک سسر کے گھر میں رہتا ہوں ،میرے سسر کا گھر سب سے اکیلا ہے ان کے ساتھ کوئی بھائی نہیں رہتا ۔میرے سسر کاایک چھوٹا بیٹا ہے اس کی عمر 8 سال ہے 10/02/2025 کو میرے سسر کا انتقال ہو گیا ہے میری ساس اوراس کے بیٹے کی کفالت کرنے والا کوئی نہیں ہے ،اب اس گھر میں میری ساس ،اس کا بیٹا،  میری بیوی، تین بچے اور میں رہتا ہوں کیا شریعت مجھے اجازت دیتی ہے سسر کے گھر میں رہنے کی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر آپ کا وہاں ٹھہرنا ان لوگوں کی ضرورت ہو تو آپ ٹھہر سکتے ہیں ۔لیکن اگرآپ کاٹھہرنا ان کی ضرورت نہ ہوتو سب سے اجازت لینا ضروری ہے ،کیونکہ سسر کے انتقال کے بعد اس گھر کی ملکیت سسر کے ورثہ کی طرف منتقل ہوچکی ہے۔اورمال ِمشترک میں  تقسیم سے پہلے تمام شرکاء اس گھر کے ہر ہر حصہ میں شریک ہوتے ہیں اوران شرکاء  میں بچہ بھی ہے تو اس سے بھی اجازت لی جائے گی ۔اور اس عمر میں بچہ ممیز ہوجاتا ہے اس لیے اگر و ہ اجازت دےتو اس کا اعتبار کیا جائے گا۔

حوالہ جات

صحيح البخاري (2765):

 عن عائشة رضي الله عنها: {ومن كان غنيا فليستعفف، ومن كان فقيرا فليأكل بالمعروف} ، قالت: أنزلت في والي اليتيم أن يصيب من ماله إذا كان محتاجا بقدر ماله بالمعروف.

سنن أبي داود (2955):

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "‌من ‌ترك ‌مالا ‌فلورثته، ومن ترك كلا فإلينا''.

شرح المجلةلسليم رستم بازاللبناني(1-2/477):

كل واحدمن الشركاء في شركة الملك أجنبي في حصةالآخرولا يعتبر أحدوكيلاعن الآخر،فلذلك لايجوز تصرف أحدهمافي حصة الآخربدون إذنه.أمافي سكنى الدار المشتركةوفي الآحوال التي تعد من توابع السكنى كالدخول والخروج فيعتبركل واحدمن أصحاب الدار المشتركة صاحب ملك مخصوص على وجه الكمال.

الفتاوى الہندیۃ   (2/ 301):

و لايجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره، وكل واحد منهما كالأجنبي في نصيب صاحبه.

دررالحکام شرح مجلۃ الاحکام(1/685):

لو استعمل أحد مالاً بدون إذن صاحبه فهو من قبيل الغصب لا يلزمه أداء منافعـه، ولكن إن كان ذلك المال وقفاً    أو مال صغير ، فحينئذٍ يلزم ضمان المنفعة ،أي :أجر المثل في كل حال.

الدر المختار (6/562) :

لا يجوز أن يهب شيئا من ‌مال ‌طفله ‌ولو ‌بعوض لأنها تبرع ابتداء.

الفتاوى التاتار خانية(16/98):

وفي فتاوى أبي ليث:أن والدالصغيرليس له أن يعير متاع ولده الصغير.

البدائع الصنائع(6/214):

وأما البلوغ فيس بشرط عندنا،حتى تصح الإعارةمن الصبي المأذون.

محمدوجیہ الدین

دارالافتاءجامعہ الرشید کراچی

   25/جمادالثانیہ/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد وجیہ الدین بن نثار احمد

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب