03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
امام کے انتخاب میں مسجد کمیٹی کا فیصلہ شرعا کیسا ہے؟
89973نماز کا بیانتراویح کابیان

سوال

معلوم کرنا ہے کہ  ہمارے علاقے کی مسجد میں جو قاری صاحب تراویح پڑھاتے ہیں ان کی اوسطا تین غلطیاں،اٹکن ہر رکعت میں ہوتی ہیں جبکہ بعض دفعہ اس سے بھی زیادہ، جس کا مطلب ہے کہ 20 رکعت میں 60 غلطیاں،اٹکن۔ لیکن مسجد کی کمیٹی کچھ وجوہات کے تحت ان کو تبدیل نہیں کرتی، جبکہ مسجد میں کچھ دوسرے پکے قاری حضرات موجود ہیں۔ قاری صاحب کی ان غلطیوں کی وجہ سے تراویح پڑھنے اور قرآن سننے کا جو لطف ہے وہ حاصل نہیں ہو پاتا۔

 اس مسئلے کا جواب عنایت فرمائیں کہ شریعت کی روشنی میں مسجد کمیٹی کا یہ اقدام کیسا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

   صورت مسئولہ میں تراویح کے لیے قاری کا انتخاب نمازیوں  کا حق ہے۔ اور چونکہ مسجد کمیٹی اہل محلہ کی نمائندہ ہوتی ہے، اس لیے اس کا کیا گیا فیصلہ شرعا درست ہے۔باقی تراویح میں غلطیاں تقریبا ہر قاری سے ہوتی ہیں،جن کی تصحیح سے تراویح کی نماز درست ہوجاتی ہے۔

حوالہ جات

الدرالمختار:(1/557)

 "(والأحق بالإمامة) تقديما بل نصبا...(أو الخيار إلى القوم) فإن اختلفوا اعتبر أكثرهم؛ ولو قدموا غير الأولى أساءوا بلا إثم."

سید سمیع اللہ شاہ 

دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی

21/   شعبان المعظم/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید سمیع اللہ شاہ بن سید جلیل شاہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب