| 90007 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے فاسد معاملات کا بیان |
سوال
میں نے ایک پارٹنرشپ معاہدہ کیا تھا جو باقاعدہ اسٹامپ پیپر پر تحریر شدہ ہے اور گواہان کی موجودگی میں طے پایا۔ اس معاہدے کے مطابق:
فریقِ اول نے ایک فلیٹ کی خریداری اور اس کی مرمت و تزیین (Renovation) میں مکمل سرمایہ فراہم کیا، جبکہ فریقِ دوم نے اس فلیٹ کی خرید، رینوویشن اور فروخت کے عمل میں اپنی خدمات، مہارت اور وقت فراہم کیا۔اور طے یہ ہوا کہ فلیٹ فروخت ہونے کے بعد تمام اخراجات منہا کر کے حاصل ہونے والا منافع فریقِ اول اور فریقِ دوم کے درمیان 60% اور 40% کے تناسب سے تقسیم ہوگا۔
یہ پارٹنرشپ تین سال سے زائد عرصہ سے جاری ہے، تاہم ابھی تک فلیٹ فروخت نہیں ہوا۔ اس دوران فلیٹ کو کرایہ پر دے دیا گیا۔ابتداء میں فریقِ دوم نے کرایہ کے متعلق دریافت کیا تو فریقِ اول نے کہا کہ کرایہ صرف اسی کا ہوگا جس نے سرمایہ لگایا ہے، اور فریقِ دوم کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اس کا ریکارڈ واٹس ایپ میں فریق اول کی آوازمیں اور فریق دوم کا جوابی اقرار تحریر کی صورت میں ہے۔اب کافی عرصہ گزرنے کے بعد فریقِ دوم یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ چونکہ وہ بھی اس شراکت کا حصہ ہے، لہٰذا فلیٹ کے کرایہ میں بھی اس کا حصہ بنتا ہے، خصوصاً اس مدت کے دوران جب فلیٹ کرایہ پر رہا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت میں فریقِ دوم کا کرایہ میں شرعاً کوئی حصہ بنتا ہے؟اورکیا ابتدائی زبانی وضاحت (کہ کرایہ میں حصہ نہیں ہوگا) شرعاً لازم ہے؟جبکہ اصل معاہدہ ابھی مکمل نہیں ہوا (فلیٹ فروخت نہیں ہوا)، تو کرایہ کی آمدن کو کس طرح تقسیم کیا جانا چاہیے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں شراکت کے نام سے جو معاہدہ کیا گیا ہے یہ دراصل فقہی لحاظ سے اجارہ فاسدہ یعنی ناجائز اجرتی معاہدہ کی صورت ہے،کیونکہ اس میں فریقِ دوم کی مذکورہ فلیٹ کی خریداور اس کی مرمت و تزیین وغیرہ کے عمل میں مہارت و خدمات لینے کی کوئی واضح اور یقینی اجرت متعین نہیں کی گئی،بلکہ فلیٹ کی فروخت سے نفع ہونے کی صورت میں اسی سے 40%حصہ طے کیا گیا،جوکہ مجہول اورغیریقینی اجرت ہے،اور شریعت کی رو سے ایسی شرط پر مبنی اجرت کا معاہدہ فاسد شمار ہوتا ہے۔لہٰذا اب اس کا حکم یہ ہے کہ اس فلیٹ کا مالک فریقِ اول فہد نصیر ہی ہے،اور کرایہ کا حق دار بھی اکیلے وہی ہے،جبکہ اس پر فریقِ دوم جمال حبیب کو اس کے مذکورہ فلیٹ کی خریداور اس کی مرمت و تزیین وغیرہ کے عمل میں مہارت و خدمات فراہم کرنے کی اجرتِ مثل( مارکیٹ ریٹ کے مطابق اجرت) دینا لازم ہے۔
باقی یہ معاہدہ شراکت کا اس لیے نہیں کہ کاروباری شرکت میں یا تو شرکا ء مشترکہ کاروبار میں اپنا اپنا سرمایہ لگا تے ہیں،یا مشترکہ طور پراجرت کے بدلے اپنے گاہکوں کو کوئی خدمت فراہم کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں،یا اشیا ء ِ تجارت ادھار پر خرید کر ان کی فروخت سے حاصل ہونے والے نفع میں شریک ہوتے ہیں،جبکہ مذکورہ معاہدہ ان تینوں صورتوں سے مختلف ہے۔نیز یہ مضاربت کی صورت بھی نہیں کہ مضاربت میں ایک فریق دوسرے کو سرمایہ کاری کے لیے مال دیتا ہے اور دوسرا فریق اپنے مکمل اختیار کے ساتھ اس سے کاروبار کرتا ہے،جبکہ یہاں فریقِ دوم کو فلیٹ کی مرمت اور اس کو کرایہ پر دینےیا فروخت کرنے کے حوالے سے تصرف کا مکمل اختیار نہیں دیا گیا۔
البتہ اگرفریقین آئندہ کے لیے شراکت قائم کرنا چا ہیں تو فلیٹ کی موجودہ قیمت معلوم کرکے فریق اول دوسرے سے کچھ رقم کے بدلے میں اسے فلیٹ کی ملکیت میں شریک بنا لے، اس طرح دونوں ایک معلوم تناسب سے فلیٹ میں شریک بن کر اسی تناسب سے اس کے کرایہ کے بھی مستحق ہوں گے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 45،46):
باب الإجارة الفاسدة :(الفاسد) من العقود (ما كان مشروعا بأصله دون وصفه، والباطل ما ليس مشروعا أصلا)لا بأصله ولا بوصفہ.(وحكم الأول) وهو الفاسد (وجوب أجر المثل بالاستعمال) لو المسمى معلوما. ابن كمال، (بخلاف الثاني) وهو الباطل، فإنه لا أجر فيه بالاستعمال .حقائق. . . (تفسد الإجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكل ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها)، كجهالة مأجور أو أجرۃأو مدةأو عمل.
مجلة الأحكام العدلية (ص: 204،206):
(المادة 1060) شركة الملك هي كون الشيء مشتركا بين أكثر من واحد أي مخصوصا بهم بسبب من أسباب التملك كالاشتراء والاتهاب وقبول الوصية والتوارث أو بخلط.
(المادة 1073) تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم. فلذلك إذا شرط لأحد الشركاء حصة أكثر من حصته من لبن الحيوان المشترك أو نتاجه لا يصح.
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
20/شوال /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


