03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جھوٹ بول کر عدالتی خلع لینے کا حکم
89997طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بیوی نے عدالت میں جاکر میرے خلاف جھوٹ بولا ہے کہ میں اسے خرچہ نہیں دے رہا حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ میں اسے خرچہ دیتا تھا اور عدالت میں جاکر جج کے سامنے پیش ہوا تھا اور جج سے میں نے کہا تھا کہ آئندہ ایک سال اور پانچ سال کے لیے بھی اپنی بیوی کے اکاؤنٹ میں پیسے ڈالنے کے لیے تیار ہوں۔ لیکن اس کے باوجود عدالت نے خلع کی ڈگری دے دی اور میں نے اس پر دستخط نہیں کیے اور میں خلع کے لیے تیار نہیں ہوں اور اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں۔اب معلوم یہ کرنا تھا کہ کی مذکوہ عدالتی خلع شرعا معتبر  ہے یا نہیں؟عدالتی خلع نامہ کے دستاویزات سوال کے ساتھ منسلک ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

خلع ایک عقد ہے، جس کے لیے میاں بیوی کی رضامندی ضروری ہے۔اورشوہر کی رضامندی کے بغیر یکطرفہ فسح نکاح کا اختیار جج کو  صرف ایسی مجبوری کی صورت میں حاصل ہوتا ہے جب فسخ نکاح کا کوئی معتبر سبب موجود ہو جیسے :

1۔ شوہر نامرد ہو۔

2۔متعنت ہو یعنی نان نفقہ نہ دیتا ہو اور نہ طلاق دیتا ہو۔

3۔مفقود ہو یعنی ایسا لاپتہ ہو کہ اس کا کوئی حال احوال معلوم نہ ہو۔

4۔غائب غیر مفقود ہو یعنی پتہ معلوم ہو، لیکن نہ خود بیوی کے پاس آتا ہو اور نہ بیوی کو اپنے پاس بلاتا ہو اور نہ اسے نان نفقہ فراہم کرتا ہو۔

5۔ ایسا پاگل ہو یا ایسا تشدد کرتا ہو کہ اس کے ساتھ رہنے میں نا قابل برداشت تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو۔مذکور معاملہ میں بیوی بدستور شوہر کےنکاح میں باقی ہے اور قاضی کے فیصلہ سے ان کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا، اس لیے کہ یہ فیصلہ نہ خلع ہوسکتا اور نہ ہی فسخ نکاح کیونکہ خلع کے لیے شوہر کی رضامندی شرط ہے اور وہ یہاں مفقود ہے اور فسخ نکاح اس لیے نہیں ہوسکتا کیونکہ فسخ نکاح کے اسباب میں سے کوئی معتبر سبب یہاں موجود نہیں ہے۔

حوالہ جات

سورۃ البقرۃ رقم الأیۃ: (223)

"ولا يحل لكم أن تأخذوا مما آتيتموهن شيئا إلا أن يخافا ألا يقيما حدود الله  فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به تلك حدود الله فلا تعتدوها ومن يتعد حدود الله فأولئك هم الظالمون ".

بدائع الصنائع :(3/145)

وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.

المبسوط للسرخسی:()

والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض.

الدرالمختار مع ردالمحتار: (3/441)

(ولا بأس به عند الحاجة) للشقاق بعدم الوفاق (بما يصلح للمهر) بغير عكس كلي لصحة الخلع بدون العشرة وبما في يدها وبطن غنمها وجوز العيني انعكاسها.

زبیر احمد ولد شیرجان

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

19/شوال/1447

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب