| 90038 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | کئی لوگوں کو مشترکہ طور پرکوئی چیز ہبہ کرنے کا بیان |
سوال
سوال یہ ہے کہ ایک شخص کی دو بیویاں اور گیارہ بیٹے بیٹیاں ہیں، جن میں سے سات بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں، وہ اپنی جائیداد زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہتا ہے، تو شرعی اعتبار سے یہ کیسے تقسیم کرے گا؟ نیز اس شخص کی والدہ بھی ابھی تک زندہ ہے، البتہ والد کا انتقال ہو چکا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
زندگی میں آدمی کااپنی اولاد کو کوئی جائیداد دینا شرعی اعتبار سے وراثت نہیں، بلکہ یہ ہبہ (ہدیہ،گفٹ) کہلاتا ہے، جس پر اولاد والد کو مجبور نہیں کر سکتی، نیزاس میں عدل وانصاف کے تقاضے پورے کرنا بھی لازمی ہے، لہذااگر آپ اپنی رضامندی سے یہ مکان بیچ کر بطورِ ہبہ (ہدیہ) اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہیں توایسی صورت میں بیٹے اور بیٹیوں کو برابر حصہ دینا یا کم از کم بیٹی کو بیٹے کی بنسبت آدھا حصہ دینا ضروری ہے، نیز کسی بیٹے یا بیٹی کو اس کی خدمت، دینداری یا مالی تنگی کے باعث کچھ زیادہ حصہ دینے کی بھی گنجائش ہے، بشرطیکہ دوسرے ورثاء کو محروم کرنےکی نیت نہ ہو۔ نیزکل جائیداد اولاد کو دینےکی صورت میں پہلے دونوں بیویوں کو کم از کم آٹھواں حصہ اور والدہ کو چھٹا حصہ ضروردینا چاہیے، تاکہ مستقبل میں ان ورثاء کو میراث سے محروم کرنا لازم نہ آئے، اس کے بعد بقیہ مال اولاد کے درمیان تقسیم کیا جائے۔اور ایسی صورت میں جس کو کچھ مال زیزادہ دیناچاہے تو اس کو تقسیم سے پہلے دیدے۔
حوالہ جات
لسان الحكام (ص: 371) لابن الشِّحْنَةالثقفي الحلبي– القاهرة:
نوع الأفضل في هبة الابن والبنت التثليث كالميراث وعند أبي يوسف رحمه الله تعالى التنصيف وهو المختار ولو وهب جميع ماله من ابنه جاز وهو آثم نص عليه محمد رحمه الله تعالى ولو خص بعض أولاده لزيادة رشده فلا بأس به وإن كانوا سواء في الرشد لا يفعله.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 127) دار الكتب العلمية، بیروت:
(وأما) كيفية العدل بينهم فقد قال أبو يوسف العدل في ذلك أن يسوي بينهم في العطية ولا يفضل الذكر على الأنثى وقال محمد العدل بينهم أن يعطيهم على سبيل الترتيب في المواريث للذكر مثل حظّ الأنثيين كذا ذكر القاضي الاختلاف بينهما في شرح مختصر الطحاوي وذكر محمد في الموطإ ينبغي للرجل أن يسوي بين ولده في النحل ولا يفضل بعضهم على بعض.وظاهر هذا يقتضي أن يكون قوله مع قول أبي يوسف وهو الصحيح لما روي أن بشيرا أبا النعمان أتى بالنعمان إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي فقال له رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أكل ولدك نحلته مثل هذا فقال لا فقال النبي- عليه الصلاة والسلام - فأرجعه وهذا إشارة إلى العدل بين الأولاد في النحلة وهو التسوية بينهم ولأن في التسوية تأليف القلوب والتفضيل يورث الوحشة بينهم فكانت التسوية أولى ولو نحل بعضا وحرم بعضا جاز من طريق الحكم؛ لأنه تصرف في خالص ملكه لا حق لأحد فيه إلا أنه لا يكون عدلا سواء كان المحروم فقيها تقيا أو جاهلا فاسقا على قول المتقدمين من مشايخنا وأما على قول المتأخرين منهم لا بأس أن يعطي المتأدبين والمتفقهين دون الفسقة الفجرة۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (5/ 696) الناشر: دار الفكر-بيروت:
وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوّى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم.
البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 44) دار الفكر - سوريَّة – دمشق:
لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
23/شوال المکرم1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


