03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دو مرتبہ لفظِ طلاق اور تیسری مرتبہ “آزاد ہے” کہنے کا حکم
90039طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

ہماری شادی کو سات ماہ ہوئے ہیں، گزشتہ چار ماہ میں ہمادے درمیان کچھ اختلافات ہوئے، شوہر ہر بات پر طلاق کی دھمکی دیتے ہیں، میرے رشتہ داروں کو بھی کہتے ہیں کہ میں طلاق دینا چاہتا ہوں، پہلی مرتبہ لڑائی کے دوران انہوں نے مجھے وائس میسج کیا کہ جاؤ دفع ہو جاؤ، تمہیں طلاق دی۔ اس کے بعد انہوں نے میسج ڈیلیٹ کر دیا، میں نے صرف یہی میسج دیکھا تھا، باقی انہوں نے میرے دیکھنے سے پہلے ہی ڈیلیٹ کر دیے تھے، میں نے ان سے پوچھا کتنی بار طلاق لکھا ہے؟ پہلے تو انہوں نے صاف انکار کر دیا کہ میں نے ایسا کچھ نہیں لکھا، اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ایک بار بول بھی دیا تو بندہ رجوع کر سکتا ہے۔

اس کے تقریباً دس دن بعدجب وہ دبئی سے واپس آئے توہمارے درمیان رجوع ہوگیا،  ایک ہفتہ کےبعد ہمارے درمیان پھر لڑائی ہوئی، انہوں نے غصے میں کہا کہ میں محمد عنصر اپنے پورے ہوش وحواس میں کہتا ہوں کہ "تمہیں طلاق"۔ اسی دن انهوں نے کسی کو کال پر بھی کہا کہ میں نے اسے طلاق دے دی ہے، اس کے بعد میں اپنے میکے آ گئی اوراس کے بعد انہوں نے رجوع نہیں کیا۔

دس پندرہ دنوں بعد شوہرمجھے لینے کے لیے  امی کے گھر آئے،  میں ساتھ نہیں گئی تو انہوں نے غصے  کی حالت میں  میرے ابو کو وائس میسج بھیجا کہ یہ میرے ساتھ نہیں گئی، اب کسی اور جگہ اس کا رشتہ کر دو، مجھے بتانا، میں طلاق نامہ لکھ دوں گا، اب اپنی بیٹی سے کہو کہ نیا دلہا ڈھونڈ لے اور اس سے شادی کر لے، یہ مجھ سے اب آزاد ہے، ختم ہے۔ طلاق نامہ بھیجو تو میں دستخط کر دوں گا، میرے واسطے اب یہ ختم ہے، مجھ سے اب یہ آزاد ہے بالکل بس۔

اب شوہر صلح کرنا چاہتے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ایسی صورت میں صلح ہو سکتی ہے؟  گھر والے مجھے صلح کرنے پر مجبور کر رہے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ طلاق کے لیے گواہ ضروری ہیں۔

وضاحت: سائلہ نے شوہر کے میسجز بھیجے، جس میں اس نے واضح طور پر کہا کہ اب ختم ہے،مجھ سے آزادہے بالکل بس۔ یہ الفاظ دو مرتبہ کہے اور پھر لڑکی نے اس سے پوچھا کہ آپ بار بار طلاق کے الفاظ کہہ کر پیچھے کیوں ہٹ جاتے ہو؟ تو شوہر نے میسج میں جواب دیا کہ تم مجبور کرتی ہو تو یہ گندہ لفظ کہنا پڑتا ہے، لیکن قسم ہے آج کے بعد نہیں کہوں گا۔ سائلہ کے پاس پہلی دو طلاقوں کے میسجز موجود نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ سائلہ نے حلفیہ بیان دیا کہ اس نے سوال میں جو کچھ لکھا ہے وہ بالکل صحیح ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی صورتِ حال کے مطابق چونکہ عورت نے حلفیہ بیان دیا ہے کہ اس کے شوہر نے دو مرتبہ اس کو صریح الفاظ میں طلاق دی اور تیسری مرتبہ کنایہ الفاظ میں دوبار کہا کہ" اب ختم ہے یہ مجھ سے آزاد ہے،" جس کا سائلہ نے بطورِ ثبوت وائس میسج بھی بھیجا ہے اور یہ الفاظ چونکہ شوہر نے غصے اور جھگڑے کی حالت میں کہے ہیں اور ایسی حالت میں ان الفاظ سے طلاقِ بائن واقع ہو جاتی ہے اور یہ الفاظ پندرہ دن کے وقفہ کے بعد مستقل طور پر کہے گئے ہیں اس لیے ان الفاظ کو دوسری طلاق کی تاکید یا تغلیظ کے طور پر بھی شمار نہیں کیا جا سکتا، نیز طلاق کے وقوع کے لیے کسی قسم کے گواہوں کا ہونا ضروری نہیں، اس لیے ان الفاظ سے سائلہ پر تیسری طلاق واقع شمار ہو گی اور اس کی وجہ سے عورت  پر حرمتِ مغلظہ(جس کے بعد بغیر حلالہ کے شرعاً نکاح نہیں کیا جا سکتا)  ثابت ہو چکی ہےاورتین طلاق کے بعد حرمت مغلظہ کا ثابت ہونا  اہلِ السنة والجماعت یعنی حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کا متفقہ مسئلہ ہے، اس کے بعد اسی حالت میں دوبارہ نکاح یا رجوع نہیں ہو سکتا، لہذا  عورت عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں  شرعاًآزاد ہے،  البتہ اگر یہ عورت  اپنے سابقہ خاوند (جس نے تین طلاقیں دی ہیں ) سے دوبارہ نکاح کرنا چاہے تو اس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ عورت عدت گزارنے کے بعد کسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ خاوند عورت سے ہمبستری بھی کرے، پھر وہ اپنی رضامندی سے عورت کو طلاق دیدے یا وہ وفات پا جائے تو اُس خاوند کی عدت گزارنے کے بعد فریقین باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں،ورنہ جائز نہیں۔

یہ بات بھی یاد رہے کہ اب عورت کا اسی حالت میں مرد کے ساتھ رہنا ہرگز جائز نہیں اور صلح کے ذریعہ حرام چیز حلال نہیں ہو سکتی، چنانچہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے یہاں تک تصریح کی ہے کہ اگر عدالت عورت کے پاس گواہ نہ ہونے کی وجہ سے مرد  سے قسم لے کر تین طلاق کے عدمِ وقوع کا فیصلہ کر دے تو بھی عورت مرد کے لیے دیانتاً حلال نہیں ہو گی اور اس کا مرد کو ہمبستری وغیرہ کے لیے اپنے اوپر قدرت دینا ہرگز جائز نہیں ہو گا، چنانچہ فقہ حنفی کے ماخذ اور معتبر ترین کتاب "الاصل" (اس کو المبسوط بھی کہا جاتا ہے اوریہ حنفیہ کی ظاہر الروایہ میں سے ایک کتاب ہے)  میں امام محمدرحمہ اللہ نے اس کی صراحت کی ہےاورحنفیہ کی دیگر کتب میں بھی یہ مسئلہ اسی طرح بیان کیا گیا ہے کہ عدالت کے فیصلہ کے بعد بھی عورت مرد کے لیے شرعاً  اور دیانتاً حلال نہیں ہو گی۔ لہذا مذکورہ صورت میں اگرعورت شخصِ مذکور اپنے ساتھ رہنے پر مجبور کرے تو عورت پر لازم ہے کہ وہ عدالتی کاروائی کے ذریعہ اپنی جان چھڑائے، کیونکہ پاکستانی قانون کےمطابق یہاں کی عدالتیں عورت کے مطالبہ پر خلع کا فیصلہ جاری کرتی ہیں، لہذا عورت کے کہنے پر عدالت خلع یا فسخ نکاح کا کوئی بھی فیصلہ جاری کردے تو عورت کو قانونی تحفظ مل جائے گا اور اس کے بعد شوہر اس کو اپنے ساتھ رہنے پر مجبور نہیں کر سکے گا۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 518) ایچ ایم سعید:

في البزازية: طلقها ثلاثا ووطئها في العدة مع العلم بالحرمة لا تستأنف العدة بثلاث حيض، ويرجمان إذا علما بالحرمة ووجد شرائط الإحصان، ولو كان منكرا طلاقها لا تنقضي العدة، ولو ادعى الشبهة تستقبل وجعل في النوازل البائن كالثلاث والصدر لم يجعل الطلاق على مال والخلع كالثلاث، وذكر أنه لو خالعها ولو بمال ثم وطئها في العدة عالما بالحرمة تستأنف العدة لكل وطأة وتتداخل العدد إلى أن تنقضي الأولى، وبعده تكون الثانية والثالثة عدة الوطء لا الطلاق حتى لا يقع فيها طلاق آخر ولا تجب فيها نفقة اه ۔

البناية شرح الهداية (12/ 207) دار الكتب العلمية – بيروت:

قوله: ولو أن امرأة أخبرها ثقة إلى قوله وإذا باع المسلم خمرا، من مسائل كتاب " الاستحسان "، ذكرها تفريعا على مسائل " الجامع الصغير ". وكذا لو قالت لرجل: طلقني زوجي وانقضت عدتي فلا بأس بأن يتزوجها. وكذا إذا قالت المطلقة الثلاث: انقضت عدتي وتزوجت بزوج آخر ودخل بي ثم طلقني وانقضت عدتي، فلا بأس بأن يتزوجها الزوج الأول. وكذا لو قالت جارية: كنت أمة لفلان فأعتقني لأن القاطع طارئ، ولو أخبرها مخبر أن أصل النكاح كان فاسدا، أو كان الزوج حين تزوجها مرتدا أو أخاها من الرضاعة لم يقبل قوله حتى يشهد بذلك رجلان أو رجل وامرأتان، وكذا إذا أخبره مخبر: أنك تزوجتها وهي مرتدة أو أختك من الرضاعة لم يتزوج بأختها أو أربع سواها، حتى يشهد بذلك عدلان؛ لأنه أخبر بفساد مقارن، والإقدام على العقد يدل على صحته وإنكار فساده، فثبت المنازع بالظاهر، بخلاف ما إذا كانت المنكوحة صغيرة فأخبر الزوج أنها ارتضعت من أمه أو أخته حيث يقبل قول الواحد فيه؛ لأن القاطع طارئ والإقدام الأول لا يدل على انعدامه.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 529) دار الفكر-بيروت:

وفي جامع الفصولين أخبرها واحد بموت زوجها أو بردته، أو بتطليقها حل لها التزوج، ولو سمع من هذا الرجل آخر له أن يشهد لأنه من باب الدين فيثبت بخبر الواحد، بخلاف النكاح والنسب. أخبرها عدل أو غير عدل فأتاها بكتاب من زوجها بطلاق ولا تدري أنه كتابه، أو لا إلا أن أكبر رأيها أنه حق فلا بأس بالتزوج. اهـ.

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (4/ 62) دار الكتاب الإسلامي،بيروت:

إن سمعته طلقها ثلاثا ثم جحد، وحلف أنه لم يفعل، وردها القاضي عليه لم يسعها المقام معه، ولم يسعها أن تتزوج بغيره أيضا. والحاصل أنه جواب شمس الإسلام الأوزجندي ونجم الدين النسفي والسيد أبي شجاع وأبي حامد والسرخسي يحل لها أن تتزوج بزوج آخر فيما بينها وبين الله تعالى، وعلى جواب الباقين لا يحل انتهى، وفي الفتاوى السراجية إذا أخبرها ثقة أن الزوج طلقها، وهو غائب وسعها أن تعتد وتتزوج، ولم يقيده بالديانة والله أعلم.

قال المصنف - رحمه الله - وقد نقل في القنية قبل ذلك عن شرح السرخسي ما صورته طلق امرأته ثلاثا، وغاب عنها فلها أن تتزوج بزوج آخر بعد العدة ديانة ونقل آخر أنه لا يجوز في المذهب الصحيح اهـ.

قلت إنما رقم لشمس الأئمة الأوزجندي، وهو الموافق لما تقدم عنه، والقائل بأنه المذهب الصحيح العلاء الترجماني ثم رقم بعده لعمر النسفي، وقال حلف بثلاثة فظن أنه لم يحنث، وعلمت الحنث، وظنت أنها لو أخبرته ينكر اليمين فإذا غاب عنها بسبب من الأسباب فلها التحلل ديانة لا قضاء قال عمر النسفي سألت عنها السيد أبا شجاع فكتب أنه يجوز ثم سألته بعد مدة فقال إنه لا يجوز، والظاهر أنه إنما أجاب في امرأة لا يوثق بها اهـ.

المبسوط للسرخسي (7/ 31) الناشر: دار المعرفة – بيروت:

 وإن ادعى أنه قد جامعها فإن ادعى في الأربعة الأشهر فالقول قوله وإن ادعى ذلك بعد مضي المدة لم يقبل قوله بناء على الأصل المعروف أنه متى أقر بما يملك إنشاءه لا يكون متهما، فلو أقام شاهدين على مقالته في الأربعة الأشهر أنه قد جامعها فهي امرأته؛ لأن الثابت من إقراره بالبينة كالثابت بالمعاينة وهي من أعجب المسائل أن لا يقبل إقراره بعد مضي المدة، ثم يتمكن من إثباته بالبينة وكذلك إن صدقته المرأة فالحق لهما لا يعدوهما، غير أنه لا يسعها أن تقيم معه إذا كانت تعلم كذبه؛ لأن القاضي لو علم بذلك فرق بينهما فإذا علمت هي عليها أن تمنع نفسها منه بأن تهرب أو تفتدي بمالها إلا أن يتزوجها نكاحا جديدا.

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 182) الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت:

إذا شهد شاهدان عدلان أن زوجها طلقها ثلاثا وهو يجحد ذلك ثم ماتا أو غابا قبل أن يشهدا عند القاضي لم يسعها أن تقيم معه وأن تدعه يقربها. فإن حلف الزوج على ذلك والشهود قد ماتوا فردها القاضي عليه لا يسعها المقام معه، وينبغي لها أن تفتدي بمالها أو تهرب منه وإن لم تقدر على ذلك قتلته متى علمت أنه يقربها، لكن ينبغي أن تقتله بالدواء، وليس لها أن تقتل نفسها، وإذا هربت منه لم يسعها أن تعتد وتتزوج بزوج آخر، قال شمس الأئمة السرخسي رحمه الله في شرح كتاب الاستحسان: هذا جواب الحكم. فأما فيما بينها وبين الله تعالى إذا هربت فلها أن تعتد وتتزوج بزوج آخر والله أعلم.

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (5/ 301) الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت:

إن سمعته أنه طلقها، وجحد الزوج ذلك وحلف، فردها القاضي لم يسعها المقام معه، وينبغي لها أن تفتدي بمالها أو تهرب منه، وإن لم تقدر على ذلك قتلته.

كذا في شرح المنظومة، وفي البزازية شهد أن زوجها طلقها ثلاثا إن كان غائبا ساغ لها أن تتزوج بآخر، وإن كان حاضرا لا لأن الزوج إن أنكر احتيج إلى القضاء بالفرقة، ولا يجوز القضاء بها إلا بحضرة الزوج.اهـ.

وفيها سمعت بطلاق زوجها إياها ثلاثا، ولا تقدر على منعه إلا بقتله إن علمت أنه يقربها تقتله بالدواء، ولا تقتل نفسها، وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة تحلفه فإن حلف فالإثم عليه، وإن قتلته فلا شيء عليها، والبائن كالثلاث. اهـ. وفي التتارخانية. وسئل الشيخ أبو القاسم عن امرأة سمعت من زوجها أنه طلقها ثلاثا، ولا تقدر أن تمنعه نفسها هل يسعها أن تقتله في الوقت الذي يريد أن يقربها، ولا تقدر على منعه إلا بالقتل فقال لها أن تقتله، وهكذا كان فتوى الإمام شيخ الإسلام عطاء بن حمزة أبي شجاع، وكان القاضي الإمام الإسبيجابي يقول ليس لها أن تقتله، وفي الملتقط، وعليه الفتوى.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 251) الناشر: دار الفكر-بيروت:

والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين(3/279) الناشر: دار الفكر-بيروت:

[تتمة] يقع كثيرا في كلام العوام: أنت طالق تحلي للخنازير وتحرمي علي وأفتى في الخيرية بأنه رجعي لأن قوله وتحرمي علي إن كان للحال فخلاف المشروع لأنها لا تحرم إلا بعد انقضاء العدة، وإن كانت للاستقبال فصحيح ولا ينافي الرجعة، وكذلك أفتى بالرجعي في قولهم أنت طالق لا يردك قاض ولا عالم لأنه لا يملك إخراجه عن موضوعه الشرعي.
وأيده في حواشيه على المنح بما في الصيرفية: لو قال: أنت طالق ولا رجعة لي عليك فرجعية، ولو قال: على أن لا رجعة لي عليك فبائن اهـ وقال: إن قولهم لا يردك قاض إلخ مثل قوله ولا رجعة لي عليك لأن حذف الواو كإثباتها كما لو ظاهر، لا مثل علي أن لا رجعة اهـ. قلت: والفرق أن علي أن لا رجعة قيد للطلاق لأنه شرط فيه، فهو في معنى أنت طالق طلاقا مشروطا فيه عدم الرجعة: أي طلاقا بائنا، فهو داخل تحت القاعدة من أنه إذا وصف الطلاق بضرب من الشدة والزيادة يقع به البائن كما مر عن الهداية. أما ولا رجعة

لي عليك فليس صفة للطلاق بل هو كلام مستأنف أخبر به عما هو خلاف الشرع، فإن الشرع هو وقوع الرجعي بأنت طالق؛ فقوله ولا رجعة لغو،مثل قوله: أنت طالق وبائن أو ثم بائن بلا نية كما مر، وكذا قولهم لا يردك قاض إلخ ليس صفة للطلاق بل هو صفة للمرأة فلم يدخل تحت القاعدة المذكورة؛ ومثله تحلي للخنازير وتحرمي علي.

معين القضاة والمفتين للشيخ شمس الحق الأفغاني(ص:68) الناشر:ميرمحمد كتب خانه، آرام باغ ، كراتشي:

ولو قضى بشهادة الزور فيما عداالمذكور كمن أقام بينة زور على امرأة أنه تزوجها أو ادعت امرأة على  زوجها أنه طلقها ثلاثا إذا أقامت بينة زور وحكم القاضي بتلك الشهادة فالقضاء ينفذ ظاهراً وباطناً عند الإمام وقال الصاحبان وزفر والثلاثة ينفذ ظاهرا لا باطنا وعليه الفتوى.(نقله أيضا في القهستاني عن الحقائق)

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

25/شوال المکرم1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب