03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین طلاق کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پرعمل کرنے کا حکم
90018طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

میں امجد ندیم ولد اللہ دتہ ندیم باہوش وحواس اقرار کرتا ہوں کہ میں اپنی بیوی حاجره ناز دختر حامدخان کوبوجہ نافرمانی طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں میرا اب اس سے کوئی تعلق نہیں رہا، طلاق دہندہ امجد ندیم نے استفتاء کے ساتھ منسلک فتوی غیر مقلدین سے لیا ہے، جبکہ سسرال والے غیر مقلدین کے اس فتوی کی بنیاد پر بیوی واپسی پر رضامند نہیں، اس بارے میں کافی تنازعہ چل رہا ہے سسرال والوں کو اصل شرعی حکم کے متعلق فتوی کی اشد ضرورت ہے،  اس بارے میں مفصل جواب دے کر  ہماری رہنمائی فرمائیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطور تمہید یہ جاننا ضروری ہے کہ جمہور اہل السنۃ والجماعۃ کے نزدیک بیوی کو تین طلاقیں دینے سے حرمتِ مغلظہ ثابت ہو جاتی ہے، خواہ ایک مجلس میں طلاقیں دی گئی ہوں یا مختلف مجالس میں، اس کے بعد رجوع اور حلالہ کے بغیر نکاح کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اور  مذاہب اربعہ یعنی حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ  سب کے نزدیک راجح اور مفتی بہ یہی مذہب ہے، خود امام بخاری رحمہ اللہ اپنی کتاب صحیح البخاری میں تین طلاق کے تین ہونے پر روایات نقل کی ہیں، لہذا صورتِ مسئولہ میں شوہر نے اپنی بیوی کو تین مرتبہ  صاف لفظوں میں طلاق دی ہے، لہذااس کی بیوی  پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اورحرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب  ان دونوں کا اکٹھے رہنا ہرگز جائز نہیں۔ نیز تین طلاقوں کے بعد رجوع بھی نہیں ہو سکتا اور  موجودہ صورتِ حال میں دوبارہ نکاح بھی جائز نہیں،  البتہ اگر عورت عدت گزارنے کے بعدغیر مشروط طور پر  کسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ خاوند عورت سے ہمبستری بھی کرے، پھر وہ اپنی رضامندی سے عورت کو طلاق دیدےیا وہ وفات پا جائے تو اُس خاوند کی عدتِ طلاق یا عدتِ وفات گزارنے کے بعد فریقین باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، ورنہ جائز نہیں۔

باقی ایک مجلس کی تین طلاق کے تین ہونے پر دلائل اور فریقِ مخالف کے جوابات حاشيہ میں موجود لنک[1] پر تفصیلی فتوی میں ملاحظہ فرمائیں۔


[1] https://almuftionline.com/2024/09/04/14022/

حوالہ جات

القران الکریم : [البقرة: 230]:

{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ }

صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5261) دار طوق النجاة:

حدثني محمد بن بشار،حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال: حدثني القاسم بن محمد، عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول»

العناية شرح الهداية  (ج 4 / ص 180) الناشر: دار الفكر، بيروت:

فإن قيل : بين الناس اختلاف في أن من طلق امرأته ثلاثا هل يقع أو لا فينبغي أن يكون ذلك شبهة في إسقاط الحد .أجيب بأنه خلاف غير معتد به حتى لو قضى به القاضي لم ينفذ قضاؤه .

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 233) الناشر: دار الفكر-بيروت:

ذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث.

قال في الفتح بعد سوق الأحاديث الدالة عليه: وهذا يعارض ما تقدم، وأما إمضاء عمر الثلاث عليهم مع عدم مخالفة الصحابة له وعلمه بأنها كانت واحدة فلا يمكن إلا وقد اطلعوا في الزمان المتأخر على وجود ناسخ أو لعلمهم بانتهاء الحكم لذلك لعلمهم بإناطته بمعان علموا انتفاءها في الزمن المتأخر وقول بعض الحنابلة: توفي رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن مائة ألف عين رأته فهل صح لكم عنهم أو عن عشر عشر عشرهم القول بوقوع الثلاث باطل؟ أما أولا فإجماعهم ظاهر لأنه لم ينقل عن أحد منهم أنه خالف عمر حين أمضى الثلاث، ولا يلزم في نقل الحكم الإجماعي عن مائة ألف تسمية كل في مجلد كبير لحكم واحد على أنه إجماع سكوتي.

وأما ثانيا فالعبرة في نقل الإجماع نقل ما عن المجتهدين والمائة ألف لا يبلغ عدة المجتهدين الفقهاء منهم أكثر من عشرين كالخلفاء والعبادلة وزيد بن ثابت ومعاذ بن جبل وأنس وأبي هريرة، والباقون يرجعون إليهم ويستفتون منهم وقد ثبت النقل عن أكثرهم صريحا بإيقاع الثلاث ولم يظهر لهم مخالف - {فماذا بعد الحق إلا الضلال} [يونس: 32]- وعن هذا قلنا لو حكم حاكم بأنها واحدة لم ينفذ حكمه لأنه لا يسوغ الاجتهاد فيه فهو خلاف لا اختلاف.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

23/شوال المکرم1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب