03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گھر سے حاصل شدہ دس لاکھ روپے ورثہ میں تقسیم کا طریقہ کار
90054میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

گزارش ہے کہ میرے والدین کا انتقال ہوچکاہے،گھر والدہ کے نام تھا جو کہ پگڑی اور ٹرسٹ کاتھا،گھر10 لاکھ میں فروخت ہوچکا ہے،ہم چار بہنیں شادہ شدہ ہیں اور ہمارے دوبھائی تھے،بڑے بھائی شادی شدہ تھے،ان کا انتقال ہوچکا ہے،ان کے  چار بیٹےاور ایک بیٹی ہیں،بیوی کو طلاق دی تھی،ان کے انتقال کے وقت عدت گذر گئی تھی،چھوٹے بھائی جو غیر شادی شدہ تھے،ان کا بھی دومہینے پہلے  انتقال ہوچکا ہے،آپ ہماری راہنمائی کریں کہ بہنوں کا کتنا حصہ ہے ؟شادی شدہ بھائی اور غیر شادی شدہ بھائی کا کتنا حصہ ہے؟غیر شادی شدہ بھائی امی کے گھر میں رہتاتھا،اس کا کرایہ اور بجلی ،گیس کے بل وہ ادا کرتاتھا،اس کا کھانا پینا میرے ساتھ تھا،آپ ہمارے اس مسئلے کاحل بتائیں۔

 نوٹ:یہ مکان والد سے والدہ کو ملا تھا،والدہ کے نام تھا،اصل گھر پگڑی کا ہے،جو قیام پاکستان کے بعد ہی 50 ہزاردےکر لیاگیاتھا،اصل مالک کی جانب سے اس کی خرید وفروخت کی اجازت ہوتی ہے،رسید میں نئے مالک کا نام لکھ دیاجاتا ہے۔والدہ کے انتقال کے بعد مکان بیچا ہے اور دس لاکھ روپے ملے ہیں،صرف ان دس لاکھ روپے کی تقسیم چاہتے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اس مکان میں ابتداء سے  کرایہ کی بنیاد پر رہائش تھی،اب  مالک مکان کی اجازت سے، نئے مالک سے عوض لے کر  کرایہ داری کے حق سے دستبردار ہوگئے ہیں،لہذا یہ رقم تمام ورثہ میں تقسیم ہوگی،اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ والدہ کے انتقال کے بعد دس لاکھ روپے مکان فروخت کرنے سے ملے ہیں  ،والدہ کی وفات کے وقت دوبیٹے اور چار بیٹیاں تھیں ،ان میں یہ دس لاکھ روپے اس طرح تقسیم ہوں گےکہ اس رقم کے 8حصے بنائے جائیں گے، ہر بیٹے کو دو حصے اور بیٹی کو ایک حصہ ملے گا۔فیصدی حساب سے اس کی تقسیم اس طرح ہوگی۔

 

نمبر

وارث

عددی حصہ

فیصدی حصہ

رقم  دس لاکھ

1

بیٹا

2

25

250,000

2

بیٹا

2

25

250,000

3

بیٹی

1

12.5

125,000

4

بیٹی

1

12.5

125,000

5

بیٹی

1

12.5

125,000

6

بیٹی

1

12.5

125,000

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

شادی شدہ بیٹے کے انتقال کے بعد ان کو ملنے والی یہ رقم (ڈھائی لاکھ)ان کی اولاد ( چار بیٹے اور ایک بیٹی) میں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔ڈھائی لاکھ روپے میں سے ہر بیٹے کو55555.55روپےملیں گے،جبکہ بیٹی کو27777.77روپےملیں گے۔

نمبر

وارث

عددی حصہ

فیصدی حصہ

رقم ڈھائی لاکھ

1

بیٹا

2

22.2222

55,555.55

2

بیٹا

2

22.2222

55,555.55

3

بیٹا

2

22.2222

55,555.55

4

بیٹا

2

22.2222

55,555.55

5

بیٹی

1

11.1111

27,777.77

 

 

 

 

 

 

 

 

 

دوسرے بیٹے کے انتقال کے بعد اس کا حصہ اس طرح تقسیم ہوگا کہ بہنوں کو دو حصے ملیں گے،جبکہ بھتیجوں کو ایک حصہ ملے گا۔یعنی اس ڈھائی لاکھ روپے میں سے 166666.67 بہنوں کا حصہ ہوگا،ہر بہن کو 41666.67 روپے ملیں گے۔جبکہ بھتیجوں کاحصہ83333.33 ہوگا. ہربھتیجے کو 20833.33روپے ملیں گے۔ اس ڈھائی لاکھ میں بھتیجی کا حصہ نہیں ہے۔

نمبر

وارث

عددی حصہ

فیصدی حصہ

رقم ڈھائی لاکھ

1

بہن

2

16.6666

41,666.67

2

بہن

2

16.6666

41,666.67

3

بہن

2

16.6666

41,666.67

4

بہن

2

16.6666

41,666.67

5

بھتیجا

1

8.3333

20,833.33

6

بھتیجا

1

8.3333

20,833.33

7

بھتیجا

1

8.3333

20,833.33

8

بھتیجا

1

8.3333

20,833.33

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اوپر ہر ایک کا انفرادی حصہ بیان ہواہے،پھردوبھائیوں کے انتقال کے بعد ان کاحصہ ورثہ میں تقسیم کیا گیا تو مجموعی طور پر ان دس لاکھ روپوں میں سب کا حصہ  یوں بن گیا ہے۔

نمبرشمار

وارث

کل رقم(دس لاکھ)

1

بیٹی

166,666.67

2

بیٹی

166,666.67

3

بیٹی

166,666.67

4

بیٹی

166,666.67

5

بھتیجا

76,388.88

6

بھتیجا

76,388.88

7

بھتیجا

76,388.88

8

بھتیجا

76,388.88

9

بھتیجی

27,777.77

 

 

حوالہ جات

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

26/ شوال 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب