| 90054 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
گزارش ہے کہ میرے والدین کا انتقال ہوچکاہے،گھر والدہ کے نام تھا جو کہ پگڑی اور ٹرسٹ کاتھا،گھر10 لاکھ میں فروخت ہوچکا ہے،ہم چار بہنیں شادہ شدہ ہیں اور ہمارے دوبھائی تھے،بڑے بھائی شادی شدہ تھے،ان کا انتقال ہوچکا ہے،ان کے چار بیٹےاور ایک بیٹی ہیں،بیوی کو طلاق دی تھی،ان کے انتقال کے وقت عدت گذر گئی تھی،چھوٹے بھائی جو غیر شادی شدہ تھے،ان کا بھی دومہینے پہلے انتقال ہوچکا ہے،آپ ہماری راہنمائی کریں کہ بہنوں کا کتنا حصہ ہے ؟شادی شدہ بھائی اور غیر شادی شدہ بھائی کا کتنا حصہ ہے؟غیر شادی شدہ بھائی امی کے گھر میں رہتاتھا،اس کا کرایہ اور بجلی ،گیس کے بل وہ ادا کرتاتھا،اس کا کھانا پینا میرے ساتھ تھا،آپ ہمارے اس مسئلے کاحل بتائیں۔
نوٹ:یہ مکان والد سے والدہ کو ملا تھا،والدہ کے نام تھا،اصل گھر پگڑی کا ہے،جو قیام پاکستان کے بعد ہی 50 ہزاردےکر لیاگیاتھا،اصل مالک کی جانب سے اس کی خرید وفروخت کی اجازت ہوتی ہے،رسید میں نئے مالک کا نام لکھ دیاجاتا ہے۔والدہ کے انتقال کے بعد مکان بیچا ہے اور دس لاکھ روپے ملے ہیں،صرف ان دس لاکھ روپے کی تقسیم چاہتے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔اس مکان میں ابتداء سے کرایہ کی بنیاد پر رہائش تھی،اب مالک مکان کی اجازت سے، نئے مالک سے عوض لے کر کرایہ داری کے حق سے دستبردار ہوگئے ہیں،لہذا یہ رقم تمام ورثہ میں تقسیم ہوگی،اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ والدہ کے انتقال کے بعد دس لاکھ روپے مکان فروخت کرنے سے ملے ہیں ،والدہ کی وفات کے وقت دوبیٹے اور چار بیٹیاں تھیں ،ان میں یہ دس لاکھ روپے اس طرح تقسیم ہوں گےکہ اس رقم کے 8حصے بنائے جائیں گے، ہر بیٹے کو دو حصے اور بیٹی کو ایک حصہ ملے گا۔فیصدی حساب سے اس کی تقسیم اس طرح ہوگی۔
|
نمبر |
وارث |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
رقم دس لاکھ |
1 |
بیٹا |
2 |
25 |
250,000 |
2 |
بیٹا |
2 |
25 |
250,000 |
3 |
بیٹی |
1 |
12.5 |
125,000 |
4 |
بیٹی |
1 |
12.5 |
125,000 |
5 |
بیٹی |
1 |
12.5 |
125,000 |
6 |
بیٹی |
1 |
12.5 |
125,000 |
2۔شادی شدہ بیٹے کے انتقال کے بعد ان کو ملنے والی یہ رقم (ڈھائی لاکھ)ان کی اولاد ( چار بیٹے اور ایک بیٹی) میں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔ڈھائی لاکھ روپے میں سے ہر بیٹے کو55555.55روپےملیں گے،جبکہ بیٹی کو27777.77روپےملیں گے۔
|
نمبر |
وارث |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
رقم ڈھائی لاکھ |
1 |
بیٹا |
2 |
22.2222 |
55,555.55 |
2 |
بیٹا |
2 |
22.2222 |
55,555.55 |
3 |
بیٹا |
2 |
22.2222 |
55,555.55 |
4 |
بیٹا |
2 |
22.2222 |
55,555.55 |
5 |
بیٹی |
1 |
11.1111 |
27,777.77 |
3۔ دوسرے بیٹے کے انتقال کے بعد اس کا حصہ اس طرح تقسیم ہوگا کہ بہنوں کو دو حصے ملیں گے،جبکہ بھتیجوں کو ایک حصہ ملے گا۔یعنی اس ڈھائی لاکھ روپے میں سے 166666.67 بہنوں کا حصہ ہوگا،ہر بہن کو 41666.67 روپے ملیں گے۔جبکہ بھتیجوں کاحصہ83333.33 ہوگا. ہربھتیجے کو 20833.33روپے ملیں گے۔ اس ڈھائی لاکھ میں بھتیجی کا حصہ نہیں ہے۔
|
نمبر |
وارث |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
رقم ڈھائی لاکھ |
1 |
بہن |
2 |
16.6666 |
41,666.67 |
2 |
بہن |
2 |
16.6666 |
41,666.67 |
3 |
بہن |
2 |
16.6666 |
41,666.67 |
4 |
بہن |
2 |
16.6666 |
41,666.67 |
5 |
بھتیجا |
1 |
8.3333 |
20,833.33 |
6 |
بھتیجا |
1 |
8.3333 |
20,833.33 |
7 |
بھتیجا |
1 |
8.3333 |
20,833.33 |
8 |
بھتیجا |
1 |
8.3333 |
20,833.33 |
4۔اوپر ہر ایک کا انفرادی حصہ بیان ہواہے،پھردوبھائیوں کے انتقال کے بعد ان کاحصہ ورثہ میں تقسیم کیا گیا تو مجموعی طور پر ان دس لاکھ روپوں میں سب کا حصہ یوں بن گیا ہے۔
|
نمبرشمار |
وارث |
کل رقم(دس لاکھ) |
1 |
بیٹی |
166,666.67 |
2 |
بیٹی |
166,666.67 |
3 |
بیٹی |
166,666.67 |
4 |
بیٹی |
166,666.67 |
5 |
بھتیجا |
76,388.88 |
6 |
بھتیجا |
76,388.88 |
7 |
بھتیجا |
76,388.88 |
8 |
بھتیجا |
76,388.88 |
9 |
بھتیجی |
27,777.77 |
حوالہ جات
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
26/ شوال 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


