| 89018 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
ہمارے محلے میں ایک شخص ہے جو آنلائن فاریکس ٹریڈنگ میں سونے کے اتار چڑھاؤ پر ٹریڈنگ کرتا ہے جس میں نفع اور نقصان کی شرح برابر ہے جوکہ حقیقی وقت میں سونے کی قیمت پر ٹریڈ ہوتی ہے۔کیا ایسی تجارت حلال ہے یا حرام ؟ہمیں یہ معلوم ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی میں ٹریڈ کرنا حرام ہے ،کیونکہ ڈیجیٹل کرنسی کا کوئ وجود نہیں ہوتا، لیکن گولڈ یعنی سونے کا تو وجود ہےتو کیا گولڈ میں ٹریڈنگ کرنا حرام ہے یا حلال؟ اگر جواب ناجائز ہوا یعنی جواب میں لکھا ہوا ہو کہ ناجائز ہے تو ناجائز اور حرام میں فرق بھی واضح کردیں، آپ کو تو پتا ہے پھر لوگ کہتے ہیں، اسمگلنگ بھی تو ناجائز ہے، حرام تو نہیں ہے اور لوگ کررہے ہوتے ہیں۔
1۔آن لائن فاریکس ٹریڈنگ کا حکم کیا ہے ؟
2۔کرپٹو کرنسی کے لین دین کا حکم کیا ہے؟
3۔اسمگلنگ اور اس سے حاصل شدہ منافع کا حکم کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ن لائن فاریکس ٹریڈنگ کا حکم
آن لائن فاریکس ٹریڈنگ درج ذیل شرائط کےساتھ جائز ہے۔
- جائز چیز کی خریدو فروخت ہو۔
- لین دین حقیقی ہو ، صرف اکاؤنٹ میں ظاہر نہ کیا جاتا ہو۔
- چیز بیچنے والا اس کامالک ہواور بیچنے سے پہلے اس پر قبضہ بھی کیا ہو ۔
- عقد کی مجلس میں ہی مبیع (subject matter)پرحقیقتاً یا حکماً قبضہ کیا جائے۔
- کرنسی اور سونا چاندی کی خرید وفروخت میں بوقت عقد کسی ایک عوض پر لازمی قبضہ کیا جائے۔
- بیع فوری ہو ، فیوچر یا فارورڈسیل نہ ہو،اسی طرح آپشز(options)،لانگ یا شارٹ پوزیشن،مارجن ٹریڈنگ،شارٹ سیل اوربلینک سیل کی صورت نہ ہو۔
ہماری معلومات کےمطابق آن لائن فاریکس ٹریڈنگ کےموجودہ ماڈل میں ان شرائط کا عملاً خیال نہیں رکھا جاتا،buy اور sell وغیرہ کے الفاظ فقط رسمی طور پر لکھے ہوتے ہیں، حقیقتاً خرید و فروخت شرعی اصولوں کے مطابق نہیں کی جاتی،بلکہ صرف فرق برابر کیا جاتا ہے،اس لیےاس سے احتراز لازم ہےاور ایسی ٹریڈنگ کرناشرعاًناجائز ہے،نیزاس ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا نفع بھی حلال نہیں ہے۔
ضروری وضاحت: فاریکس،شیئرز اور مختلف کموڈٹیز میں آن لائن خرید وفروخت کے حوالے سے تفصیلی فتوی،دارالافتاء جامعۃ الرشید کی ویب سائٹ almuftionline.com پر بعنوان "آن لائن فاریکس ٹریڈنگ اور اسٹاک ایکسچینج میں رائج مختلف صورتوں کا حکم" یا فتوی نمبر 85615 سرچ کرکے ضرور ملاحظہ فرمائیں۔
کرپٹوکرنسی کے لین دین کاحکم
کرپٹو یا ورچوئل کرنسی کے حوالے سے دارالافتاء جامعۃ الرشید کی آفیشل ویب سائٹ (almuftionline.com) پر موجود فتاوی (فتوی نمبر 81020 بعنوان "بائنانس(Binance) اور کرپٹو ٹریڈنگ کا حکم"اورفتوی نمبر 84734 بعنوان "کرپٹو کی ٹریڈنگ کے ذریعے پیسے کمانے کا حکم) ملاحظہ ہو۔
اسمگلنگ اوراس سے حاصل شدہ آمدن کا حکم
خود اسمگلنگ کرنا یا اسمگل کیے گئے مال کا کاروبار کرنا، جائز حکومتی قانون کی خلاف ورزی ہے،نیز ماہرینِ معیشت کے مطابق اس طرح کرنے سے ملک کو معاشی نقصان پہنچنے کا قوی اندیشہ ہے،اس لیے اسمگلنگ کرنا یا اسمگل کیے گئے مال کا کاروبار کرنا ناجائز ہے۔
البتہ اس کی آمدن کا حکم یہ ہے کہ اگر جائز اموال کی تجارت،خرید وفروخت کے شرعی احکامات کے مطابق کی گئی ہو تو اس سے حاصل والا منافع حلال ہے۔
فتاوی عثمانی:ج۳،ص ۸۹واحسن الفتاوی:ج۸،ص۹۵)[تبویب بتغییر یسیر:78065]
ناجائز اور حرام ،شبہ کی وضاحت
شرعی فقہی اصطلاحات کے مطابق ناجائز کے مختلف درجات ہوتے ہیں،اور وہ ہرمعاملے سےمتعلق الگ الگ ہوسکتے ہیں،چنانچہ آسانی کے لیے یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہر ناجائز کام فقہی اصطلاح کے مطابق حرام بھی ہو، یہ ضروری نہیں بلکہ مکروہ تحریمی وغیرہ بھی ہوسکتا ہے،البتہ ہر حرام کام ناجائز بہرحال ہوگا۔
رہی یہ بات کہ ایک کام ناجائز ہو لیکن اس کی آمدن حلال ہو یہ کیسے ہوسکتا ہے؟تو اس حوالے سے اتنی بات یاد رکھیں کہ شریعت ہر معاملے میں اس کے متعلقہ تمام پہلوؤں کی رعایت رکھتے ہوئے حکم بیان کرتی ہے،لہٰذا یہ ضروری نہیں کہ ہر وہ کام جو ناجائز ہو تو اس کی آمدن بھی حرام ہو اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر وہ کام جو ناجائز ہو تو اس کام کا کرنا تو ناجائز ہو لیکن اس کی آمدن حلال ہو،ایسا نہیں ہے۔بلکہ ہر معاملے سے متعلق اس کی اپنی خصوصیات کے مطابق شرعی حکم ہوگا۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 505)
وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 561)
ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل. وشرط في الأجناس شرطا ثالثا وهو أن يقول: خليت بينك وبين المبيع فلو لم يقله أو كان بعيدا لم يصر قابضا والناس عنه غافلون، فإنهم يشترون قرية ويقرون بالتسليم والقبض، وهو لا يصح به القبض على الصحيح وكذا الهبة والصدقة.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 172)
مطلب تجب طاعة الإمام فيما ليس بمعصية
قال في الظهيرية: وهو تأويل ما روي عن أبي يوسف ومحمد فإنهما فعلا ذلك لأن هارون أمرهما أن يكبرا بتكبير جده ففعلا ذلك امتثالا له لا مذهبا واعتقادا قال في المعراج لأن طاعة الإمام فيما ليس بمعصية واجبة اهـ
الفقه الإسلامي وأدلته لوهبة الرحيلي (3/ 395)
أحد عشر ـ التصدق من المال الحرام :
قال الحنفية (3) : إذا تصدق بالمال الحرام القطعي، أو بنى من الحرام بعينه مسجداً ونحوه مما يرجو به التقرب، مع رجاء الثواب الناشئ عن استحلاله، كفر؛ لأن استحلال المعصية كفر، والحرام لا ثواب فيه. ولا يكفر إذا أخذ ظلماً من إنسان مئة، ومن آخر مئة، وخلطهما، ثم تصدق به؛ لأنه ليس بحرام بعينه قطعاً لاستهلاكه بالخلط، ولأنه ملكه بالخلط ، ثم يضمنه. والخلاصة: أن شرط الكفر شيئان: قطعية الدليل، وكونه حراماً لعينه مثل لحم الميتة، أما مال الغير فهو حرام لغيره، لا لعينه، فلا يكون أخذه عند الحنفية حراماً محضاً، وإن كان لا يباح الانتفاع به قبل أداء البدل.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
19.جمادی الاولیٰ1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


