| 89111 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
میں نے امریکا کی اسٹیٹ یوتھا(Utah) کی عدالت سے طلاق (divorce) لی ہے۔ رشتہ ختم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ(شوہر) کبھی اپنی ذمہ داریوں کو نبھانا نہیں چاہتا تھا۔ اگر میں کسی کام سے عاجز آ جاتی تو وہ ہمیشہ چاہتا تھا کہ میرے والدین یا بہن بھائی ہر چیز کی ذمہ داری اٹھائیں۔وہ مجھےکمزور سمجھ کر مجھ پر چیزیں پھینکتا، چیختا چلاتا اور میرے قریب آ کر مجھے خوفزدہ کرتا تھا۔وہ مجھے نماز پڑھنے سے بھی روکتا تھا، یہ کہہ کر کہ میں جنت میں نہیں جاؤں گی۔اس کے متعدد ناجائز تعلقات بھی رہے ہیں۔وہ بچوں پر جسمانی تشدد کرتا تھا اور میرے بیٹے سے کہتا تھا کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے۔وہ مجھے اور بچوں کو میری فیملی سے دور رکھنے کی کوشش کرتا تھا، لیکن اسی کے ساتھ وہ چاہتا تھا کہ میرا ہی خاندان ہماری تمام ضروریات پوری کرے۔یہ تمام وجوہات میرے دور جانے کا سبب بنیں۔گھر کے ماہانہ اخراجات،بچوں کےاخراجات وغیرہ سب مجھے خود اٹھانے پڑتے تھے،میری کزنوں کی شادیاں اس کے خاندان میں نہ کرنےکی وجہ سے اس کا برتاؤ مجھ سے مسلسل خراب ہوتا جارہا تھا۔کیا اس طرح کے حالات میں(غیر مسلم ملک کے غیر مسلم جج کے عدالتی فیصلے کے تحت) عدالت سے لی جانے والی طلاق واقع ہوجائے گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ طلاق کا اختیار شریعت نے شوہر کو دیا ہے، صرف شوہر ہی اپنا اختیار استعمال کرکے طلاق دے سکتا ہے۔البتہ خلع میاں بیوی کی باہمی رضامندی کا معاملہ ہے، جس کا طریقۂ کار یہ ہے کہ بیوی شوہر سے مہر یا کسی مال کے عوض خلع دینے کا مطالبہ کرتی ہے اور شوہر جواب میں مہر یا مال کے عوض خلع دے دیتا ہے، جس سے بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوجاتی ہے، لہذا جب خلع یا طلاق دینے کا اختیار شوہر کو ہے، کسی ادارے کو نہیں، تو مسلم یا غیر مسلم ممالک میں اس کا طریقۂ کار ایک جیسا ہی ہوگا۔جب شوہر اپنی آزاد مرضی سے، بغیر کسی جبر و اکراہ کے، بیوی کو طلاق یا خلع دے گا تو طلاق یا خلع واقع ہوجائے گی۔
البتہ عدالت کے ذریعے سے فسخِ نکاح ایک قانونی معاملہ ہے، اور چند مخصوص صورتوں (مثلاً: شوہر کا نامرد ہونا، شوہر کا مفقود ہونا، شوہر کا غائب ہونا، شوہر کا متعنت ہونا (یعنی نان نفقہ نہ دینا وغیرہ)، یا شوہر کا مجنون ہونا) میں مسلمان قاضی کو اختیار ہے کہ وہ بیوی کے مطالبے پر مخصوص شرائط اور طریقۂ کار کے مطابق میاں بیوی کے درمیان نکاح فسخ کردے۔ اگر کسی غیر مسلم ملک میں مسلمان قاضی موجود نہ ہو تو مسلمانوں کی ایک جماعت (کم از کم تین افراد) شرائط کا خیال رکھتے ہوئے نکاح فسخ کرسکتی ہے،چونکہ شریعت کے احکامات کاصحیح،مستند اورگہرا علم عام طور پر عام افراد کو نہیں ہوتا،لہٰذا مسلمانوں کی جماعت میں کم از کم ایک عالم دین کا ہونا ضروری ہے۔ غیر مسلم قاضی یا کسی بھی غیر مسلم حکومت یا عہدے دار کا فسخِ نکاح کے معاملے میں فیصلہ شرعاً معتبر نہیں ہے،لہٰذا آپ مقامی طور پر وہاں کے علماء سے رابطہ کرکےاپنی مکمل صورتحال سامنے رکھ کر،نیز یہ فتویٰ ان کو دکھا کر،اپنے متعلق فیصلہ کروالیں،فی الحال منسلکہ طلاق نامہ کی بنیاد پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔(تبویب: 85326)
حوالہ جات
المعجم الكبير الطبراني (12/ 172)
عن عصمة قال جاء مملوك الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ان مولاي زوجني وهو يريد أن يفرق بيني وبين امرأتي قال فصعد رسول الله صلى الله عليه وسلم المنبر فقال يا أيهاالناس إنما الطلاق بيد من أخذ أخذ الساق.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 230)
(قوله وأهله زوج عاقل إلخ) احترز بالزوج عن سيد العبد ووالده الصغير، وبالعاقل ولو حكما عن المجنون والمعتوه والمدهوش والمبرسم والمغمى عليه، بخلاف السكران مضطرا أو مكرها، وبالبالغ عن الصبي ولو مراهقا، وبالمستيقظ عن النائم. وأفاد أنه لا يشترط كونه مسلما صحيحا طائعا عامدا فيقع طلاق العبد والسكران بسبب محظور والكافر والمريض والمكره والهازل والمخطئ كما سيأتي.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 441)
وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه(الخلع) عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.
الحيلۃ الناجزۃ (ص 171)
أما الحكام أو القضاة الذين يمتلكون سلطة اتخاذ القرارات في مثل هذه القضايا بتعيين من الحكومة، فإذا كانوا مسلمين وقرروا وفق القواعد الشرعية، فإن حكمهم يعادل قضاء القاضي. أما إذا كانوا غير مسلمين، فإن قرارهم يعتبر لاغياً، وحتى لو كانت لجنة من عدة قضاة أو أعضاء تصدر الحكم، فيشترط أن يكون جميع الأعضاء مسلمين، فإذا كان من بينهم قاضٍ أو عضو غير مسلم، :فإن الحكم غير معتبر شرعاً.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
26.جمادی الاولی1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


