| 88934 | متفرق مسائل | متفرق مسائل |
سوال
- اگر کسی سے گمان میں اس چیز کا انکار ہو جائے کہ اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) سے بڑھ کر ہمارے لیے کوئی اور محبت ہے، تو کیا پھر وہ انسان دین میں ہے یا نہیں؟
- اگر اس سے گمان ہی گمان میں شرک سرزد ہوگیا ہو، یا کوئی نابالغی کے وقت کا ایسا گناہ ہو جو اس سے تب ہوا جب اسے دینِ اسلام کا اتنا علم نہیں تھا، اور اب اس نے موبائل پر ویڈیوز وغیرہ دیکھتے ہوئے آخرت سے یا اللہ کے سامنے جانے سے گمان ہی گمان میں انکار کر دیا ہو (تو اس کا کیا حکم ہے)؟
- اگر اس نے تہجد کے وقت کوئی ایسی دعا مانگی ہو جس سے اسے خدشہ ہو کہ یہ دعا مانگنے سے میں دین سے ہٹ سکتا ہوں، تو پھر ایسے معاملات میں کیا کرنا چاہیے؟
- اگر کوئی شخص بار بار گناہ کرتا ہے، یعنی ایک بار دین پر آتا ہے اور پھر (گناہ کی طرف) پلٹ جاتا ہے، پھر دین پر آتا ہے اور پھر پلٹ جاتا ہے، اور ایسا کئی بار ہو چکا ہو، تو ایسے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ وہ انسان دینِ اسلام پر ہے یا نہیں؟
- اگر ایک لڑکے اور لڑکی سے زنا جیسا گناہ ہو گیا ہو اور وہ اب نکاح کرنا چاہتے ہوں تو وہ کیسے کر سکتے ہیں؟ اس کے لیے کیا شرائط ہوں گی اور وہ نکاح کیسے انجام دے سکتے ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(1،2) کسی چیز کے بارے میں محض گمان سے شریعت کا کوئی حکم متوجہ نہیں ہوتا،جب تک کہ قول یا فعل کے ذریعے اسے حقیقت میں سرانجام نہ دیا جائے،لہٰذا سوال نمبر ایک اور دو میں ذکر کردہ باتوں کے فقط گمان سے، انسان دین سے نہیں نکلتا، وہ مسلمان ہی رہتا ہے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ سائل/سائلہ وہم کی بیماری کا شکار ہیں،اس کا بہت آسان علاج ہے اور وہ یہ ہے کہ کثرت سے اللہ کا ذکر کیا جائے نیز کسی اللہ والے متبع سنت بزرگ کی مجلس میں پابندی سے حاضری کی کوشش کی جائے تو ان شاء اللہ ضرور فائدہ ہوگا۔
(3) چونکہ اس دعاء کی تفصیل سؤال میں مذکور نہیں اس لیے اس کا حتمی جواب نہیں دیا جاسکتا ، البتہ گذشتہ دو سولاات کے مطابق یہ بھی بظاہر گمان اور وسوسہ کی قبیل سے معلوم ہوتا ہے،اگر ایسا ہی ہے تو گذشتہ سوال کے جواب کے مطابق عمل کیا جائے۔
(4)فقط گناہ سرزد ہوجانے سے انسان دین اسلام سے نہیں نکلتا،نیزاللہ تعالی کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے،کیونکہ اللہ تعالی فرماتےہیں کہ"آپ کہہ دیجیے کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں کہ تم اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو، بالیقین اللہ تعالیٰ تمام (گزشتہ) گناہوں کو معاف فرمائے گا، واقعی وہ بڑا بخشنے والا، بڑی رحمت کرنے والا ہے۔ (زمر:53) "
لہٰذا ایسے شخص کو چاہیے کہ اس گناہ سے سچے دل سے توبہ کرے، توبہ کا طریقہ یہ ہے کہ:
- اس گناہ کو فورًا چھوڑدیں، اس سے الگ ہوجائیں۔
- اللہ تعالیٰ کے حضور ندامت اور شرمندگی کے ساتھ اس گناہ کی معافی مانگیں۔
- آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم کریں۔
جب بھی گناہ کا خیال دل میں آئے تو یہ تصور کریں کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے، اور وہ مجھے عذاب دینے اور دنیا و آخرت میں سزا دینے پر قادر ہے، اگر خدانخواستہ گناہ ہوگیا تو دنیا میں بھی رسوائی ہوگی اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور تمام مخلوق کے سامنے بھی رسوائی ہوگی۔
نیزنمازوں کے اہتمام کے ساتھ ساتھ کثرت سے دعاؤں کا اہتمام کرے۔ توبہ کرنے کے بعد اگر دوبارہ گناہ سرزد ہوگیا ہو تو اوپر درج طریقہ کے مطابق دوبارہ توبہ کرلے ،یعنی ندامت و پشیمانی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے توبہ کرے، اور ہر مرتبہ توبہ کرتے وقت سچی ندامت ہو اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم ہو تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ وہ گناہوں کو معاف فرمائیں گے، اور آہستہ آہستہ گناہ چھوٹ جائیں گے۔
یاد رہے دینِ اسلام میں مایوسی بالکل نہیں ہے، انسان خطا کا پتلا ہے اور خطا انسان کی فطرت میں داخل ہے،یہی وجہ ہے کہ اس شخص کو بہترین قرار دیا گیا ،جس سے گناہ سر زد ہوجائے تو وہ اس پر قائم نہ رہے، بلکہ فورًا توبہ کرکے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لے،لہٰذا گناہوں کو چھوڑنے کے پختہ عزم کے باوجود اگر گناہ سرزد ہوجائیں تومایوس نہ ہو اور اللہ تعالیٰ سے بار بار معافی اور توبہ جاری رکھے تو امید ہے کہ ان شاء اللہ گناہ جلدچھوٹ جائیں گے۔
(5)یاد رہے زنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے ،لہٰذا زانی اور مزنیہ یعنی لڑکا لڑکی دونوں پر ندامت اور سچے دل کے ساتھ اس گناہ سے توبہ و استغفار لازم ہے۔رہی بات نکاح کی تو یہ دونوں شرعی گواہوں کی موجودگی میں مہر مقرر کرکے آپس میں نکاح کرسکتے ہیں،بشرطیکہ لڑکی کسی اور کے نکاح میں نہ ہو اور مطلقہ ہونے کی صورت میں اس کی عدت گزر چکی ہو۔
حوالہ جات
الجامع الصحيح سنن الترمذي (3/ 204)
عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم تجاوز الله لأمتي ما حدثت به أنفسها ما لم تكلم به أو تعمل به قال أبو عيسى هذا حديث حسن صحيح والعمل على هذا عند أهل العلم أن الرجل إذا حدث نفسه بالطلاق لم يكن شيء حتى يتكلم به.
صحيح البخاري ـ م م (7/ 46)
عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال إن الله تجاوز عن أمتي ما حدثت به أنفسها ما لم تعمل أو تتكلم.
صحيح مسلم (1/ 85)
عن ابى هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الله تجاوز لامتي ما حدثت به انفسها ما لم يتكلموا أويعملوا به.
الموسوعة الفقهية الكويتية (43/ 146)
الوسوسة والوسواس لغة : الصوت الخفي من ريح ونحوه .والوسوسة والوسواس - بالكسر - حديث النفس .والوسوسة في الاصطلاح يستعملها الفقهاء بمعان :
الأول : الوسوسة : بمعنى حديث النفس ، وهو ما يقع فيها من التردد هل يفعل أو لا يفعل .الثاني : الوسوسة بمعنى ما يلقيه الشيطان في روع الإنسان .الثالث : الوسوسة وهي ما يقع في النفس مما ينشأ من المبالغة في الاحتياط والتورع حتى إنه ليفعل الشيء ، ثم تغلبه نفسه فيعتقد أنه لم يفعله فيعيده مرارا وتكرارا ، وقد يصل إلى حد أن يكون الشخص مغلوبا على عقله.الرابع : الموسوس هو المصاب في عقله إذا تكلم بغير نظام .
وحكم هذا النوع وما كان أضعف منه أنه مرفوع عن هذه الأمة ، فلا إثم فيه إن لم يقترن به عمل أو قول ، كمن حدث نفسه أن يسرق أو يخون .
يكون دفع الوسوسة بذكر الله تعالى ، كما قال تعالى : { إن الذين اتقوا إذا مسهم طائف من الشيطان تذكروا فإذا هم مبصرون } .
قال ابن كثير في تفسير قوله تعالى : { تذكروا } أي عقاب الله وجزيل ثوابه ووعده ووعيده فتابوا وأنابوا واستعاذوا بالله ورجعوا إليه من قريب .
(القرآن الکریم،زمر:53)
قلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَاتَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ‘‘ [
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 79)
وفي «مجموع النوازل» : إذا تزوج امرأة قد زنى هو بها وظهر بها، حبل فالنكاح جائز عندالكل، وله أن يطأها عند الكل، ويستحق النفقة عند الكل.
الفتاوى الهندية (1/ 280)
وفي مجموع النوازل إذا تزوج امرأة قد زنى هو بها وظهر بها حبل فالنكاح جائز عند الكل وله أن يطأها عند الكل وتستحق النفقة عند الكل، كذا في الذخيرة.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 516)
أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا، فعلى هذا يفرق بين فاسده وباطله في العدة، ولهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة لكونها زنا كما في القنية وغيرها. اهـ.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
14.جمادی الاولیٰ1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


