| 88534 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
میرے والد محترم حاجی عید محمد نے سن 2019 میں ایک زمین مجھے یعنی عبدالغفار اور میرے بھائی عبدالوہاب کو بطور ہبہ/تحفہ دی۔ہم دونوں نے یہ تحفہ والد صاحب کی زندگی میں باقاعدہ قبول کیا اور اسی دوران اس زمین پر لاکھوں روپے کی تعمیرات بھی کیں۔اب والد صاحب وفات پا چکے ہیں۔میرے والد نے دو شادیاں کی تھیں۔پہلی بیوی یعنی میری والدہ، جن سے 6 بیٹے اور 2 بیٹیاں ہیں۔دوسری بیوی (سوتیلی ماں) جن سے 2 بیٹے ہیں۔اب سوتیلی ماں اور اس کے دونوں بیٹے اس زمین کے بارے میں، جو والد صاحب نے 2019 میں ہمیں ہبہ کی تھی، ہمارے خلاف دعویٰ کر رہے ہیں۔براہ کرم شرعی نقطۂ نظر سے فتویٰ عنایت فرما کر ہمیں مطمئن کریں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
زندگی میں جائداد وغیرہ کی تقسیم ہبہ یعنی گفٹ کہلاتی ہے۔ہبہ یعنی گفٹ کا حکم یہ ہے کہ ہبہ کرتے ہوئےاولاد میں برابری کی جائے یعنی بیٹے اور بیٹیوں، سب کو برابر حصہ دیا جائے،نیزہبہ کرتے ہوئے یہ بھی ضروری ہے کہ واہب یعنی ہبہ کرنے والاموہوب لہ(یعنی جس کو ہبہ کیا گیا ہے) کا مالکانہ تصرف کے اختیار کے ساتھ ہبہ کی جانے والی چیز پر مکمل قبضہ کروائے تاکہ ہبہ یعنی گفٹ کی تکمیل شرعی طریقے سے ہوجائے۔ زندگی میں جائداد وغیرہ تقسیم کرنےکے شرعی طریقےکی تفصیل درج ذیل ہے۔
۱۔اولاد میں برابر حصہ تقسیم کرےاور ہر ایک کو اس کےحصے کا مالک بنا کر باقاعدہ تقسیم کرکے قبضہ کروائے ۔
۲۔اگر اولاد میں برابر حصہ تقسیم نہیں کیا اور برابر حصہ تقسیم نہ کرنے کی وجہ، کسی کو نقصان پہنچانا ہے تویہ عمل مکروہ تحریمی ہے ،اگر نقصان پہنچانا مقصود نہیں اور کوئی وجہ ترجیح بھی نہیں تو یہ عمل مکروہ تنزیہی ہے ،اس لیے کہ بہرحال اولاد میں سے ہر ایک کو خواہ وہ بیٹا ہو یا بیٹی برابرہبہ( گفٹ) کرنا یہ مستحب ہے۔
۳۔ اولاد کو ہبہ کرتے ہوئے کسی معقول وجہ سے کمی بیشی کی جاسکتی ہے،مثلاً دینداری، امور دینیہ میں مشغول ہونا،خدمت یا زیادہ محتاج ہونا وغیرہ اور اس طرح کی وجوہات کی وجہ سے کمی بیشی کرنا مستحب ہے۔
۴۔اگر میراث کے مطابق بیٹوں کو بیٹیوں سے دگنا حصہ دےتو اس کی بھی گنجائش ہے۔
۵۔اگر جائداد مشترکہ طور پر ہبہ کرنے کا ارادہ ہو اور جائداد قابل تقسیم ہوتو باقاعدہ تقسیم کرکے مالک بنا کر قبضہ کروائے تاکہ ہبہ کی تکمیل شرعاً بھی ہوجائے، البتہ اگر جائداد قابل تقسیم ہواورواہب(گفٹ کرنے والا)موہوب لہ(جن کو گفٹ کیا گیا ہے) میں سے کسی ایک کو اس کی تقسیم کا باقاعدہ وکیل بنادےتو اس طرح اُس وکیل کو تخلیہ (vacant possession) کرادینے سےبھی ہبہ تام ہوجائے گا،اوراگر جائداد وغیرہ ایسی ہوں کہ ناقابل تقسیم ہوں یعنی تقسیم کرکے ان سے نفع اٹھانا ممکن نہ ہو تو ایسی جائداد وغیرہ کو مشترکہ طور پر ہبہ کرنا شرعاً درست ہے،بشرطیکہ قبضہ بھی کروادیا ہو۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اور منسلک اقرار نامہ کے مطابق چونکہ آپ کے والد صاحب نے مذکورہ زمین بطور ہبہ(Gift)آپ دو بھائیوں کو مالک بنا کر قبضہ میں اپنی زندگی میں دے دی تھی ،لہٰذا مذکورہ زمین صرف آپ دو بھائیوں کی ملکیت شمار ہوگی،اور آپ کے والد کے دیگر ورثاء بشمول آپ کی سوتیلی والدہ اور ان کے دو بیٹوں کو ،مذکورہ زمین سے متعلق بطور وراثت کسی قسم کے مطالبے کا حق نہیں ہوگا۔
البتہ شریعت میں رشتہ داروں کے حقوق کا خیال رکھنے اور اپنی استطاعت کے مطابق ان کی ضروریات پوری کرنے کی بہت تاکید کی گئی ہے،چونکہ آپ کی سوتیلی ماں اور ان کی اولاد کا رشتہ بہرحال آپ سے بہت قریبی ہے،لہٰذا آپ ان کے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ کرتے ہوئے اپنی استظاعت کے مطابق ان کا بھرپور خیال رکھیں۔
حوالہ جات
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (7/ 288)
يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله الواحد جاز قضاء وهو آثم كذا في المحيط وفي فتاوى قاضي خان رجل أمر شريكه بأن يدفع إلى ولده مالا فامتنع الشريك عن الأداء كان للابن أن يخاصمه إن لم يكن على وجه الهبة وإن كان على وجهها لا لأنه في الأول وكيل عن الأب وفي الثاني لا وهي غير تامة لعدم الملك لعدم القبض وفي الخلاصة المختار التسوية بين الذكر والأنثى في الهبة ولو كان ولده فاسقا فأراد أن يصرف ماله إلى وجوه الخير ويحرمه عن الميراث هذا خير من تركه لأن فيه إعانة على المعصية ولو كان ولده فاسقا لا يعطي له أكثر من قوته.
عيون المسائل للسمرقندي الحنفي (ص: 350)
التسوية في الهبة بين الابن والابنة
1733. رجل له ابن وابنة فأراد أن يهب لهما شيئاً فالأفضل أن يسوي بينهما في قول أبي يوسف، وقَالَ مُحَمَّدٌ: يجعل للذكر مثل حظ الانثيين. فإن وهب ماله كله للابن؟ قَالَ: هو آثم وأجيزه في القضاء.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 696)
وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 690)
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 445)
لو أراد أن يبر أولاده فالأفضل عند محمد أن يجعل للذكر مثل حظ الأنثيين، وعند أبي يوسف يجعلهما سواء وهو المختار.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 119)
(ومنها) أن يكون محوزا فلا تجوز هبة المشاع فيما يقسم وتجوز فيما لا يقسم كالعبد والحمام والدن ونحوها وهذا عندنا.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 692)
(قوله: فإن قسمه) أي الواهب بنفسه، أو نائبه، أو أمر الموهوب له بأن يقسم مع شريكه كل ذلك تتم به الهبة كما هو ظاهر لمن عنده أدنى فقه تأمل، رملي والتخلية: في الهبة الصحيحة قبض لا في الفاسدة جامع الفصولين.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 690)
(و) تصح الھبۃ (بقبض …).
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 563)
قال - رحمه الله - (وعصبهما الابن وله مثل حظهما) معناه إذا اختلط البنون والبنات عصب البنات فيكون للابن مثل حظهما فصار للبنات ثلاثة أحوال النصف للواحدة والثلثان للاثنين فصاعدا والتعصيب عند الاختلاط بالذكور.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 411)
(وصلة الرحم واجبة ولو) كانت (بسلام وتحية وهدية) ومعاونة ومجالسة ومكالمة وتلطف وإحسان ويزورهم غبا ليزيد حبا بل يزور أقرباءه كل جمعة أو شهر ولا يرد حاجتهم لأنه من القطيعة في الحديث «إن الله يصل من وصل رحمه ويقطع من قطعها» وفي الحديث «صلة الرحم تزيد في العمر».
حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 411)
(قوله وصلة الرحم واجبة) نقل القرطبي في تفسيره اتفاق الأمة على وجوب صلتها وحرمة قطعها للأدلة القطعية من الكتاب والسنة على ذلك قال في تبيين المحارم: واختلفوا في الرحم التي يجب صلتها قال قوم: هي قرابة كل ذي رحم محرم وقال آخرون. كل قريب محرما كان أو غيره اهـ والثاني ظاهر إطلاق المتن قال النووي في شرح مسلم: وهو الصواب واستدل عليه بالأحاديث. نعم تتفاوت درجاتها ففي الوالدين أشد من المحارم، وفيهم أشد من بقية الأرحام وفي الأحاديث إشارة إلى ذلك كما بينه في تبيين المحارم…..
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (2/ 290)
وجه الرواية الأخرى: أن في الإخراج إلى ذوي قرابته مراعاة حق القرابة، وفي عدم الإخراج مراعاة حق الجوار، ولا شك أن مراعاة حق القربة أولى…
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
09.ربیع الاول 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


