03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بہن کا اپنے بھائی کو زمین تحفہ میں دے کر واپسی کا مطالبہ کرنے کا حکم
90124ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ واپس کرنے کابیان

سوال

میرے والد صاحب کی دو پھپھو ہیں، جنہوں نے آج سے تقریباً 15-16 سال قبل اپنے حصے کی کچھ زمین میرے والد صاحب کے نام بغیر کسی شرط کے منتقل کر دی تھی۔ اس انتقالِ اراضی کے وقت ایسی کوئی بات یا معاہدہ نہیں ہوا تھا کہ یہ زمین بعد میں واپس لی جائے گی، بلکہ انہوں نے اپنی خوشی سے یہ زمین والد صاحب کے نام لگوائی تھی۔ اس کے بعد میرے والد صاحب کے چچا نے اس زمین پر والد صاحب کے خلاف عدالت میں کیس کر دیا، جو تقریباً 10 سے 12 سال تک چلتا رہا۔ اس طویل مدت کے دوران میرے والد صاحب کو شدید مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا اور زمین پر اس کی اس وقت کی قیمت سے بھی کہیں زیادہ قانونی اخراجات آئے۔ اس تمام عرصے میں پھپھو نے میرے والد صاحب کا بھرپور ساتھ دیا، مگر اب جبکہ کیس کا فیصلہ ہو چکا ہے، وہ میرے والد کے چچا کے ساتھ مل گئی ہیں اور ہم پر دباؤ ڈال رہی ہیں کہ وہ زمین انہیں واپس کی جائے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کی رو سے اس کا کیا شرعی حکم ہے؟ کیا ہمیں انہیں زمین کی موجودہ مارکیٹ قیمت ادا کرنی چاہیے یا وہ قیمت جو 15 سال پہلے تھی، یا پھر شرعی طور پر ہمیں کوئی رقم ادا کرنی بنتی ہی نہیں ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ہبہ کردہ چیز کو قاضی کے فیصلے سے  واپس کیا جاسکتا ہے تاہم بہن کے بھائی کو دیے ہوئے ہبہ کو واپس لینا  درست نہیں ۔ لہذاصورت مسئولہ میں اگر آپ کے والد کو آپ کی پھوپھیوں  نے  اپنی  مملوکہ زمین خوشی اور رضامندی سے نام کرکے قبضہ  اور تصرف کا حق بھی دے دیا تھا ، تو یہ ہبہ تام ہے  ایسی صورت میں آپ کی پھوپھیوں  کے لیے ہبہ سے رجوع کرناجائز نہیں ، یہ زمین آپ کے والد کی ملکیت ہے  ۔

البتہ اگر پھوپھیوں نے وہ حصہ رضا مندی سے نہیں دیا تھا، یا زمین ان کی مملوکہ نہیں تھی یا قبضہ و تصرف کا حق  نہیں دیا تھا تو شرعاً  یہ ہبہ تام نہیں ہوا تھا اور ان کا حصہ ختم نہیں ہوا تھا  ، لہذا  ان کا اپنی زمین کا مطالبہ کرنا درست ہوگا  وہ اپنی زمین واپس لینے کا حق رکھتی ہیں ۔

مذکورہ دونوں صورتوں میں سے جو بھی حقیقت کے مطابق ہو اسی کے مطابق عمل کیا جائے گا۔

حوالہ جات

صحيح البخاري (3/ 483):

حدثنا عبد الرحمن بن المبارك، حدثنا عبد الوارث، حدثنا أيوب، عن عكرمة، عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: "‌ليس ‌لنا ‌مثل ‌السوء، الذي يعود في هبته كالكلب يرجع في قيئه".

تكملة فتح القدير نتائج الأفكار في كشف الرموز والأسرار (9/ 44):

وإن وهب هبة لذي رحم محرم منه فلا رجوع فيها) لقوله عليه الصلاة والسلام «إذا كانت الهبة لذي رحم محرم منه لم يرجع فيها»؛ ولأن المقصود فيها صلة الرحم وقد حصل (وكذلك ما وهب أحد الزوجين للآخر)؛ لأن المقصود فيها الصلة كما في القرابة..

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص561):

وتتم) ‌الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والاصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلا لا، فلو وهب جرابا فيه طعام الواهب أو دارا فيها متاعه أو دابة عليها سرجه وسلمها كذلك لا تصح، وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والشرج فقط، لان كلا منها شغل الملك لواهب لا مشغول به،لان شغله بغير ملك واهبه لا يمنع، وتمامها كرهن وصدقة، لان القبض شرط تمامها.وتمامه في العمادية.

عادل ارشاد

 دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۳/ذی قعدہ /۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عادل ولد ارشاد علی

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب