| 90104 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت یہ معلوم کرنا تھا کہ ایک یہ معاہدہ طے پا رہا ہے اس میں کوئی غیر شرعی شق تو نہیں ہے اور اگر اس میں کسی قسم کی بہتری لائی جا سکتی ہے تو مشورہ درکار ہے۔
( معاہده ما بین فریقین)
( فریق اول)نور .............. شناختی کارڈ نمبر (................)
(فریق دوئم)مبشر...............شناختی کارڈ نمبر..................) ساکن نیو آباد ............۔
یہ معاہده ما بین فریقین باہمی رضامندی سے بلا جبر وا کراہ غیرے شراکت نامہ مندرجہ ذیل شرائط کے تحت مورخہ 2026-4-23 کوطے پایا ہے۔
1.یہ کہ فریق اول الحمد ہوٹل کے نام سے ایک ہوٹل چلا رہا ہے اور ڈسٹری بیوشن کا کام بھی کرتا ہے۔
2. فریق دوئم ، فریق اول کے ان مندرجہ بالا کار و باروں کے اندر بطور شراکت داری مبلغ پانچ لاکھ 500000 فریق اول کو مورخہ 01/ مئی 2026 کو دے رہا ہے۔
3.فریق اول ہر ماہ کی 15 سے 20 تاریخ کو حلال اور جائز منافع جس کی اوسطاشر ح 2500 سے 3500 روپے فی لاکھ کے حساب سے حاصل ہونے والے منافع کی ہے فریق اول، فریق دوئم کو ادا کرنے کا پابند ہو گا۔
4.یہ شراکت داری نفع اور نقصان کی بنیاد پرہے لہذا فریق دوئم جس شرح کے ساتھ نفع کا حقدار ہے اسی طرح نقصان کی صورت میں اس شرح کیسا تھ نقصان کا بھی ذمہ دار ہے۔
5.فریق اول اس بات کو یقینی بنائے گا کہ فریق دوئم کی شراکت داری کے لیے دی گئی رقم کو کسی تیسرے کاروبار میں نہیں لگائے گا۔
6.فریق اول اس بات کا پابند ہو گا کہ مطالبہ کرنے پر فریق دوئم کو ساری رقم یکمشت ادا کرے گا۔
7. فریق دوئم مطالبہ کرنے سے ایک ماہ پہلے فریق اول کو آگاہ کرے گا۔
لہذا شراکت نامہ مابین فریقین روبرو گواہان باہمی رضامندی ایمانداری سے بقائمی ہوش وحواس بلاجبر واکراہ ،بدرستگی عقل وثبات لکھنے وپڑھنے کے بعد درست تسلیم کرتے ہوئے دونوں فریقین اور گواہان اپنے اپنے دستخط ونشان انگوٹھا ثبت کئے ہیں تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسؤلہ میں مذکورہ بالا معاہدہ کا بغور جائزہ لیا گیا ،جس میں اکثر شرائط تو شریعت کے اصولوں کے موافق ہیں ،البتہ اس معاہدے کی شق نمبر (۳) میں فریق اول کا فریق دوم کے لیے اس کے سرمایہ کا ایک مخصوص حصہ 2500تا 3500 روپے فی لاکھ کے حساب سے مقرر کرنا جائز نہیں کیونکہ سرمایہ لگانےوالےکو اس کے سرمایہ کا ایک مخصوص حصہ بطورنفع کے دینے سے شرکت فاسد ہوجاتی ہے۔فریق اول کوچاہیےکہ وہ فریق ثانی کے لیے نفع و نقصان کا معیار کاروبار کے کل سرمایہ میں فریق دوم کے سرمایہ کے تناسب کو بنائے ۔
شراکت میں نفع کی تعیین نفع کے فیصد/حصص کے اعتبار سے کی جائے گی، مثلاً نفع دونوں کے درمیان آدھا آدھا ہوگا،یا کسی ایک فریق کے لیے سترفیصد اور دوسرے کے لیے تیس فیصد، یادونوں کے سرمایہ کے بقدرنفع تقسیم کیاجائے، یااگر دونوں شریک کام کرتے ہوں اور ان میں سے ایک شریک زیادہ محنت کرتاہے یاکاروبار کوزیادہ وقت دیتاہے تو اس کے لیےاس کے سرمایہ سے زائد نفع کی شرح باہمی رضامندی سے مقرر کرنا درست ہے، لیکن جو شریک کام نہیں کرتا اس کے لیے نفع کا تناسب اس کے سرمایہ سے زیادہ مقرر کرنا جائز نہیں ہوگا، بلکہ ایسی صورت میں سرمایہ کے تناسب سے نفع تقسیم ہوگا۔
اسی طرح شرکت میں نقصان ہونے کی صورت میں شریعت کا حکم یہ ہے کہ ہر شریک کا نقصان اُس کے مال کے تناسب سے ہو، یعنی جتنے فیصد کسی کی سرمایہ کاری ہے ، اتنے ہی فیصد وہ نقصان میں حصہ دار ہوگا، نقصان کے باوجود اپنی پوری رقم کا مطالبہ کرنا شرعاً ناجائز ہے۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 59):
(ومنها) : أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة، لا معينا، فإن عينا عشرة، أو مائة، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لا يحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلا يتحقق الشركة في الربح.
وفيه أيضا:
والوضيعة على قدر المالين متساويا ومتفاضلا؛ لأن الوضيعة اسم لجزء هالك من المال فيتقدر بقدر المال،
صدام حسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۳/ذوالقعدہ /۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | صدام حسین بن ہدایت شاہ | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


