| 90085 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم کوریا کے شہر دیگومیں مقیم ہیں۔ یہاں پر مقیم مسلمانوں نے 5 سال پہلے مسجد کے لیے ایک بلڈنگ یا ہوا ہے جس کے 4 منزل میں 3 منزل مسجد کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور پہلا منزل ایک کورین غیر مسلم کے کرایہ پر ہے ۔ اس میں ایک خنزیر اور شراب بیچنے والا ریسٹورنٹ ہے۔ یہاں سے جو کرائے کے پیسے آتے ہیں وہ مسجد کے اکاؤنٹ میں جاتے ہیں جہاں سے مسجد کی بجلی وغیرہ کے اخراجات ادا ہوتے ہیں۔
سوال ہے کہ اس مسجد میں فرض نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اور جو گرا یہ آتا ہے وہ مسجد میں استعمال کیا جاسکتا ہے ؟
قرآن وسنت کی روشنی میں تحریری فتوی مع الدلیل درکار ہے، شرعی رہنمائی فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کوئی بھی عمارت یا اس کی منزل یا کمرہ وغیرہ شراب اورخنزیر کے حرام کاروبار کے لیے کسی غیر مسلم کوبھی کرایہ پر دیناناجائز اور مکروہ تحریمی ہے، لہذا اس کی آمدن بھی ناجائز اور حرام ہے اور اس کو مسجد پر خرچ کرنا بھی ناجائز ہے۔باقی اس مسجد میں نماز پڑھنے کا حکم یہ ہے کہ اگر اس مسجد کے پانی بجلی وغیرہ کا بل اس قسم کےحرام آمدن سے ادا کیا جاتا ہو تو اس میں نماز پڑھنا درست ہے، بشرطیکہ اس مسجد کی عمارت اور جائے نمازوں میں حرام مال شامل نہ ہو، ورنہ نماز پڑھنا جائزنہیں ۔( ماخوذ از رسالہ ناجائز کاموں میں تعاون کی شرعی حیثیت از مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ تعالی مندرج جواہر الرشید جدید جلد ہشتم )
حوالہ جات
المبسوط لشمس الدين السرخسي (9/ 73):
وإذا استأجر الذمي من المسلم بيتا ليبيع فيه الخمر لم يجز لانه معصية فلا ينعقد العقد عليه ولا أجر له عندهما وعند أبى حنيفة رحمه الله يجوز والشافعي رحمه الله يجوز هذا العقد لان العقد يرد على منفعة البيت ولا يتعين عليه بيع الخمر فيه فله أن يبيع فيه شيئا آخر يجوز العقد لهذا ولكنا نقول تصريحهما بالمقصود لا يجوز اعتبار معنى آخر فيه وما صرحا به معصية
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
یکم ذیقعدہ ۱۴۴۷ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


