03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اپنی زمین ،اپنا گھر اسکیم کا حکم
90091خرید و فروخت کے احکامقرض اور دین سے متعلق مسائل

سوال

محترم مفتی صاحب، پنجاب حکومت کی جانب سے پاکستان میں "اپنا گھر، اپنی زمین" سکیم کا آغاز کیا گیا ہے، جس میں خریدار کو 3 سے 6 سال کی مدت میں قسطوں کی صورت میں ادائیگی کرنی ہوتی ہے۔ کیا یہ ادائیگی کا طریقہ اسلامی اصولوں کے مطابق جائز ہے؟ اسی طرح، پنجاب حکومت مختلف کاروباری افراد کو بھی قرضے دیتی ہے، جیسے کہ 10 لاکھ، 1 کروڑ یا 3 کروڑ تک۔ کیا حکومت کی طرف سے یہ مالی معاونت بھی اسلامی تقاضوں کے تحت جائز ہے؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں  مذکورہ اسکیم "اپنی زمین،اپنا گھر" کےویب سائٹ کےبیان کےمطابق حکومت پنجاب کی طرف سےاس اسکیم کےتحت مستحق افراد کو بلامعاوضہ ۳ مرلہ رہائشی پلاٹ  دیا جاتا ہے جس کےلیےصرف مستحق افراد درخواست دےسکتےہیں اور کسی قسم کی قسط وارادائیگی نہیں کرنی ہوتی،لہذاصرف مستحق افراد کے لیے اس اسکیم کے تحت اپنے لیے پلاٹ حاصل کرنا جائز ہے،غیر مستحق افراد کا اس اسکیم کے تحت امداد حاصل کرنا مستحق افراد کی حق تلفی کی وجہ سے شرعی طور پر بھی جائز نہیں ہے۔

ا لبتہ سوال میں قسط وار ادائیگی کی شرط پر جس  قرضہ سے متعلق پوچھا گیا ہے اس سے متعلق اصولی جواب یہ ہے کہ اگر یہ قرضہ  کسی سودی بینک((Conventional bank سے گھر بنانے یا زمین خریدنے کے لئےسود پرلیاجاتا ہوتو یہ جائز نہیں،کیونکہ سود کا لینا دینا ناجائز اور حرام ہے،البتہ کسی غیرسودی بینک سے مذکورہ اسکیم کے تحت مشارکہ یا اجارہ کے جائز طریقہ کار کی بنیاد پر گھریا زمین خریدی جاسکتی ہے ،بشرطیکہ اس کےمالی معاملات کی نگرانی مستند علماء کرام کر رہے ہوں  اور وہ بینک کے مالی معاملات سے مطمئن ہوں ،اور آپ کو بھی ان علماء کے علم و تقوی پر اعتماد ہو،تو آپ اس غیر سودی بینک سے مذکورہ سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔

حوالہ جات

صدام حسین 

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی 

۱ /ذوالقعدہ /۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

صدام حسین بن ہدایت شاہ

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب