| 90403 | خرید و فروخت کے احکام | شئیرزاور اسٹاک ایکسچینج کے مسائل |
سوال
اسٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کے حوالے سے درج ذیل معاملات میں رہنمائی درکار ہے :
اسٹاک ایکسچینج میں شیئرز کی خرید و فروخت کرنے کے لیے ایک شخص (کلائنٹ) کو دو اکاؤنٹس کھلوانے پڑتے ہیں ۔ ایک اکاؤنٹ بروکر (مثلاً عارف حبیب، اے کے ڈی وغیرہ) کے ساتھ اور دوسرا سی ڈی سی (سینٹرل ڈپازٹری کمپنی) کے ساتھ ۔ شیئرز خریدنے کے فوراً بعد شیئرز کلائنٹ کے بروکر اکاؤنٹ میں منتقل ہو جاتے ہیں اور اس کے بعد ان شیئرز کا نفع و نقصان کلائنٹ کا ہوتا ہے ۔ جب کہ T+2 کے اصول کے تحت یہ شیئرز کلائنٹ کے سی ڈی سی اکاؤنٹ میں 2 دن بعد منتقل ہوتے ہیں ۔ مروّجہ طریقے میں شیئرز کی خرید پر کلائنٹ کو کوئی فزیکل (مرئی) شیئر سرٹیفکیٹ نہیں دیا جاتا ۔
سوال یہ ہے کہ شیئر خریدنے کے بعد کس وقت کلائنٹ شیئر کو فروخت کر سکتا ہے ؟
کیا کلائنٹ کے بروکر اکاؤنٹ میں شیئرز منتقل ہونے کے بعد اور سی ڈی سی اکاؤنٹ میں شیئرز منتقل ہونے سے پہلے شیئرز فروخت کیے جا سکتے ہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شیئرز کی خرید و فروخت کے جواز کی ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ شیئرز خریدار کے سی ڈی سی سب اکاؤنٹ (CDC Sub-Account) میں منتقل ہو جائیں۔ محض آرڈر مکمل ہونے اور نفع و نقصان کے منتقل ہونے سے شرعاً قبضہ ثابت نہیں ہوتا۔ لہذا جب شیئرز سی ڈی سی سب اکاؤنٹ میں منتقل ہوجائیں تو انہیں آگے بیچ سکتے ہیں۔
اسٹاک ایکسچینج کے مروجہ طریق کار کے مطابق جب آپ شیئرز کی خریداری یا فروختگی کا آرڈر لگاتے ہیں ، تو بروکر اسے اسٹاک ایکسچینج کے کراچی الیکٹرانک ٹریڈنگ سسٹم (KATS) کے ذریعے مارکیٹ میں بھیجتا ہے۔ آرڈر مکمل ہونے پر آپ کوای میل یا میسج کے ذریعے تصدیق فراہم کی جاتی ہے۔ مگر شیئرز کی حقیقی منتقلی کا عملT+1 (پہلے یہ T+2 تھا ) سیٹلمنٹ سسٹم کے تحت ہوتا ہے ،جس کی تصدیق SMSیا Emailکے ذریعے بروکر فراہم کرتاہے۔ یعنی خریداری یا فروختگی کے دو کاروباری دنوں کےبعد سینٹرل ڈپازٹری کمپنی/CDCآپ کی جانب سے ادائیگی کرکے شیئرز آپ کے CDC سب اکاؤنٹ میں منتقل کرتی ہے، اور فروختگی کی صورت میں آپ کے اکاؤنٹ سے شیئرز منتقل کرکے آپ کی جانب سے رقم وصول کرتی ہے۔
چونکہ شیئرز کی خرید و فروخت درحقیقت کمپنی کے مشاع (مشترک) حصے کی خرید و فروخت ہے، اس لیے صرف آرڈر مکمل ہونے کی تصدیق اور نفع و نقصان کے خریدار کی طرف منتقل ہو جانے کو شرعاً قبضہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ نیز شیئرز پر حسی قبضہ ممکن نہیں ہوتا، لہٰذا قبضہ کے تحقق کے لیے تخلیہ کا پایا جانا ضروری ہے۔ مگر اسٹاک ایکسچینج کے موجودہ قواعد و ضوابط کے مطابق سی ڈی سی کے ذریعے کمپنی کے ریکارڈ میں شئیرز خریدار کے نام منتقل ہونے سے پہلے تخلیہ نہیں پایا جاتا ۔لہٰذا شیئرز کی سی ڈی سی میں منتقلی سے پہلےانہیں آگے فروخت کرنا بیع قبل القبض ہے جو شرعاً جائز نہیں ہے ۔
حوالہ جات
صحيح مسلم (3/ 1159):
عن ابن عباس أن رسول الله ﷺ قال:" من ابتاع طعاما فلا يبعه حتى يستوفيه". قال ابن عباس: وأحسب كل شيء مثله.
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 59):
ومن اشترى شيئا مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه؛لأنه عليه الصلاة والسلام نهى عن بيع ما لم يقبض ولأن فيه غرر انفساخ العقد على اعتبار الهلاك.
رد المحتار: (4/ 561)
ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل...(قوله: ثم التسليم) أي في المبيع والثمن ولو كان البيع فاسدا كما في البحر ط.
محمد ابرار الحق
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
25/ذیقعدہ/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابرار الحق بن برھان الدین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


