03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وکیل کا زکوٰۃ کو خود استعمال کرنے کا حکم
90370زکوة کابیانمستحقین زکوة کا بیان

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ میں طالبعلم ہوں اور مجھے ایک شخص نے زکوۃ کی کچھ رقم دی ہے کہ اسکو مدرسے کے ضرورت مند طلبہ کو دے دو۔ میں بھی مدرسے کا طالبعلم ہوں۔ اور فی الحال میری نظر میں میں ہی سب سے زیادہ ضرورت مند ہوں۔ کیا میرے لیے یہ رقم لینا یا استعمال کرنا حلال ہے۔؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  وکیل کو جو رقم دی جاتی ہے وہ موکل کی طرف سے امانت ہوتی ہے ،لہٰذا  وکیل کو چاہیے کہ اس رقم کو موکل کے حکم کے مطابق استعمال کرے  موکل کے حکم کے خلاف استعمال کرنا جائز نہیں ۔ صورت مسئولہ میں موکل نے زکوٰۃ مدرسے کے طلبہ کو دینے کا حکم دیا ہے لہٰذا آپ کا اس زکوٰۃ کی رقم کو خود لینا جائز نہیں۔

حوالہ جات

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 227):

وللوكيل بدفع الزكاة أن يدفعها إلى ولد نفسه كبيرا كان أو صغيرا، وإلى امرأته إذا كانوا محاويج، ولا يجوز أن يمسك لنفسه شيئا اهـ. إلا إذا قال ضعها حيث شئت فله أن يمسكها لنفسه كذا في الولوالجية

المبسوط للسرخسي (19/ 59):

أن الوكيل أمين مخبر بما يجعل مسلطا عليه،

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية»(1/ 189):

والوكيل إذا أعطى ولده الكبير أو الصغير أو امرأته، وهم محاويج جاز، ولا يمسك شيئا كذا في الخلاصة.

 وسیم اکرم بن محمد ایوب

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

21/ذوالقعدہ/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

وسیم اکرم بن محمد ایوب

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب