03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
امام و مؤذن کی تنخواہ کی کم از کم مقدار
90302جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم مفتی صاحب میرا سوال ہے کہ طحاوی شریف کی حدیث 5886 ہے، اس کا ترجمہ ہے کہ "تم ایسا موذن مقرر کرو جو اذان پر اجرت نہ لے "۔ اس حوالے سے ہماری رہنمائی کریں کہ کیا آج کل مساجد میں ایسے امام یا موذن کو رکھنا جو اذان پر یا امامت پر اجرت لے تو ان کے اقتدا میں نماز پڑھنا کیسا ہے اور امام صاحب یا موذن کے لیے یہ اجرت لینا کیسا ہے ؟ اور کیا ہمارے لیے ان کو یہ اجرت دینا ٹھیک ہے ؟

اور اگر لینا جائز ہے تو مزید یہ وضاحت بھی کردے کہ آج کل ایک امام کے لیے کتنی تنخواہ ہونی چاہیے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ حدیثِ مبارکہ میں اذان پر اجرت نہ لینے کی ترغیب دی گئی ہے، اس وجہ سے مثالی صورت تو یہ ہے کہ دینی خدمات خالصتاً لوجہ اللہ ہوں، دنیاوی مفاد پیش نظر نہ ہو۔ ابتدائے اسلام میں جب ائمہ و مؤذنین کی کفالت بیت المال کے ذمہ تھی، اس پر عمل کرنا آسان تھا کہ مالی کفالت بھی ہو جاتی تھی اور اجرت کا خیال بھی ذہن میں نہیں آتا تھا۔ تاہم جب بیت المال کا باقاعدہ نظام باقی نہ رہا اور ائمہ کے لیے معاشی ضروریات کی خاطر دیگر مشاغل اختیار کرنا ناگزیر ہو گیاتو اگر ائمہ و مؤذنین معاشی فکر کی وجہ سے دیگر کاموں میں مشغول ہو جاتےہیں تو مساجد ویران ہونے اور نظامِ نماز و تعلیم کے منقطع ہونے کا شدید خطرہ ہے۔ اس وجہ سے متاخرین فقہاء نے دین کی بقا کی خاطر ان امور پر اجرت لینے کی قدرے گنجائش دی ہے۔ جس کی شرعی نقطہ نظر سے یہ اجرت دراصل عبادت کا بدلہ نہیں، بلکہ اس مخصوص وقت کا معاوضہ ہے جو امام یا مؤذن اپنی دیگر دنیوی مصروفیات ترک کر کے مسجد کے لیے وقف کر دیتا ہے۔لہذا ائمہ و مؤذنین کے لیے یہ معاوضہ لینا شرعاً جائز ہے، عوام کے لیے انہیں باعزت تنخواه دینا باعثِ اجر ہے اور ایسے امام کی اقتدا میں نماز پڑھنا بلا کراہت درست ہے۔ ہاں اگر کوئی باہمت شخص تنخواہ نہ لے اور کاروبار اور  دیگر ذرائع سے اپنے مصارف پورے کرلے اور اپنی اذان یا امامت کی ذمہ داری بھی وقت کی پابندی کے ساتھ ادا کرتا رہے تو اس کے پسندیدہ ہونے میں کلام نہیں۔ تا ہم بالعموم جو شخص دیگر کاموں میں مصروف ہوتا ہے وہ موذن اور امام یا اس جیسی دینی ذمہ داری میں کوتاہی کرنے لگتا ہے۔ لہذا عمومی فتوی یہی ہے کہ اجرت لینی چاہیے اور کام کو معیاری انداز سے وقت لگا کر انجام دینا چاہیے۔ 

تنخواہ طے کرتے ہوئے امام کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر تنخواہ طے کرنی چاہیے۔

حوالہ جات

در المختار شرح تنویر الابصار: 9/ 76

قال العلامةالحصکفی رحمه الله:(و) لا لأجل الطاعات مثل (الأذان والحج والإمامة وتعليم القرآن والفقه)، ويفتى اليوم بصحتها؛ لتعليم القرآن والفقه والإمامة والأذان.

رد المحتار: 9/ 76

قوله:( ويفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن إلخ) قال في الهداية: وبعض مشايخنا - رحمهم الله تعالى - استحسنوا الاستئجار على تعليم القرآن اليوم؛ لظهور التواني في الأمور الدينية، ففي الامتناع تضييع حفظ القرآن، وعليه الفتوى اهـ، وقد اقتصر على استثناء تعليم القرآن أيضاً في متن الكنز ومتن مواهب الرحمن وكثير من الكتب، وزاد في مختصر الوقاية ومتن الإصلاح تعليم الفقه، وزاد في متن المجمع الإمامة، ومثله في متن الملتقى ودرر البحار، وزاد بعضهم الأذان والإقامة والوعظ وذكر المصنف معظمها، ولكن الذي في أكثر الكتب الاقتصار على ما في الهداية فهذا مجموع ما أفتى به المتأخرون۔

الهداية شرح بداية المبتدي(100/9) 

(ولا الاستئجار على الأذان والحج ، وكذا الإمامة وتعليم القرآن والفقه والأصل أن كل طاعة يختص بها المسلم لا يجوز الاستئجار عليه عندنا. وعند الشافعي رحمه الله يصح في كل ما لا يتعين على الأجير لأنه استئجار على عمل معلوم غير متعين عليه فيجوز ولنا قوله عليه الصلاة والسلام اقرءوا القرآن ولا تأكلوا به . وفي آخر ما عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى عثمان بن أبي العاص وإن اتخذت مؤذناً فلا تأخذ على الأذان أجراً. ولأن القربة متى حصلت وقعت عن العامل ولهذا تعتبر أهليته فلا يجوز له أخذ الأجر من غيره كما في الصوم والصلاة، ولأن التعليم مما لا يقدر المعلم عليه إلا بمعنى من قبل المتعلم فيكون ملتزماً ما لا يقدر على تسليمه فلا يصح. وبعض مشايخنا استحسنوا الاستئجار على تعليم القرآن اليوم لأنه ظهر التواني في الأمور الدينية، ففي الامتناع تضييع حفظ القرآن وعليه الفتوى.

الدر المختار (9/ 559):

(و) جاز إساغة اللقمة بالخمر وجواز (رزق القاضي) من بيت المال لو بيت المال حلالا جمع بحق، وإلا لم يحل. وعبر بالرزق ليفيد تقديره بقدر ما يكفيه وأهله في كل زمان ولو غنيا في الأصح.

رد المحتار (9/ 559):

قوله (في كل زمان) متعلق بتقدير أو بيكفيه أي يقدر بقدر كفايته في كل زمان؛ لأن المؤنة تختلف باختلاف الزمان. قوله (ولو غنيا في الأصح) عبارة الهداية: ثم القاضي إذا كان فقيرا فالأفضل بل الواجب الأخذ؛ لأنه لايمكنه إقامة فرض القضاء إلا به؛ إذ الاشتغال بالكسب يقعده عن إقامته، وإن كان غنيا فالأفضل الامتناع على ما قيل رفقا ببيت المال، وقيل: الأخذ وهو الأصح صيانةً للقضاء عن الهوان ونظرا لمن تولى بعده من المحتاجين؛ لأنه إذا انقطع زمانا تعذر إعادته.

ظہوراحمد

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

17 ذو القعدہ 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ظہوراحمد ولد خیرداد خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب