03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عشر  اداءکرنےسےپہلےاخراجات منہا کیےجاسکتےہیں ؟(عشر کی ادائیگی سے قبل اخراجات کی کٹوتی: سابقہ و جدید فتاوی کا بنیادی اختلاف)
89697زکوة کابیانعشر اور خراج کے احکام

سوال

 مسئلہ :باغ کےعشرمیں کام کرنےوالوں کی اجرت،بیلوں کاخرچ  اور محافظ کی تنخواہ کاٹی جائےگی،باقی کچھ نہیں کاٹاجائےگا۔فتاوی عالمگیری جلد نمبر 1 کیایہ مسئلہ درست ہے؟

جبکہ آپ کےارسال کردہ مسئلہ حوالہ نمبر 14201/43مورخہ 11-12-2021  میں درج ہےکہ تخم،بیل ،کریٹ ،شالی کرایہ ،گاڑی ،کریٹی کی مزدوری کچھ بھی نہیں کاٹاجائےگا۔

حوالہ نمبر 14201 میں درج ہے:

"سوال میں ذکرکردہ اشیاء کونکالنےسےپہلےعشردیاجائےگا،یعنی جتنی پیداوار ہوئی ،اس کادسواں حصہ یا بیسواں حصہ دیاجائےگا،اس سےکرایہ وغیرہ کو منہا نہیں کیاجائےگا"

مگرلوگ کہتےہیں کہ اگرمسکین کوعشرکاحصہ سیب کےباغ میں ہی جداکرکےحوالہ کردیاجائےتواس کو بھی یہ خرچہ ،کریٹ  ،شالی،  میخ،مزدور کرایہ برداشت کرنا ہوگا۔اگرہم کاٹ لیں تو کیاحرج ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 پہلی بات تویہ ہےکہ فتاوی ہندیہ کےحوالےسےجو بات آپ نےلکھی ہے،درست نہیں ہے،عبارت کاغلط مفہوم سمجھ کر نقل کیاگیاہے،ہندیہ میں اسی مقام پر تصریح موجود ہےکہ عشر میں ان چیزوں کی اجرت محسوب نہ ہوگی،یعنی ان  اجرتوں کو عشر سےکاٹانہیں جائےگا،بلکہ ٹوٹل پیداوار سےعشر اداکیاجائےگا۔

دوسری بات یہ کہ دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی سےجاری شدہ سابقہ فتوی ،جس میں تخم ،بیل،کریٹ ،شالی ،میخ  گاڑی کاکرایہ وغیرہ سب چیزوں کےحوالےسےیہ لکھاگیاتھاکہ کسی قسم کاخرچ عشر سےپہلےنہیں کاٹاجائےگا،اس حوالےسےواضح رہےکہ پہلےاردوفتاوی اوردیگر دارالافتاوں سےبھی یہی جواب دیاجاتاتھاکہ کسی قسم کا خرچہ عشر سےپہلےکاٹنا درست نہیں،لیکن چونکہ اس میں لوگوں کوشدیدحرج تھا،کیونکہ بعض دفعہ ایساہوتاہےکہ آمدن سےزیادہ اخراجات ہوجاتےہیں،ان اخراجات کو عشرسےپہلےنہ کاٹاجائےتوعشراداکرنےوالےکو اپنی جیب سےاس عشرکی ادائیگی کرنےپڑےگی،اس مشکل کےپیش نظر مفتیان کرام نےدوبارہ اس مسئلہ پر غور کیاتو فقہاء  کرام کی عبارات سےدرج ذیل تفصیل سامنےآئی،جس پر دارالافتاء جامعۃالرشیدکراچی کےعلاوہ دیگردارالافتاء(دارالعلوم کراچی،دارالافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاون )کےبھی اسی طرح کے فتاوی موجود ہیں:

واضح رہےکہ زمین کو کاشت کے قا بل بنانے،پیداوارحاصل کرنےاورکاٹنے کے لیے جو اخراجات ہوتے ہیں جیسے زمین کو ہموار کرنے، ٹریکٹرچلانے،مزدورکی اجرت وغیرہ ،یہ اخراجات عشر اداکرنے سےپہلےمنہا نہیں کیےجائیں گے، بلکہ عشر  یا نصفِ عشر اخراجات نکالنے سے پہلے پوری پیداوار سے ادا کیا جائے گا ۔

اوروہ اخراجات جوپیداوار کی کٹائی کے بعد زراعت کے امور سے متعلق  نہیں جیسے پیداوار کو منڈی تک پہنچانے  کا کرایہ، اسی طرح پیکنگ، لوڈنگ ،اور فروخت سے متعلق جو اخراجات ہوتے ہیں تو ایسے اخراجات عشر ادا کرنے سے پہلے منہا کیے جاسکتے ہیں ۔

اس تفصیل کی روشنی میں تخم ،بیل ، کام کرنےوالوں کی اجرت،بیلوں کاخرچ  اور محافظ کی تنخواہ وغیرہ  چونکہ کٹائی سےپہلےاورزراعت سےمتعلقہ اخراجات ہیں،لہذایہ اخراجات عشرکی ادائیگی سےپہلےمنہاء نہیں کیےجاسکتے۔

البتہ کٹائی کےبعدکےدیگراخراجات(کریٹ،شالی اورمیخ کےاخراجات اورلوڈنگ اورنقل وحمل کےاخراجات )عشرسےپہلےمنہاء کیےجاسکتےہیں ۔

حوالہ جات

" رد المحتار"2/ 328:

(قوله: بلا رفع مؤن) أي يجب العشر في الأول ونصفه في الثاني بلا رفع أجرة العمال ونفقة البقر وكري الأنهار وأجرة الحافظ.....۔

"مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر"1/ 216:

وَفِيمَا سقِي بغرب أَو دالية أَو سانية نصف الْعشْر قبل رفع مُؤَن الزَّرْع ...الخ  ٓ ٓ

"مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر"1/ 216:

قبل رفع مؤن الزرع) بضم الميم وفتح الهمزة جمع المؤنة وهي الثقل والمعنى بلا إخراج ما صرف له من نفقة العمال والبقر وكري الأنهار وغيرها مما يحتاج إليه في الزرع۔

"مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر" 2 / 238:

المؤنة وهي الثقل والمعنى بلا إخراج ما صرف له من نفقة العمال والبقر وكري الأنهار وغيرها مما يحتاج إليه في الزرع۔

"الفتاوی التاتارخانیہ "/3292:

اذاکانت الارض عشریۃ فاخرجت طعاما وفی حملھا الی الموضع الذی یعشر فیہ مؤنۃ فانہ یحملہ الیہ ویکون المؤونۃ منہ ۔

"الفتاوى العالمكيرية"1/ 187:

وفی الھندیۃ:ولا تحسب أجرة العمال ونفقة البقر، وكري الأنهار، وأجرة الحافظ وغير ذلك فيجب إخراج الواجب من جميع ما أخرجته الأرض عشرا أو نصفا كذا في البحر الرائق، ولا يأكل شيئا من طعام العشر حتى يؤدي عشره كذا في الظهيرية۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

14/رجب1447ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب