| 90177 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
ایک زمیندارجس کا نام علی محمد تھا،علی محمد کےتین بیٹےاورتین بیٹیاں تھیں،بڑی بیٹی کانام حنیفہ تھا،حنیفہ کانکاح عبدالغفور سےہوا،حنیفہ سےایک بیٹی نواب خاتون کی ولادت ہوئی،اوراس کےبعد حنیفہ فوت ہوگئی ۔
علی محمدکواحساس ہواکہ نواب خاتون کی کفالت وپرورش صحیح نہیں ہورہی،توعلی محمدنےکنوےوالی زمین )سروے 316 (نواب خاتون کوگفٹ کردی،دوسال بعدعلی اپنی دوسری بیٹی جمالاں کی شادی بھی عبدالغفور سےکرواتاہےاورجمالاں کو اوراپنی بیوی سوہنی کوبھی اس زمین میں حصہ دار بناتاہے۔
تین عورتوں کوزمین کامالک بناتاہےاورتینوں کواپنا اپنا حصہ الگ کرکےاختیارات کےساتھ مکمل قبضہ میں دیتاہے،چونکہ نواب خاتون چھوٹی تھی تونواب خاتون کوپالنےاورزمین سنبھالنےکےلیےجمالاں کےحوالےکرتاہے ،باقی زمین الگ الگ تھی،اناج بیچ کرنواب خاتون کو دیتی رہتی تھی، علی محمد کےہوتےہوئے 5،4 سال یہ سلسلہ جاری رہتاہے ،پھر علی محمد فوت ہوجاتاہے،علی محمد کےفوت ہونے کےبعدبھی 5،4 سال یہ سلسلہ جاری رہتاہے۔
5،4 سال کےبعد علی محمد کےبیٹوں نےاچانک وہ زمین نواب خاتون ،جمالاں خاتون اور سوہنی خاتون سےچھین لی،اس وقت سوہنی فوت ہوگئی ہے،جوعلی محمدکےبیٹوں عرض محمد،غلام محمداورشیرمحمدکی ماں تھی،جمالاں نےخاموشی اختیار کی ہوئی ہے،جوعلی محمد کی بیٹی تھی ،مگرنواب خاتون جو علی محمد کی نواسی ہے،اس کا تقاضایہ ہےکہ مجھےمیری زمین واپس کردی جائے،جواس کواس کےناناعلی محمد سےملی تھی،گفٹ کی صورت میں ۔
سوال یہ ہےکہ علی محمد کےبیٹوں کا زمین چھین لینا شریعت کےقانون کےمطابق جائزہےیاناجائز؟شرعاجواب چاہیے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں علی محمد نےجواپنی زندگی میں تین خواتین کو زمین گفٹ کی ہے،اور سوال میں مذکورہ تفصیل کےمطابق تینوں کوالگ ا لگ زمین تقسیم کرکےقبضہ میں دےکرمالک بنادیاہے،لہذا شرعاجس کو زمین تقسیم کرکےدیدی گئی تووہ اسی کی ذاتی ہوگئی ہے،اس میں کسی دوسرےورثہ کاحصہ شرعانہیں ہے۔
"شرح المجلۃ"1 /462:
وتتم(الھبۃ)بالقبض الکامل لأنہامن التبرعات والتبرع لایتم الابالقبض الکامل ۔
"شرح المجلۃ" 1 / 473 :
ویملک الموھوب لہ الموھوب بالقبض فالقبض شرط لثبوت الملک ۔
چونکہ یہ علی محمد کی وراثت نہیں ہے،اس لیےاس میں ورثہ کاحق نہیں ،لہذا نانا کےانتقال کےبعد ان کےبیٹوں یعنی بچی کےماموں کاشرعاکوئی حق نہیں بنتا،ان کامطالبہ کرنااور زمین چھینناناجائزقبضہ ہونےکی وجہ سےشرعاناجائزاورحرام ہے،یہ مسئلہ ان کو سمجھانا چاہیےکہ کسی کی چیزپرناجائزقبضہ کرناکسی صورت جائزنہیں،قرآن وحدیث میں اس پرسخت وعیدیں آئی ہیں،قرآن مجید میں ہے :
"اے ایمان والوایک دوسرے کامال ناحق نہ کھایاکرو،مگریہ کہ ہوخریدوفروخت تمہاری آپس کی رضامندی سے"
مسلم شریف کی ایک حدیث کے آخرمیں ہے :
"ہرمسلمان پردوسرے مسلمان کاخون بہانا،مال اورعزت کونقصان پہنچانا حرام ہے"
اسی طرح حدیث میں ہےکہ کسی نے ایک بالشت زمین بھی ناحق کسی سے لی توقیامت کے دن اس کو سات زمینوں کاطوق پہنایاجائے گا ،ایک اور حدیث میں ہے کہ کسی کامال اس کی رضامندی کے بغیرلیناجائزنہیں۔
حوالہ جات
" سورۃ النساء " الآية 29 :
یاأیھاالذین آمنوالاتأکلواموالکم بینکم بالباطل الاأن تکون تجارۃ عن تراضی منکم ۔
"الجامع لأحكام القرآن للقرطبي "2 / 338:
الثانیۃ:الخطاب بهذه الآية يتضمن جميع أمة محمد صلى اللّه عليه وسلم والمعنى : لا يأكل بعضكم مال بعض بغير حق فيدخل في هذا : القمار والخداع والغصوب وجحد الحقوق ، وما لا تطيب به نفس مالكه۔
الثالثة : من أخذ مال غيره لا على وجه إذن الشرع فقد أكله بالباطل۔
"صحيح مسلم " 8 / 10:
عن أبى هريرة قال قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم:۔ بحسب امرئ من الشر أن يحقر أخاه المسلم ،كل المسلم على المسلم حرام دمه وماله وعرضه۔
"صحيح مسلم "ج 5 / 58:
حدثنا أبو بكر بن أبى شيبة حدثنا يحيى بن زكرياء بن أبى زائدة عن هشام عن أبيه عن سعيد بن زيد قال سمعت النبى -صلى الله عليه وسلم- يقول « من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
06/ذیقعدہ1447ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


