| 90538 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
جس بھائی نے پلاٹ کے پیسے دیے تھے،وہ کہتے ہیں کہ ہمارے والد صاحب نے ان سے پلاٹ کی خریداری کے لیے پیسے مانگے تو والد صاحب نے یہ کہا تھا کہ " آؤ مل کر گھر بناتے ہیں ۔"،تو کیا اس جملے سے شراکت داری ثابت ہوتی ہے اور کیا اس جملے سے بھائی پلاٹ کا مالک تصور کیا جائے گا؟
نیز بھائی یہ بھی کہتے ہیں کہ مجھ سے غلطی ہو گئی کہ میں نے والد صاحب کی زندگی میں یہ پلاٹ اپنے نام کیوں نہیں کروا لیے،جبکہ ہمارے والد صاحب نے اپنی زندگی میں کسی سے یہ ذکر نہیں کیا تھا کہ میر ابیٹا عابد ہی ان پلاٹوں کا مالک ہے، اور نہ ہی اپنے بیٹے عابد سے یہ کہا تھا کہ تم ہی ان پلاٹوں کے مالک ہو گے۔
وضاحت: سائل نے اپنے بھائی عابدحسین کی ان کے استفتاء میں مذکور بات " میرا مقصد اپنا الگ گھر بنوانا تھا، میرے والد صاحب نے کہا کہ الگ گھر نہ بناؤ، ہم دونوں مل کر مشتر کہ گھر بناتے ہیں۔"سے متعلق یہ وضاحت کی:ہم سب بہن بھائی یہ جانتے ہیں کہ بابا ہمیشہ اپنے فیصلے خود کرتے تھے، مشورہ لینا ضروری نہیں سمجھتے تھے ۔عابد بھائی کی شادی سے دوسال پہلے یہ پلاٹ خریدا گیا،اس وقت تووہ الگ کمرے تک کی بات نہیں کرتے تھے ۔کہاں الگ گھر کی یا مشترکہ گھر بنانے کی بات کرنے لگے؟! جبکہ والداور والدہ نے کبھی بھی اس بات کو واضح نہیں کیا ۔یہ بات صرف عابد بھائی کہتے ہیں ۔
مزید بھائیوں کی آمدن اور والدین کو ان کے رقم دینے کے استفسار پر بتایا کہ اُس وقت جوائنٹ فیملی سسٹم تھا۔ ایک ہی کچن تھا۔سب بھائی امی اور بابا کو اخراجات کی مد میں رقم دیتے تھے اور اپنے پاس بھی رکھتے تھے۔ پلاننگ ساری بابا ہی کی ہوتی تھی ،خریداری سے تعمیر تک سب امور والد صاحب نے خود اپنی مرضی سے کروائے، اور اس میں بھائیوں کی کوئی خاص سرگرمی یا دلچسپی نہیں تھی۔ اس وقت (1990ءمیں) عابد بھائی نے پلاٹ کی خریداری کے لیے بابا کی مدد کی اور رقم اداکی ۔اس کے دو سال بعد ان کی شادی 1992ء میں ہوئی ۔ ہم سب کو بس یہ بات معلوم تھی کہ بابا نیااوربڑا گھر سب کے لیے بنوارہے ہیں۔
2005ء میں بابا کا اور2015ء میں امی کا انتقال ہوا ۔اس کے بعد جب منجھلے بھائی افضل نے تقسیمِ وراثت کی بات کی،تو پھر عابد بھائی نے اچانک پلاٹ کی ملکیت کا دعویٰ کردیا اور اب تک اس پر قائم ہیں ۔نیز ہمارے بابا بینک کے AVP کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے۔روپے پیسے کے معاملات میں احتیاط سے کام لیتے تھے۔ضرورت کے تحت ہی بھائیوں سے لیا کرتے تھے ۔جس کسی کے پاس ہوتے تھے اس سے لے لیتے تھے۔ یہ کوئی طے شدہ مقدار نہیں ہوتی تھی ،اور یہ رقم تعاون کے طور پر ہی دی جاتی تھی ،قرض یا واپس کرنے کا کوئی ذکر نہ ہوتاتھا۔بھائی اپنی اپنی فیملی کا تعاون کرتے تھے تو اپنے پاس ہی تنخواہوں کا بڑا حصہ رکھتے تھے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ بالا وضاحت کے درست ہونے کی صورت میں پلاٹ کے لیے دی گئی رقم والد مرحوم کے ساتھ تعاون کی ایک صورت ہے،لہذا یہ پلاٹ والد کا ہی ترکہ شمار ہو کر ورثہ میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔نیز شروع میں صورتِ مسئلہ کی تفصیل کے تحت پلاٹ کے جو حصے دو بڑے بھائیوں ( افضل حسین اور ممتاز حسین ) کے نام سے خریدے جانے کا ذکر ہے،تو یہ بھی ایک انتظامی صورتِ حال کے پیشِ نظرتھا،لہٰذا وہ دو حصے بھی والد ہی کے ترکہ میں شمار ہوکر ورثہ میں تقسیم ہوں گے۔
سوال میں مذکور یہ بات کہ عابد حسین سے والد نے پلاٹ کی خریداری کے لیے پیسے لے کر یہ کہا : " آؤ مل کر گھر بناتے ہیں۔"،یا عابد حسین کے اپنے استفتاء میں ان کی مذکور بات :" میرا مقصد اپنا الگ گھر بنوانا تھا، میرے والد صاحب نے کہا کہ الگ گھر نہ بناؤ، ہم دونوں مل کر مشتر کہ گھر بناتے ہیں۔"،یہ املاک میں شراکت داری کا معاملہ ثابت ہونے کے لیے کافی نہیں، کیونکہ اس کےلیے دوطرف سےسرمایہ کا ملایا جانا ضروری ہے،اوراس کے باوجود بھی شرکاء میں سےہرایک دوسرے کے حصہ میں اجنبی ہوتا ہے،اور اس کی اجازت کے بغیر کوئی ایسا تصرف نہیں کر سکتا کہ جس میں اس کا واضح نقصان ہو۔
جبکہ صورتِ مذکورہ میں والد نے عابد حسین سے پلاٹ کی خریداری کے لیے تقریبا پونے تین لاکھ روپے لے کر خود ہی اپنی مکمل منصوبہ بندی سے پلاٹ تعمیر کروایا ،اس میں سے دو حصے دیگر دو بیٹوں کے نام سے خریدے گئے ،اور یہ دو حصے ان دو بھائیوں کے نام پر خریدنے کی بات خود عابد حسین کے استفتاء میں بھی موجود ہے،لہٰذا اگر یہ واقعتاً شراکت داری کا معاملہ ہوتا تو کم از کم والد صاحب یا خود عابد حسین ہی اس موقع پر تو اپنی رقم شراکت داری کے لیے دینے کی وجہ سے اس حوالے سے اپنا حق مقدم ہونے کا اظہار کرتے ،اور یہ موقع ایسا نہیں تھا کہ ان سے یہ پلاٹ اپنے نام کروانے کی غلطی صادر ہوتی۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 298):
(هي) بكسر فسكون في المعروف لغة الخلط، سمي بها العقد لأنها سببه. وشرعا (عبارة عن عقد بين المتشاركين في الأصل والربح) جوهرة.(وركنها في شركة العين اختلاطهما، وفي العقد اللفظ المفيد له)...(قوله: لغة الخلط) قال في الفتح: هي لغة خلط النصيبين بحيث لا يتميز أحدهما، وما قيل : اختلاط النصيبين تساهل؛ لأنها اسم المصدر، والمصدر الشرك مصدر شركت الرجل أشركه شركا،فظهر أنها فعل الإنسان وفعله الخلط.وأما الاختلاط فصفة للمال تثبت عن فعلهما ليس له اسم من المادة، وتمامه فيه.قلت: لكن الشركة قد تتحقق بالاختلاط كما يأتي، فيلزم أن لا يكون لها اسم تأمل. إلا أن يقال: إن أهل اللغة لا يسمونها شركة.
مجلة الأحكام العدلية (ص: 204،206):
(المادة 1060) شركة الملك هي كون الشيء مشتركا بين أكثر من واحد، أي :مخصوصا بهم بسبب من أسباب التملك ،كالاشتراء ،والاتهاب ،وقبول الوصية، والتوارث ،أو بخلط.
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
2/ذوالحجہ/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


