| 90021 | خرید و فروخت کے احکام | دین )معاوضہ جو کسی عقدکے نتیجے میں لازم ہوا(کی خرید و فروخت |
سوال
صورتحال یہ ہے کہ میں نے ایک مکمل پروجیکٹ خریدنے کا ایگریمنٹ اس طرح کیا ہے کہ اس میں زمین کے ساتھ ساتھ 4 عدد بیسمنٹ مع دس منزلہ عمارت مکمل فنشنگ کے ساتھ تیار بلڈنگ کا معاہدہ کیا ہے، چونکہ معاہدہ ایک بڑی رقم کا تھا، لہذا زمین اور تعمیرات مکمل فنشنگ کے دونوں معاہدے الگ الگ کئے ،جس کے لئے ایک یادداشتی مفاہمت نامہ ماہ شعبان میں کرلیا گیا، میرا اس پروجیکٹ کو فی الحال خرید کر آگے فروخت کا ارادہ نہیں ہے، بلکہ ارادہ کرایہ پر دینے کا ہے۔حتمی رائے اس لئے قائم نہیں کی گئی، چونکہ پروجیکٹ 4 سال کی مدت کا ہے اور حالات بدلتے رہتے ہیں ہوسکتا ہے کہ کسی مرحلہ میں ادائیگی کی ضرورت کی وجہ سے کچھ حصہ فروخت کرنا پڑے تو اس وقت کے حالات کے مطابق فیصلہ کیا جاسکے، چونکہ دو علیحدہ علیحدہ معاہدے ہیں، ایک زمین اور دوسرا تعمیرات كا، جس کی وجہ اوپر ذکر کردی گئی ہے، اس حوالے سے رائج طریقہ کار کےمطابق زمین کاپہلا ابتدائی معاہدہ کرلیا جاتا ہے، جسےایگریمنٹ ٹو سیل (Agreement to sell) کہا جاتا ہے اور اس میں ایڈوانس رقم اور بقایا پیمینٹ كا شیڈول درج ہوتا ہے، چنانچہ ہمارے ایگریمنٹ کی رُو سے پیمینٹ کا ایک خطیر حصہ رمضان سے قبل ادا کردیا گیا۔ جو کہ زمین کے معاہدہ کا تقریباً 45فیصد بنتا ہے، دوسرا حصہ عید کے بعد اپریل تک ادا ہوگا، جبکہ تیسرا حصہ اکتوبر 2026ء تک ادا ہوگا ،اس کے بعد پراپرٹی میرے نام ٹرانسفر ہوگی ان شاء اللہ۔
اس کے بعد جنوری 2027ء سے شیڈول کے مطابق تین سے چار سال کے دوران تعمیرات کی مد میں ادائیگی کرنا ہوگی، واضح رہے کہ بلڈر مجھے خالی زمین فروخت کرنے پر راضی نہیں تھا، اس کی شرط تھی کہ میں پورا پروجیکٹ بناکر فروخت کروں گا۔
البتہ چونکہ ملکی کاروباری حالات تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور یہ معاملہ پیسوں کے اعتبار سے کافی بڑا معاملہ ہے اس لئے میں نے مستقبل میں کسی قسم کی پریشانی سے بچنے کے لئے بلڈر کو اس بات پر آمادہ کیا کہ ہم ایگریمنٹ کو دو حصوں میں تقسیم کرلیں جب آدھی ادائیگی ہوجائے گی تو پلاٹ ٹرانسفر ہوجائے، تاکہ میں بھی اپنے آپ کو محفوظ تصور کروں۔ اس ایگریمنٹ کی رو سے مجھے زکوۃ کے معاملات کی تفصیل سمجھنی ہے کہ اس صورتحال میں مجھ پر زکوۃ کے کیا احکامات لاگو ہوں گے؟میں اپنی زکوۃ کا حساب سالانہ پہلی رمضان المبارک کو کرتا ہوں، اس سلسلہ میں میرے درج ذیل سوالات ہیں:
1۔جو پیسے رمضان سے قبل ادا کردئیے اس پر زکوۃ کا کیا حکم ہے؟
2۔اپریل اور اکتوبر 2026ء تک جو ادائیگی کرنی ہے کیا وہ میں اپنے اموال زکوۃ میں سے منہا کرسکتا ہوں؟چونکہ ایگریمنٹ ٹو سیل ہوچکا اور معاہدہ کے لحاظ سے میں اپنے آپ کو پابند تصور کرتا ہوں اور یہ واضح رہے کہ میرے اموالِ زکوة نقد، سونا اور پراپرٹی کی صورت میں موجود ہیں، جنہیں شیڈول کے مطابق ادائیگی کرنے کے لئے میں نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔
3۔ جنوری 2027ء سے جو شیڈول کے مطابق ادائیگی شروع ہوگی تو اگلے سال رمضان المبارک میں ایک سال کی واجب الاداء قسط اموال زکوۃ میں سے منہا کرسکتا ہوں؟ (دوبارہ واضح رہے یہ پروجیکٹ میں نے آگے فروخت کی نیت سے نہیں لیا ہے)
ایک اور وضاحت ضروری ہے کہ اس مرحلے میں Sale agreement عموما نہیں ہوتا، کیونکہ ادائیگی قسط وار ہورہی ہوتی ہے، لہذا اس صورتحال میں مارکیٹ پریکٹس یہ ہے کہ ابتداً Agreement to sell کیا جاتا ہےاور پوری ادائیگی کے وقت قانونی کارروائی مکمل کرنے کے لئے پراپرٹی ٹرانسفر کردی جاتی ہے، جس کے لئے قانونی کاغذ یعنی Sale Agreement/Sale Deed کے عمل کو مکمل کرلیا جاتا ہے.
واضح رہے کہ پورے پروجیکٹ کے 50 فیصد ادائیگی کے وقت یعنی زمین کے معاہدہ کی پوری رقم کی ادائیگی کے بعد صرف زمین کی سیل ڈیڈ بنے گی، جس کے بعد زمین کی ملکیت ٹرانسفر ہوجائے گی۔امید ہے کہ وضاحت کے ساتھ ان سوالات کے جوابات سے مستفید فرمائیں گے۔والسلام
وضاحت: سائل نے بتایا کہ ہمارے درمیان پروجیکٹ کی خریدوفروخت کا معاملہ مکمل ہو چکا ہے، اسی لیے ایگریمنٹ ٹو سیل (Agreement to sell) میں اس معاہدے کو ناقابلِ تنسیخ قرار دیا گیا ہے۔ لہذا اس کی حیثیت صرف وعدے کی نہیں ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوالات کے جوابات سے پہلے بطورِ تمہید دو باتیں جاننا ضروری ہیں:
1۔ بعض بروکرز حضرات سے ایگریمنٹ ٹو سیل (Agreement to sell) کے بارے میں معلومات لی گئیں تو انہوں نے اس پر اتفاق کا اظہار کیا کہ اس ایگریمنٹ میں فریقین کے درمیان خریدوفروخت کا معاملہ مکمل سمجھا جاتا ہے، قیمت کا ایک بڑا حصہ اس وقت اد ا کر دیا جاتا ہے اورخریدار اس پراپرٹی کا مالک سمجھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس معاہدے کے بعد خریدار کو پراپرٹی آگے بیچنے کی بھی اجازت ہوتی ہے، اور کسی بھی فریق کو اس معاہدہ کی خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے، اگرچہ قانونی طور پر رقم کی ادائیگی باقی ہونے کی وجہ سے پراپرٹی خریدار کے نام منتقل نہیں کی جاتی،اس ایگریمنٹ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ خریدار اگرچہ پراپرٹی خریدنے میں مکمل طورپر راضی اور سنجیدہ ہے، مگر فی الحال مکمل قیمت کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے وہ فروخت کنندہ سے کچھ مہلت مانگتا ہے، جس کی وجہ سےانتظامی طور پر معاملے کو دوحصوں میں تقسیم کر لیا جاتا ہے کہ کچھ قیمت کی ادائیگی ایگریمنٹ ٹو سیل کے وقت اور بقیہ رقم کی ادائیگی سیل ایگریمنٹ(Sale Agreement/Sale Deed) کے وقت کی جاتی ہے اور اس وقت خریدار کو قبضہ دینے کے ساتھ ساتھ پراپرٹی اس کے نام منتقل کر دی جاتی ہے،لیکن اس کی حیثیت صرف قانونی معاملے کی ہوتی ہے، باقی شرعاً خریدوفروخت کا معاملہ ایگریمنٹ ٹو سیل (Agreement to sell) کے وقت حتمی ہو چکا ہوتا ہے، اسی لیے سائل کی تصریح کے مطابق میں اسٹامپ پیپر میں اس معاہدہ کو ناقابلِ تنسیخ لکھا گیا ہے۔
2۔سوال میں ذکر کیا گیا معاملہ شرعی اعتبار سے استصناع کا ہے، کیونکہ حقیقت میں فریقین کے درمیان تیارشدہ مکمل پروجیکٹ (زمین اور دس منزلہ عمارت سمیت) کی خریدوفروخت کا معاہدہ کیا گیا ہے، جیسا کہ سوال کے شروع میں تصریح ہے، باقی قانونی طور پر زمین اور عمارت خریدار کے نام ٹرانسفر کرنے کے حوالے سے اگرچہ علیحدہ علیحدہ دو ایگریمنٹ کیے گئے ہیں، مگر شرعاً یہ ایک ہی معاملہ شمار ہو گا، لہذافقہی اعتبار سے اس کو استصناع کہا جائے گا اور راجح قول کے مطابق استصناع خریدوفروخت کا معاملہ ہے، جوکہ ایگریمنٹ ٹو سیل (Agreement to sell) کے وقت فریقین کے درمیان فائنل اورحتمی ہو چکا ہے، البتہ استصناع کے معاملے میں شرعی اعتبار سے خریدی جانے والی چیز اور اس کےطے شدہ ثمن (خریدی گئی چیز کی قیمت) میں ملکیت قبضہ کے بعد ثابت ہوتی ہے اور قبضہ سے پہلے دونوں چیزیں فریقین کے ذمہ میں واجب الادء ہوتی ہیں، لہذا خریدار کی طرف سے جتنی رقم فروخت کنندہ کوادا کر دی جائے وہ اس کی ملکیت میں آ جاتی ہے اور بقیہ رقم خریدار کے ذمہ بطورِقرض رہتی ہے، اس تمہید کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں:
- جو رقم آپ رمضان المبارک سے پہلے فروخت کنندہ کو ادا کر چکے ہیں اس کی زکوة آپ کے ذمہ واجب نہیں، کیونکہ فروخت کنندہ کے قبضہ کرنے کی وجہ سے وہ رقم آپ کی ملکیت سے نکل چکی ہےاورفروخت کنندہ اس رقم کا مالک بن چکا ہے۔
- جو قسط آپ نے اپریل تا اکتوبر2026ء کو ادا کرنی ہے، اس کی رقم بھی آپ اپنے قابلِ زکوة اثاثوں سے منہا کرسکتے ہیں، کیونکہ یہ رقم آپ کے ذمہ واجب الادء ہو چکی ہے اور واجب الاداء رقم کو اموالِ زکوة سے منہا کرنا جائز اور درست ہے۔
- جی ہاں! جنوری 2027ء سے شیڈول کے مطابق جوادائیگی کرنی ہے اگلے سال رمضان المبارک میں اس سال کی واجب الاداء قسطوں کو اموالِ زکوۃ سے منہا کرنا جائز اور درست ہے، اس کے علاوہ اگلے سال کی قسطوں کو منہا کرنا درست نہیں۔
حوالہ جات
البناية شرح الهداية (8/ 375) دار الكتب العلمية – بيروت:
أن الاستصناع بيع ولا خيار للبائع فيما لم يره م: (وأما المستصنع فلأن في إثبات الخيار له إضرار بالصانع لأنه لا يشتريه غيره بمثله).
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (5/ 224) الناشر: دار الفكر-بيروت:
(جرى فيه تعامل أم لا) وقالا الأول استصناع (وبدونه) أي الأجل (فيما فيه تعامل) الناس (كخف وقمقمة وطست) بمهملة وذكره في المغرب في الشين المعجمة وقد يقال طسوت (صح) الاستصناع (بيعا لا عدة) على الصحيح.
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (2/ 106) الناشر: دار إحياء التراث العربي:
(و) الاستصناع (بلا أجل) معلوم (يصح استحسانا فيما تعورف فيه كخف وطست وقمقمة) وغير ذلك من الأواني (وهو بيع) والقياس أن لا يصح لأنه بيع المعدوم، وبه قال زفر والأئمة الثلاثة، وجه الاستحسان أن المستصنع فيه المعدوم يجعل موجودا حكما كطهارة المعذور فنزل منزلة الإجماع للتعامل من زمن النبي - عليه الصلاة والسلام - إلى يومنا هذا.
الدر المختار مع ردا لمحتار: کتاب الزکاۃ، (2/ 261) ط:سعید:
"(فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) سواء كان لله كزكاة وخراج أو للعبد، ولو كفالة أو مؤجلا.
(قوله أو مؤجلا إلخ) عزاه في المعراج إلى شرح الطحاوي، وقال: وعن أبي حنيفة لايمنع. وقال الصدر الشهيد: لا رواية فيه، ولكل من المنع وعدمه وجه. زاد القهستاني عن الجواهر: والصحيح أنه غير مانع."
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (2/ 247) دار الكتب العلمية، بيروت:
"وإذا اشترى عرضاً بدراهم أو دنانير، فالمشترى لايصير للتجارة؛ إلا إذا نوى التجارة، وإذا اشترى عرضاً بعرض التجارة، فالمشترى يكون للتجارة نوى التجارة أو لم ينو شيئاً"
تبيين الحقائق (كتاب الزكاة،2/24،19،ط:دارالكتب العلمية بيروت):
"قال رحمه الله:(وشرط وجوبها العقل والبلوغ والإسلام والحرية،وملك نصاب حولي فارغ عن الدين وحاجته الأصلية نام، ولو تقديرا).....والمراد بالدين دين له مطالب من جهة العباد حتى لا يمنع دين النذر والكفارة، ودين الزكاة مانع حال بقاء النصاب.....وقال العلامة الشيخ الشلبي تحت قوله: (دين له مطالب من جهةالعباد) أي: دون دين الله تعالى سواء كان لله كالزكاة أو لهم كالقرض وثمن المبيع وضمان المتلف، وأرش الجراحة ومهر المرأة سواء كان من النقود أو من غيرها، وسواء كان حالا أو مؤجلا".
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
23/شوال المکرم1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


