| 90548 | قربانی کا بیان | قربانی کے متفرق مسائل |
سوال
میرا نام حماد ہے اور میں کراچی سے ہوں۔میرا سوال یہ ہے کہ میں نے کچھ مہینے پہلے اپنا فلیٹ فروخت کیا تھا اور اس وقت میں کرائے پر رہ رہا ہوں۔ کچھ عرصے بعد مزید پیسے جمع کرکے نیا فلیٹ لینے کا ارادہ ہے۔ فلیٹ بیچنے سے جو رقم ملی تھی، وہ میں نے ایک دو جگہوں پر سرمایہ کاری کر دی ہے تاکہ پیسے محفوظ رہیں۔اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا مجھ پر قربانی لازم ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بظاہر یہ رقم نصاب سے زائد ہی ہے۔لہذا اس رقم پر ہر سال گزرنے کے بعد زکوۃ لازم ہوگی اور اگر یہ رقم عیدالاضحی کے دنوں میں باقی ہوئی تو قربانی بھی واجب ہوگی۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 64):
ومنها الغنى لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: «من وجد سعة فليضح» شرط عليه الصلاة والسلام السعة وهي الغنى ولأنا أوجبناها بمطلق المال ومن الجائز أن يستغرق الواجب جميع ماله فيؤدي إلى الحرج فلا بد من اعتبار الغنى وهو أن يكون في ملكه مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه وما يتأثث به وكسوته وخادمه وفرسه وسلاحه وما لا يستغني عنه وهو نصاب صدقة الفطر، وقد ذكرناه وما يتصل به من المسائل في صدقة الفطر.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية : (1/ 191)
وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلاً عن حوائجه الأصلية، كذا في الاختيار شرح المختار، ولايعتبر فيه وصف النماء، ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية، ووجوب نفقة الأقارب، هكذا في فتاوى قاضي خان
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 312):
وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر) كما مر (لا
الذكورة فتجب على الأنثى) خانية۔۔۔۔(قوله واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية.
ابن امین صاحب دین
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
02/ذوالحجہ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ابن امین بن صاحب دین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


