03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سونا بچوں کے نام کرنے کا حکم
90478زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

اکتوبر 2026ء میں ہماری شادی کے آٹھ سال مکمل ہو جائیں گے ۔ اہلیہ کے پاس تقریباً 5 تولہ سونا ہے جو زیور کی شکل میں ہے اور جہیز کا سامان بھی ہے۔ شادی کے دوسرے سال ہم دوسرے شہر شفٹ ہو گئے۔ جہیز کے سامان کا 50 فیصد ہم استعمال کر رہے ہیں باقی گاؤں میں پڑا ہے ۔ گاؤں میں ہم نے اپنا مکان تعمیر کرنا شروع کیا ہے،جو ابھی بن رہا ہے۔  ہم جو جہیز کا 50 فیصد سامان استعمال کر رہے ہیں وہ گھر کے تعمیر ہونے کے بعد وہاں شفٹ کر لیں گے ۔ہم اپنی تنخواہ سے پیسے بچاتے ہیں، 8 مہینے یا سال بعد جتنے بن جاتے ہیں مکان پر لگاتے ہیں۔ کچھ رقم گھر میں ضرورت کے لیے مثلا کوئی بیماری و غیرہ کے لیے رکھ لیتے ہیں۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ اہلیہ پر یامجھ پر دونوں میں سے کسی پر زکاۃ یاقربانی واجب آتی ہے یا نہیں رہنمائی فرمائیں۔ کیونکہ آج تک اہلیہ نے یا میں نے کوئی زکاۃ ادا نہیں کی۔ میں بار بار اصرار کرتا تھا کہ ہوتی ہے لیکن اہلیہ کہتی ہے کہ ساڑھے سات تولہ سونا نہ ہو تو زکاۃ واجب نہیں ہوتی ہے۔ اس لیے تحریری فتویٰ ہو تو میں تسلی کراؤں۔پھر اگر زکاۃ واجب ہوتی ہے تو آٹھ سالوں میں کتنی زکاۃ ہے۔ حساب لگا کر بتائیے گا۔

دوسری بات یہ ہے کہ میری دو بیٹیاں ہیں اور ایک بیٹا۔ ایک بیٹی کی عمر 6 جبکہ دوسری کی عمر 7 سال ہے بیٹا 6 مہینے کا ہے۔ اہلیہ فرمارہی ہے کہ زیور میں نے ڈیڑھ تولہ بڑی بیٹی کے نام ، ڈیڑھ تولہ چھوٹی بیٹی کے نام کیا ہے۔ اور ڈیڑھ تولہ بیٹے کے نام کیا ہے اب اس کا کیا حکم ہے۔ زکاۃ، قربانی کار ہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مروجہ جہیز کے سامان پر زکاۃ واجب نہیں ہوتی ۔

تنخواہ سے جو رقم اضافی آپ جمع کرتے رہے ہیں اسے دیگر اموالِ زکاۃ (سونا، چاندی، مال تجارت) کے ساتھ ملا کر اگر کل مال ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہوجائے تو اس پر قمری سال گزرنے کے بعد زکاۃ ہوگی، اگر اتنا نہ بنے تو زکاۃ نہیں ہے۔

اگر بیوی کے پاس مذکورہ پانچ تولہ سونا کے علاوہ  نقدی، چاندی اور مال تجارت میں سے کچھ بھی نہ ہوتو تب اس پر زکاۃ لازم نہیں اور اگر مذکورہ اشیاء میں سے کوئی ایک چیز (مثلا: تھوڑی بہت نقد رقم بھی اس کی ملک میں) ہو تو زکاۃ لازم ہے ، کیونکہ اس صورت میں نصاب ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر مالیت ہوگی اور بیوی کے پاس موجود پانچ تولہ سونا اس سے کہیں زیادہ ہے۔

سونے کو صرف اولاد کے نام کردینے سے ان کی ملکیت  ثابت نہیں ہوتی ، بلکہ وہ بدستور آپ کی اہلیہ کی ملکیت رہے گا اور انہی پر سونے کی زکاۃ ادا کرنا لازم ہے۔ اگر واقعی اولاد کو مالک بنائے بایں طور کہ سونے کو ان کے والد کے پاس رکھیں اور خود استعمال نہ کریں اور نہ ہی واپس لینے کا ارادہ رکھیں، تو ایسی صورت میں اولاد حقیقی مالک بن جائے گی اور ان پر اس وقت تک زکاۃ لازم نہیں ہوگی جب تک وہ نابالغ ہیں۔ مذکورہ طریقہ سے مالک بنانے کے بعد سے لیکر اب تک کی زکاۃ بیوی پر نہیں ہوگی، گزشتہ عرصے (یعنی مالک بنانے سے پہلے جتنا عرصہ بیوی کی ملکیت میں گزرا ہے) کی زکاۃ، اگر نصاب پورا ہوتا ہو، بیوی پر لازم ہے۔یاد رہے زکاۃ سے جان چھڑانے کے لیے اولاد کو سونے کا مالک بنانے سے اگرچہ زکاۃ ساقط ہوجاتی ہے لیکن ایسا کرنا شرعا ناپسندیدہ عمل ہے۔

زکاۃ لازم ہونے کی صورت میں اپنے تمام قابل زکاۃ اموال (نقدی، سونا، چاندی اور مال تجارت) کا حساب لگایا جائے گا۔ اس مجموعے میں سے واجب الاداء قرضے منہا کرنے کے بعد بچ جانے والے مال سے ڈھائی فیصد زکاۃ ادا کی جائے گی۔ گزشتہ سالوں کی زکاۃ کی ادائیگی کےلیے ہر سال کے اختتام پر موجود مجموعی مال زکاۃ کا حساب لگا کر، اسی سال کے اعتبار سے ڈھائی فیصد زکاۃ ادا کریں، اگر یقینی حساب معلوم نہ ہو تو اندازہ لگا کر سرمایہ طے کرلیں پھر احتیاطاً اس سے کچھ زیادہ کی زکاۃ دے دیں۔

قربانی ہر اس عاقل، بالغ، مقیم مسلمان مرد و عورت پر واجب ہے جس کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا ان دونوں میں سے کسی ایک کی قیمت کے برابر نقدی یا مال تجارت یا ضرورت سے زائد سامان موجود ہو۔ نیز اگر ان میں سے بعض اشیاء مل کر نصاب کی مقدار کو پہنچ جائیں تو بھی قربانی واجب ہوجاتی ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/16)

أما الأثمان المطلقة وهي الذهب والفضة أما قدر النصاب فيهما فالأمر لا يخلو إما أن يكون له فضة مفردة أو ذهب مفرد أو اجتمع له الصنفان جميعا، فإن كان له فضة مفردة فلا زكاة فيها حتى تبلغ مائتي درهم وزنا وزن سبعة فإذا بلغت ففيها خمسة دراهم لما روي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما كتب كتاب الصدقات لعمرو بن حزم ذكر فيه الفضة ليس فيها صدقة حتى تبلغ مائتي درهم فإذا بلغت مائتين ففيها خمسة دراهم.

فتح القدير: (2/ 208)

(ليس فيما دون مائتي درهم صدقة) لقوله عليه الصلاة والسلام ''ليس فيما دون خمس أواق صدقة'' والأوقية أربعون درهما (فإذا كانت مائتين وحال عليها الحول ففيها خمسة دراهم) ''لأنه عليه الصلاة والسلام كتب إلى معاذ رضي الله عنه أن خذ من كل مائتي درهم خمسة دراهم، ومن كل عشرين مثقالا من ذهب نصف مثقال''.

الدر المختار مع رد المحتار (3/173)

وشرط افتراضها عقل وبلوغ وإسلام وحرية وسببه ملك نصاب حولي تام فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد و عن حاجته الأصلية نام ولو تقديرا.

رد المحتار علی الدر المختار (3/224)

(نصاب الذهب عشرون مثقالا والفضة مائتا درهم كل عشرة) دراهم (وزن سبعة مثاقيل) والدينار عشرون قيراطا، والدرهم أربعة عشر قيراطا، والقيراط خمس شعيرات، فيكون الدرهم الشرعي سبعين شعيرة والمثقال مائة شعيرة، فهو درهم وثلاث أسباع درهم، وقيل يفتى في كل بلد بوزنهم وسنحققه في متفرقات البيوع (والمعتبر وزنهما أداء ووجوبا) لا قيمتهما.

الفتاوی الھندیۃ: (4/392)

الموهوب له إن كان من أهل القبض فحق القبض إليه، وإن كان الموهوب له صغيرا أو مجنونا فحق القبض إلى وليه، ووليه أبوه أو وصي أبيه ثم جده ثم وصي وصيه ثم القاضي ومن نصبه القاضي، سواء كان الصغير في عيال واحد منهم أو لم يكن، كذا في شرح الطحاوي.

ردالمحتار علی الدرالمختار: (2/284)

 (قوله: بعد الحول) أما قبله لو استهلكه قبل تمام الحول فلا زكاة عليه لعدم الشرط، وإذا فعله حيلة لدفع الوجوب كأن استبدل نصاب السائمة بآخر أو أخرجه عن ملكه ثم أدخله فيه، قال أبو يوسف لا يكره؛ لأنه امتناع عن الوجوب لا إبطال حق الغير.وفي المحيط أنه الأصح.وقال محمد: يكره، واختاره الشيخ حميد الدين الضرير؛ لأن فيه إضرارا بالفقراء وإبطال حقهم مآلا، وكذا الخلاف في حيلة دفع الشفعة قبل وجوبها. وقيل الفتوى في الشفعة على قول أبي يوسف، وفي الزكاة على قول محمد، وهذا تفصيل حسن شرح درر البحار.قلت: وعلى هذا التفصيل مشى المصنف في كتاب الشفعة، وعزاه الشارح هناك إلى الجوهرة، وأقره وقال: ومثل الزكاة الحج وآية السجدة.

الھدایۃ: (4/355)

قال: الأضحية واجبة على كل حر مسلم مقيم موسر في يوم الأضحى عن نفسه وعن ولده الصغار...

زبیر احمد ولد شیرجان

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

03/ذوالحجہ/1447

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب