| 90477 | مضاربت کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
ہمارے علاقے میں چلغوزوں کا کاروبار مضاربت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اس کی صورتِ کار درج ذیل ہے:
منڈی میں تاجر حضرات بیٹھے ہوتے ہیں اور سرمایہ دار ان کے پاس آتے ہیں اور سرمایہ دیتے ہیں کہ اس کو لگا کر چلغوزے خرید کر اسے فروخت کیا کریں۔ مضاربت عموماً ایک سال کے لیے ہوتی ہے۔ یہاں بہت سارے تجار ہیں ان سب کا یہی طریقہ ہے کہ ایک سال کےلیے رقم لیتے ہیں اور بطور عقد مضاربت رقم لینے کے بعد سال مکمل ہونے سے پہلے رب المال کو پیسہ واپس لینے بھی نہیں دیتے ہیں ۔یہ طریقہ ایک عرف بن گیا ہے۔سال مکمل ہونے پر مضارب تمام نفع و نقصان کا حساب ایک رجسٹر میں مرتب کرتا ہے۔اسی حساب کی تفصیل (پرچہ/پرچی) ربّ المال کو بھی فراہم کی جاتی ہے۔اور رب المال بھی اس حساب کو اپنے پاس ایک رجسٹر میں محفوظ کرتا ہے۔ربّ المال کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنی اصل رقم بمع نفع مکمل طور پر وصول کر لے یا آئندہ سال کے لیے مضارب کے پاس چھوڑ دے۔مضارب سالانہ کھاتہ واضح کرنے کے بعد حاصل شدہ اپنے حصے کا نفع لینے کے بعد اسے استعمال میں بھی کرتا رہتا ہے۔رب المال کو زکوٰۃ کی ادائیگی کا بھی اختیار ہوتا ہے، اس طرح کہ ربّ المال چاہے تو اسی مالِ مضاربت سے ادا کرے، یا اپنے دیگر اموال سے، یا مضارب کے ذریعے ادا کروائے۔عملاً یہ ہوتا ہے کہ بعض ربّ المال سال کے اختتام پر حساب واضح ہونے کے باوجود اپنی اصل رقم بمع نفع مضارب کے پاس ہی چھوڑ دیتے ہیں، اور مضارب اگلے سال اس مجموعی رقم کو دوبارہ کاروبار میں لگا دیتا ہے۔ یہ سلسلہ کئی سال تک جاری رہتا ہے، جبکہ ہر سال باقاعدہ حساب کتاب رجسٹر اور پرچی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
تنازعہ کی صورت
ایک شخص (ربّ المال) نے دس لاکھ روپے دے کر کئی سال قبل ایک تاجر (مضارب) کے ساتھ عقدِ مضاربت کیا۔ پہلے سال اس پر دو لاکھ روپے نفع ہوا، جس کے بعد مجموعی رقم بارہ لاکھ ہو گئی۔مضارب ہر سال حساب کتاب مرتب کر کے پرچی دیتا رہا، لیکن ربّ المال اپنی رقم وصول کرنے کے بجائے اسے اگلے سال کے لیے چھوڑتا رہا۔ یہ سلسلہ مسلسل چھ سال تک جاری رہا۔مضارب ہر سال ربّ المال کی اصل رقم اور حاصل شدہ نفع کو ملا کر دوبارہ مضاربت میں لگاتا رہا، یعنی دوسرے سال اصل سرمایہ بارہ لاکھ بن گیا، پھر اسی طرح ہر سال اضافہ ہوتا رہا۔
اب دونوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو گیا ہے:
ربّ المال کا موقف:یہ پورا عرصہ ایک ہی مسلسل عقدِ مضاربت ہے، لہٰذا تمام چھ سال کو ایک عقد شمار کر کے مجموعی نفع و نقصان تقسیم کیا جائے۔
مضارب کا موقف:ہر سال الگ عقد شمار ہوگا، کیونکہ ہر سال مستقل حساب کتاب کیا جاتا تھا، پرچی دی جاتی تھی، اور رب المال کو رقم لینے یا چھوڑنے کا اختیار حاصل تھا۔اب سوال یہ ہے کہ 1- اس صورت میں شرعاً کس فریق کا موقف معتبر ہے؟2- نفع و نقصان کی تقسیم کس طریقے سے کی جائے گی؟3- کیا پورے عرصے کو ایک ہی عقد شمار کیا جائے گا؟4- یا ہر سال کو الگ الگ عقد مان کر حساب کیا جائے گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر سوال میں مذکور تفصیلات درست ہوں اور آپ کے ہاں کا عرف یہی ہو کہ چلغوزوں کی مضاربت ایک سال ہی کے لیے ہوتی ہے اور عقد کرتے وقت رب المال اور مضارب نے کسی بھی طرح مدت کا ذکر نہ کیا ہو اور سوال میں مذکور تفصیل کے مطابق ہر سال مکمل ہونے پر مضارب رب المال کو سال بھر کا حساب دیا کرتا تھا اور رب المال کو اپنی رقم لے جانے کا اختیار حاصل ہوتا تھا لیکن وہ ہر سال مضارب سے یہی کہتا کہ اسے اگلے سال کے لیے لگالو، تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ معاملہ ''ایک سالہ مضاربت'' تھا۔ اس صورت میں ہر سال نیا عقد شمار ہوگا اور ہر سال کا نفع و نقصان الگ الگ مانا جائے گا۔ ایک سال کے نقصان کی تلافی دوسرے سال کے نفع سے نہیں کی جائے گی۔
لہذا ہر سال جتنا نقصان ہوا ہے،اس کا ازالہ سب سے پہلے اسی سال کے نفع سے کیا جائے، اگر نفع سے بھرائی نہ ہو سکے تو اسی سال کے سرمایہ سے کٹوتی کی جائے۔اگلے سال جو نقصان ہوا، اس کا حساب اسی سال کے نفع سے کیا جائے گا یعنی مضارب سے صرف وہی منافع واپس لیا جاسکتا ہے جو اسے اسی مخصوص سال میں حاصل ہوا ہو، ایسا نہیں کیا جائے گا کہ گزشتہ سال کے نفع کو اس سال کے نقصان کی تلافی میں شمار کیا جائے۔
حوالہ جات
تکملۃ فتح القدیر نتائج لأفکار: (8/457)
قال (وكذلك إن وقت للمضاربة وقتا بعينه يبطل العقد بمضيه) لأنه توكيل فيتوقت بما وقته والتوقيت مفيد وأنه تقييد بالزمان فصار كالتقييد بالنوع والمكان.
دررالحکام شرح مجلۃ الأحکام: (3/454)
المادة (1423) - (إذا وقت رب المال المضاربة بوقت معين فبمضي ذلك الوقت تنفسخ المضاربة) ؛ لأن تعيين الوقت مفيد كالتقييد بنوع مال فهو معتبر (شرح المجمع والزيلعي والهندية) والحكم في الشركة أيضا على هذا الوجه.
تبیین الحقائق: (5/60)
وكذلك إن وقت للمضاربة وقتا يتقيد به؛ لأنه توكيل فيتقيد به كما يتقيد بالنوع والمكان.
زبیر احمد ولد شیرجان
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
03/ذوالحجہ/1447
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زبیر احمد ولد شیرجان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


