| 90476 | سود اور جوے کے مسائل | مختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے سے متعلق کہ یو بی ایل بینک میں بطور ملازمت اگر کوئی فائر بریگیڈ شعبے میں کام کرتا ہے تو اس کی حاصل آمدنی یا تنخواہ کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سودی بینک میں ایسی ملازمت اختیار کرنا جس میں براہ راست سودی معاملات میں تعاون ہو، ناجائز ہے۔ البتہ وہ ملازمت جو براہ راست سودی معاملات سے متعلق نہیں ہے، جیسے چوکیدار، چپڑاسی، مالی وغیرہ، ان کی شرعاً گنجائش ہے۔ چونکہ فائربریگیڈ کا تعلق بھی براہ راست سودی معاملات سے نہیں، اس لیے مجبوری کی حالت میں آپ کو یہ ملازمت اختیار کرنے کی گنجائش ہے، لیکن مجبوری نہ ہونے کی صورت میں اس جیسی براہ راست سودی معاملات سے تعلق نہ رکھنے والی ملازمت سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔لہذا یہ ملازمت کرتے ہوئے کسی اور جگہ کام کی تلاش جاری رکھیں۔
حوالہ جات
صحیح مسلم : (5/50)
عن جابر قال لعن رسول ﷲ صلىﷲ عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال:هم سواء.
تکملۃ فتح الملھم : (1/388)
قوله: کاتبه, کتابة الربا إعانة عليه ،ومن ههنا ظهرأن التوظف فی البنوک الربویة لایجوز ،فإن کا ن عمل الموظف فی البنک ما یعین علی الربا کالکتابة أو الحساب ،فذاک حرام لوجهين: الأول :إعانة علی المعصیة ,والثانی: أخذالاجرة من مال الحرام ،فإن معظم دخل البنوک حرام مستجا ب بالربا وأما إذا کان العمل لا علاقة له بالربا ،فإنه حرام لوجه الثانی ،فإذاوجد بنک،معظم دخله حلال جاز فيه التوظف للنوع الثانی من الأعمال .
زبیر احمد ولد شیرجان
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
03/ذوالقعدہ/1447
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زبیر احمد ولد شیرجان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


