03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
یو بی ایل بینک میں فائربریگیڈ کی نوکری کرنے کا حکم
90476سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے سے متعلق کہ یو بی ایل بینک میں بطور ملازمت اگر کوئی فائر بریگیڈ شعبے میں کام کرتا ہے تو اس کی حاصل آمدنی یا تنخواہ کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سودی بینک میں ایسی ملازمت اختیار کرنا جس میں براہ راست سودی معاملات میں تعاون ہو، ناجائز ہے۔ البتہ وہ ملازمت جو براہ راست سودی معاملات سے متعلق نہیں ہے، جیسے چوکیدار، چپڑاسی، مالی وغیرہ، ان کی شرعاً گنجائش ہے۔ چونکہ فائربریگیڈ کا تعلق بھی براہ راست سودی معاملات سے نہیں، اس لیے مجبوری کی حالت میں آپ کو یہ ملازمت اختیار کرنے کی گنجائش ہے، لیکن مجبوری نہ ہونے کی صورت میں اس جیسی براہ راست سودی معاملات سے تعلق نہ رکھنے والی ملازمت سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔لہذا یہ ملازمت کرتے ہوئے کسی اور جگہ کام کی تلاش جاری رکھیں۔

حوالہ جات

صحیح مسلم : (5/50)

عن جابر قال لعن رسول ﷲ صلىﷲ عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال:هم سواء.

تکملۃ فتح الملھم : (1/388)

قوله: کاتبه, کتابة الربا إعانة عليه ،ومن ههنا ظهرأن التوظف فی البنوک الربویة لایجوز ،فإن کا ن عمل الموظف فی البنک ما یعین علی الربا کالکتابة أو الحساب ،فذاک حرام لوجهين: الأول :إعانة علی المعصیة ,والثانی: أخذالاجرة من مال الحرام ،فإن معظم دخل البنوک حرام مستجا ب بالربا وأما إذا کان العمل لا علاقة له بالربا ،فإنه حرام لوجه الثانی ،فإذاوجد بنک،معظم دخله حلال جاز فيه التوظف للنوع الثانی من الأعمال .

زبیر احمد ولد شیرجان

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

03/ذوالقعدہ/1447

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب