03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
رکعات میں شک ہونے کی صورت میں نماز مکمل کرنے کا طریقہ
90948نماز کا بیانسجدہ سہو کابیان

سوال

 اگر کسی شخص کو نماز میں وہم ہوا کہ تین رکعات پڑھی ہیں یا چاراور اس طرح کے وہم مہینے یا ڈیڑھ مہینے میں ایک آدھ بار ا ٓہی جاتے ہیں، تو وہ اپنی نماز کس طرح مکمل کرے؟کیا ہر رکعت میں قعدہ کے لیے بیٹھے کہ قعدہ اخیرہ ہونے کا احتمال ہے اور اخر میں سجدہ سہو کر لے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطورِ تمہید جاننا چاہیے کہ جس شخص کو نماز کی رکعات میں شک ہوتا ہو، اس کے بارے میں فقہائے احناف رحمہم اللہ نے درج ذیل تین صورتیں ذکر فرمائی ہیں:

پہلی صورت:اگر پہلی مرتبہ یا دوسری مرتبہ شک ہوا ہو، یعنی شک ہونا اس کی عادت نہ ہو،بلکہ شاذونادرشک ہوتا ہو  تو وہ نماز لوٹائے گا۔

دوسری صورت: اگر بکثرت شک ہوتا ہو تو پھر وہ تحری کرے یعنی سوچے کہ میں نے کتنی رکعات پڑھی ہیں؟ اگر کسی طرف غالب گمان ہو تو اس کے مطابق عمل کرے اور پھر  آخرمیں سجدہ سہو کرکے نماز مکمل کرے۔

تیسری صورت: بکثرت شک ہونے کی صورت میں اگر کسی جانب غالب رجحان نہ ہو تو بناء علی الأقل یعنی یقین پر عمل کرے، مثلا اگر دو یا تین میں شک ہو تو دو سمجھے اور اگر تین یا چار میں شک ہوتو تین سمجھے اور مزید ایک رکعت پڑھ کر نماز مکمل کرے اور آخر میں سجدہٴ سہو کرکے نماز پوری کر لے۔

 چونکہ آپ کے ساتھ یہ مسئلہ مہینہ   میں ایک آدھ بار پیش آتا ہے ، اس لئے صورت مسئولہ کا حکم یہ ہے کہ آپ تحری کریں گے اور سوچیں گے کہ میں نے کتنی رکعات پڑھ لی ہیں۔ اگر کسی طرف غالب گمان ہو تو اس پر عمل کرتے ہوئے آخر میں سجدہ سہو کرکے نماز مکمل کرلیں۔ البتہ اگر کسی جانب رجحان نہ بنے ، تو اس صورت میں بناء علی الأقل یعنی یقین پر عمل کرتے ہوئے دو اور تین میں شک کی صورت میں دو سمجھیں ،اور تین یا چار میں شک ہو تو تین سمجھیں اور مزید ایک رکعت پڑھ کر آخر میں سجدہ سہو کرکے نماز پوری کرلیں۔

حوالہ جات

" (وإذا شك) في صلاته (من لم يكن ذلك) أي الشك (عادة له) وقيل من لم يشك في صلاة قط بعد بلوغه. وعليه أكثر المشايخ بحر عن الخلاصة (كم صلى استأنف) بعمل مناف وبالسلام قاعدا أولى لأنه المحل (وإن كثر) شكه (عمل بغالب ظنه إن كان) له ظن للحرج (وإلا أخذ بالأقل) لتيقنه (وقعد في كل موضع توهمه موضع قعوده) ولو واجبا لئلا يصير تاركا فرض القعود أو واجبه (و) اعلم أنه (إذا شغله ذلك) الشك فتفكر (قدرأداء ركن ولم يشتغل حالة الشك بقراءة ولا تسبيح) ذكره في الذخيرة (وجب عليه سجود السهو في) جميع (صور الشك) سواء عمل بالتحري أو بنى على الأقل فتح لتأخير الركن، لكن في السراج أنه يسجد للسهو في أخذ الأقل مطلقا، وفي غلبة الظن إن تفكر قدر ركن  ....(قوله: وإلا) أي وإن لم يغلب على ظنه شيء، فلو شك أنها أولى الظهر أو ثانيته يجعلها الأولى ثم يقعد لاحتمال أنها الثانية ثم يصلي ركعة ثم يقعد لما قلنا، ثم يصلي ركعةً ويقعد لاحتمال أنها الرابعة، ثم يصلي أخرى ويقعد لما قلنا، فيأتي بأربع قعدات قعدتان مفروضتان وهما الثالثة والرابعة، وقعدتان واجبتان؛ ولو شك أنها الثانية أو الثالثة أتمها وقعد ثم صلى أخرى وقعد ثم الرابعة وقعد، وتمامه في البحر وسيذكر عن السراج أنه يسجد للسهو". ( الدر المختار وحاشية ابن عابدين، ٠٢/٩٢، دار الفكر)

عزیرولد  انور خان

دار الافتاء جامعہ الرشید

13  /محرم الحرام  /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عزیر ولد انور خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب