| 90947 | نماز کا بیان | مسبوق اور لاحق کے احکام |
سوال
نماز میں قعدہ اخیرہ فرض ہے۔اگر کوئی شخص دو رکعت مسبوق ہو جانے کے بعد امام کے ساتھ ملتا ہے ،تو امام کے ساتھ جو آخری رکعت پڑھے گا, اس میں جو قعدہ ہوگا وہ قعدہ اخیرہ کہلائے گا اس مسبوق کے حق میں ؟یا پھر جب یہ اپنی پچھلی دو رکعتیں جو چھوٹی ہیں وہ ختم کر رہا ہوگا ،تو وہ قعدہ اخیرہ ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
امام کے سلام پھیرنے کے بعد جب مسبوق اپنی باقی ماندہ رکعتیں پڑھ کر آخر ی سجدہ سے قعدہ کیلئے اٹھے گا، تو وہ قعدہ شرعا اس کے حق میں قعدہ اخیرہ شمار ہوگا۔
حوالہ جات
(1)" ولا خلاف في أن المسبوق يتابع الإمام في مقدار التشهد إلى قوله: " وأشهد أن محمدا عبده ورسوله " وهل يتابعه في الزيادة عليه؟ ذكر القدوري أنه لا يتابعه عليه؛ لأن الدعاء مؤخر إلى القعدة الأخيرة وهذه قعدة أولى في حقه". (البدائع الصنائع، ٠١/١٢٩، دار الكتب العلمية)
عزیرولد انور خان
دار الافتاء جامعہ الرشید
13 /محرم الحرام /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عزیر ولد انور خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


