03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسبوق کا قعدہ اخیرہ
90947نماز کا بیانمسبوق اور لاحق کے احکام

سوال

نماز میں قعدہ اخیرہ فرض ہے۔اگر کوئی شخص دو رکعت مسبوق ہو جانے کے بعد امام کے ساتھ ملتا ہے ،تو امام کے ساتھ جو آخری رکعت پڑھے گا, اس میں جو قعدہ ہوگا وہ قعدہ اخیرہ کہلائے گا اس مسبوق کے حق میں ؟یا پھر جب یہ اپنی پچھلی دو رکعتیں جو چھوٹی ہیں وہ ختم کر رہا ہوگا ،تو وہ قعدہ اخیرہ ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 امام کے سلام پھیرنے کے بعد جب مسبوق اپنی باقی ماندہ رکعتیں پڑھ کر آخر ی سجدہ سے  قعدہ کیلئے اٹھے گا، تو وہ قعدہ شرعا  اس کے حق  میں قعدہ اخیرہ شمار ہوگا۔

حوالہ جات

(1)" ولا خلاف في ‌أن ‌المسبوق يتابع الإمام في مقدار التشهد إلى قوله: " وأشهد أن محمدا عبده ورسوله " وهل يتابعه في الزيادة عليه؟ ذكر القدوري أنه لا يتابعه عليه؛ لأن الدعاء مؤخر إلى القعدة الأخيرة وهذه قعدة أولى في حقه". (البدائع الصنائع، ٠١/١٢٩، دار الكتب العلمية)

عزیرولد  انور خان

دار الافتاء جامعہ الرشید

13  /محرم الحرام  /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عزیر ولد انور خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب