03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرض حسنہ معاف کرنے پر ثواب
90730جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

ایسا قرض حسنہ جس کی اب واپسی کی کوئی امید نہیں ہے ،بار بار اصرار کے باوجود واپس کرنے سے انکار ی ہیں،آیا اسے معاف کردینے سے ثواب ہوگا یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت نے اپنا حق چھوڑنے  پر بہت سے فضائل بیان کیے ہیں، ایک حدیث میں آتا ہے  ’’جو شخص اس بات کو پسند کرے کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کی پریشانیوں سے نجات دے تو اسے چاہیے کہ وہ تنگ دست کو مہلت دے یا اس کے قرض کو معاف کردے۔‘‘ لہٰذا سائل اگر اپنا حق چھوڑ دیتا ہے تو اسے اتنے پیسے صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا اور وہ عند اللہ مزید اجر و ثواب کا مستحق ہوگا۔

قرآن کریم میں ہے:

"وَإِن كَانَ ذُو عُسْرَةٍۢ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍۢ ۚ وَأَن تَصَدَّقُوا۟ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ."

(سورة البقرة: 280)

ترجمہ: ’’اور اگر تنگ دست ہو تو مہلت دینے کا حکم ہے آسودگی تک اور یہ (بات) کہ معاف ہی کردو اور زیادہ بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم کو اس کے ثواب کی خبر ہو۔‘‘

مفتی اعظم  حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’یہاں معاف کرنے کو قرآن نے بلفظ صدقہ تعبیر فرمایا ہے، جس میں اشارہ ہے کہ یہ معافی تمہارے لیے بحکم صدقہ ہو کر موجبِ ثواب عظیم ہوگی۔‘‘(سورۃ البقرۃ، ج: ۱، ص: ۶۵۷، ط: مکتبہ معارف القرآن)

مشکاۃ المصابیح(2/877) میں ہے:

"وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: كان رجل يدائن الناس فكان يقول لفتاه: إذا أتيت معسرا تجاوز عنه لعل الله أن يتجاوز عنا قال: فلقي الله فتجاوز عنه."

ترجمہ: ’‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص لوگوں سے قرض کا معاملہ کرتا تھا اور اس نے اپنے نمائندے کو یہ کہہ رکھا تھا کہ جب تو تنگ دست کے پاس جائے تو اس سے درگزر کرنا شاید کہ اللہ تعالیٰ ہمارے معاملے میں درگزر فرمائے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اس نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی ( مرنے کے بعد اس کی روح کو حق تعالیٰ کے روبرو حاضر کیا گیا )تو اللہ تعالیٰ نے اس سے درگزر فرمایا،( اس کے گناہوں پر مواخذہ نہ فرمایا)۔‘‘

"وعن أبي قتادة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌من ‌سره أن ينجيه الله من كرب يوم القيامة فلينفس عن معسر أو يضع عنه». رواه مسلم."

ترجمہ: ’’حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی سختیوں سے محفوظ کردے تو اس کو چاہیے کہ وہ مفلس و محتاج سے قرض کے طلب کرنے میں تاخیر کرے، یا اس کو بالکل معاف کردے، یعنی تمام حق چھوڑدے یا اس میں سے کچھ حصہ چھوڑدے۔‘‘

حوالہ جات

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

08/ محرم 1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب