03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح سے پہلے طلاق کو معلق کرنے کا حکم
90905طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میں فقہ حنفی کا پیروکار ہوں۔ میں نے 5 سال پہلے جہالت میں نکاح سے قبل گناہ پر طلاق معلق کی تھی، اور نکاح سے پہلے ہی وہ گناہ ہو گیا تھا۔ اب ہماری شادی کو 5 سال ہو چکے ہیں۔ کیا میں اس مخصوص معاملے میں طلاق کے وقوع سے بچنے کے لیے امام شافعیؒ کے قول پر عمل کر سکتا ہوں. میری منگنی ہوی تہی اور میں نے گناہ سے توبہ کیا اور یہ الفاظ کہے "میں قسم کہاتا کے میں گناہ نہیں کروگا اور اگر میں نے گناہ کیا تو میری اور عائشہ کا طلاق ہو جائے"

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ تعلیقِ طلاق سے طلاق واقع ہونے کے لیے ضروری ہے کہ تعلیق کے وقت عورت نکاح میں ہو، یا الفاظِ تعلیق میں نکاح کی طرف نسبت ہو۔چونکہ  صورت مسئولہ میں شوہر نے جب تعلیق کی تھی، اس وقت نہ تو عورت نکاح میں تھی اور نہ ہی تعلیق کے الفاظ میں نکاح کی طرف نسبت تھی؛ لہذا اس صورت میں فقہِ حنفی کے مطابق بھی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

حوالہ جات

اللباب في شرح الكتاب (3/ 46):

ولا يصح إضافة الطلاق) أي تعليقه (إلا أن يكون الحالف مالكا) للطلاق حين الحلف، كقوله لمنكوحته: إن دخلت الدار فأنت طالق (أو يضيفه إلى ملك) ، كقوله الأجنبية: إن نكحتك فأنت طالق (وإن) لم يكن مالكا للطلاق حين الحلف ولم يضفه إلى ملك بأن (قال لأجنبية: إن دخلت الدار فأنت طالق، ثم تزوجها فدخلت الدار لم تطلق) ، لعدم الملك حين الحلف والإضافة إليه، ولابد من واحد منهما.

الموسوعة الفقهية الكويتية (12/ 311)

السابع: أن يكون الذي يصدر منه التعليق مالكا للتنجيز أي قادرا على التنجيز (بمعنى كون الزوجية قائمة حقيقة أو حكما) وهذا الشرط فيه خلاف، فالحنفية والمالكية لا يشترطون ذلك في تعليق الطلاق، بل يكتفون فيه بمطلق الملك، سواء أكان محققا أم معلقا.....وأما الشافعية والحنابلة: فإنهم يشترطون لصحة التعليق قيام الملك في حال التعليق، بمعنى أن يكون الذي يصدر منه التعليق قادرا على التنجيز، وإلا فلا يصح تعليقه.

 ( الفتاوى الهندية :1/ 420)

ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك ،والإضافة إلى سبب الملك كالتزوج كالإضافة إلى الملك فإن قال لأجنبية: إن دخلت الدار فأنت طالق ثم نكحها فدخلت الدار لم تطلق كذا في الكافي.

محمد ابراہیم قریشی بن عبدالرزاق

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

11/محرم الحرام /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابرہیم قریشی بن عبد الرزاق

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب