| 91605 | طلاق کے احکام | طلاق سے رجو ع کا بیان |
سوال
سوال نمبر 4: طلاقِ رجعی کے احکام کو بدلنا اور ”آیاتِ الٰہی سے مذاق“ کا حکم: قرآنِ مجید کا حکم ہے: ”وَلَا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا“ (سورہ البقرہ: 231) فقہ حنفی کا اصول ہے کہ طلاقِ رجعی میں رجوع کرنا شوہر کا وہ خالص شرعی حق ہے جو اللہ نے طے کیا ہے اور بیوی اسے سلب نہیں کر سکتی (”وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ“ - البقرہ: 228)۔ مزید یہ کہ عدت کے دوران عورت کا شوہر کے گھر میں رہنا صلح کے لیے لازم ہے (”لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ“ - الطلاق: 1)۔ مسمات نے اپنے اقرار نامے میں ایک طرف طلاقِ رجعی لکھا اور دوسری طرف شوہر کو رجوع اور رابطے سے تحریری طور پر روک کر الٰہی قانون کو بدلنے کی کوشش کی۔ کیا ایک عالمہ عورت کا صلح کے تمام قرآنی راستوں کو تحریری طور پر بلاک کرنا اور شوہر کے حقِ رجوع پر ڈاکا ڈالنا، شوہر کی عائد کردہ شرط "being fearful to Allah" کی صریح خلاف ورزی اور تفویض کا ناجائز استعمال (Abuse of Authority) نہیں ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(4)واضح رہے کہ طلاقِ رجعی واقع ہونے کے بعد عدت کے دوران رجوع کرنا شوہر کا خالص شرعی حق ہے۔ شوہر یہ رجوع یکطرفہ طور پر کر سکتا ہے اور اس کے لیے بیوی کی رضامندی ہرگز شرط نہیں ہے۔ بیوی کا اپنے اقرار نامے میں یہ تحریر کرنا کہ اس سے یا اس کے گھر والوں سے رابطہ نہ کیا جائے، شرعاً ایک باطل شرط ہے اور اس کا کوئی قانونی اعتبار نہیں ہے۔
مسمات کا عدت میں گھر سے نکلنا اور شوہر کے حقوق غصب کرنا صریح گناہ ہے، لیکن اس گناہ کی وجہ سے تفویضِ طلاق کا قانونی عمل منسوخ نہیں ہوگا۔ اگر شوہر صریح الفاظ میں یہ کہہ دے کہ "میں رجوع کر چکا ہوں" اور احتیاطاً اس پر گواہ بھی مقرر کر لے، تو یہ رجوع شرعاً مکمل اور معتبر ہو جائے گا، بشرطیکہ یہ عمل عدت (تین حیض) کی مدت ختم ہونے سے پہلے انجام دیا گیا ہو۔ بصورتِ دیگر عدت گزرنے پر یہ طلاقِ بائن میں تبدیل ہو جائے گی۔(پہلے سوال کے جواب میں گزرا کہ صورت مسئولہ میں طلاق بائن ہوچکی ہے،اور اب رجوع ممکن نہیں ہے)
حوالہ جات
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (4/ 87):
«واشتراط البراءة شرط فاسد فبطل فكان عليها تسليم عينه إن قدرت، وتسليم قيمته إن عجزت أشار إلى أن الخلع لا يبطل بالشروط الفاسدة كالنكاح»
«فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي» (4/ 343):
«(ولا يجوز للمطلقة الرجعية والمبتوتة الخروج من بيتها ليلا ولا نهارا، والمتوفى عنها زوجها تخرج نهارا وبعض الليل ولا تبيت في غير منزلها) أما المطلقة فلقوله تعالى {لا تخرجوهن من بيوتهن ولا يخرجن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة} قيل الفاحشة نفس الخروج، وقيل الزنا، ويخرجن لإقامة الحد، وأما المتوفى عنها زوجها فلأنه لا نفقة لها فتحتاج إلى الخروج نهارا لطلب المعاش، وقد يمتد إلى أن يهجم الليل، ولا كذلك المطلقة لأن النفقة دارة عليها من مال زوجها»
«المبسوط» للسرخسي (6/ 33):
«أما في الطلاق الرجعي للزوج أن يمنعها من الخروج لقيام النكاح بينهما»
محمدسعید خان آفریدی
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
12/صفر/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد سعید خان آفریدی بن معین خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


