| 91602 | طلاق کے احکام | کسی کو طلاق واقع کرنے کا حق دینے کا بیان |
سوال
تفویضِ طلاق کے استعمال کی قانونی حیثیت اور طلاقِ رجعی کا وقوع زید (محمد جنید خان) کا نکاح مسمات ہندہ (اقراء عارف، جو کہ خود دینی تعلیم یافتہ عالمہ ہیں) سے بتاریخ 3 جنوری 2025ء کو ہوا، اور رخصتی بتاریخ 6 فروری 2025ء کو ہوئی۔ شادی کے چند ماہ بعد ہی، بتاریخ 27 ستمبر 2025ء کو رات بارہ بجے، مسمات ہندہ کسی بھی ثابت شدہ شرعی عذر، مار پیٹ، نان نفقہ کی بندش یا شرعی و عدالتی فیصلے کے بغیر یکطرفہ طور پر اپنے والد کو بلا کر شوہر کا گھر چھوڑ کر اپنے میکے چلی گئیں اور مسلسل وہیں مقیم رہیں۔ اس عرصے میں زید (شوہر) کی طرف سے صلح کی کوششوں کو مسمات اور ان کے گھر والوں کی طرف سے یکطرفہ طور پر مسترد کیا جاتا رہا۔ بتاریخ 31 جنوری 2026ء کو صبح 09:55 پر شوہر (زید) نے مسمات ہندہ کو بذریعہ واٹس ایپ (WhatsApp) ایک پیغام بھیجا، جس میں طلاق کا اختیار مقیداًتفویض کیا (یعنی طلاق کا یہ اختیار درج ذیل مخصوص اور صریح فقہی قید کے ساتھ دیا): "I authorize you to pronounce one Divorce (Rajai) at your will being fearful to Allah and in compliance of Prophet's Hadith since you left me for your reasons which you deeme for right/correct. On condition that it must be exercised by 6.2.26" شوہر (زید) کی اس پیغام کو بھیجتے وقت شرعی نیت (Intent) شوہر کا مقصد طلاق واقع کروانا یا طلاق کا مطلق اختیار دینا نہیں تھا، بلکہ نکاح کے رشتے کو تحفظ دینا تھا، کیونکہ حدیث پاک کے مطابق: “أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللَّهِ الطَّلَاقُ” (سنن ابی داؤد) لہذا شوہر کی نیت یہ تھی کہ فریقین کی رخصتی (شادی) کی پہلی سالگرہ (6 فروری 2026ء) تک اتنی سخت شرعی شرائط (خوفِ خدا اور حدیث کی تعمیل) عائد کر دی جائیں جن کو پورا کرنا مسمات کے لیے ناممکن ہو، تاکہ وہ طلاق نہ دے پائیں اور صلح کے کئی قرآنی و نبوی مراحل سے گزرنے پر مجبور ہو جائیں۔ اس پیغام کے موصول ہونے کے بعد مسمات ہندہ کو انگریزی عبارت اور اس کی شرعی قیود سمجھنے میں دشواری پیش آئی، جس پر انہوں نے شوہر (صاحبِ الفاظ) سے رابطہ کر کے وضاحت طلب کرنے کے بجائے، جان بوجھ کر ایک تیسرے شخص (عالم دین) سے اس پیغام کا ترجمہ کروایا اور شوہر کو مکمل طور پر اندھیرے میں رکھا۔ اس کے بعد، شادی کی پہلی سالگرہ تک دستیاب مہلت کے باوجود محض 30 گھنٹے کے اندر، بتاریخ 1 فروری 2026ء کو دوپہر 04:39 پر مسمات ہندہ نے ایک 3 صفحات پر مشتمل ”اقرار نامہ“ تحریر کیا اور اس پر دستخط کر کے خود پر ایک طلاقِ رجعی واقع کرنے کا دعویٰ کر دیا۔ تاہم، اسی دستخط شدہ اقرار نامے کے صفحہ نمبر 3 پر مسمات نے یہ تحریر کر کے صلح کے تمام راستے بند کر دیے کہ: ”میں محمد جنید خان سے اور ان کے خاندان سے کسی قسم کا تعلق اور رابطہ نہیں رکھنا چاہتی اور گزارش کرتی ہوں کہ وہ اور ان کے خاندان والے مجھ سے اور میرے خاندان والوں سے رابطہ کر کے پیچھا نہ کریں۔۔۔“ سوال نمبر 1: فقہ حنفی کی رو سے تفویضِ مقید اور نیتِ شوہر کا حکم: فقہ حنفی کا مایہ ناز اصول ”الأمور بمقاصدھا“ (الاشباہ والنظائر) یعنی معاملات میں اصل اعتبار مقاصد اور نیتوں کا ہوتا ہے۔ فتاویٰ شامی (کتاب الطلاق) کے مطابق اگر شوہر تفویضِ طلاق کو کسی صفت یا شرط کے ساتھ مقید کرے، تو وہ ”تفویضِ مقید“ (Restricted Delegation) بن جاتی ہے۔ جب شوہر کی صریح نیت نکاح کو بچانے کے لیے طلاق کے راستے میں کڑی شرائط کی رکاوٹ کھڑی کرنا تھا، اور اس نے اختیار کو "being fearful to Allah" اور "in compliance of Prophet's Hadith" کے ساتھ مقید کیا، تو کیا بیوی ان شرائط کو پامال کر کے یکطرفہ اقدام کر سکتی ہے؟ اگر وہ شرائط پوری نہ کرے تو فقہی قاعدہ ”المعلق بالشرط عدم عند عدم الشرط“ کے تحت یہ تفویض سرے سے لغو اور باطل (Void) ہوگی یا نہیں؟ قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں اس استفتاء کا تفصیلی، مدلل اور مہر بند فتویٰ جاری فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔ تنقیح:(1) میری اہلیہ نے ایک فریقِ ثالث کے ذریعے میرے اس پیغام کا من مانا اور لوز (Loose) ترجمہ کروا کر اپنے اقرار نامے میں اسے "(رسول) کی سنت کے مطابق" لکھا ہے۔ جبکہ میرے صریح انگریزی لفظ 'Compliance' کا درست لغوی اور فقہی مفہوم "احادیث کی تعمیل" (یعنی امتثالِ مادی / حکم کی ظاہری و مادی بجا آوری) تھا۔ اس شرط کو لگانے سے میری نیت طلاق واقع کروانا نہیں تھا، بلکہ انہیں احادیث اور شریعت کے طے شدہ عملی طریقہ کار کا سختی سے پابند کرنا تھا۔ 'احادیث کی تعمیل' (Compliance) کا مادی اور عملی تقاضا یہ تھا کہ: صلح اور خاندانی ثالثی (سورہ النساء آیت 35: فَابْعَثُوا حَکَمًا) کے الٰہی اور نبوی طریقہ کار کو اپنایا جاتا۔ دستیاب مہلت (6 فروری 2026ء) تک غور و فکر اور صلح کے مراحل سے گزرا جاتا۔ لیکن انہوں نے اس مادی 'تعمیل' کے تقاضوں کو یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے ثالثی کے پورے شرعی نظام کو بائی پاس کیا اور پیغام ملنے کے محض 30 گھنٹے کے اندر عجلت میں یکطرفہ کاغذات تیار کر کے اس حق کا استعمال کر لیا۔ یہ عمل میری عائد کردہ شرطِ وصفی (مادی تعمیل) کو توڑنے کے مترادف ہے، اور ان کا کیا گیا ترجمہ میرے الفاظ کی حقیقی فقہی روح کے بالکل برعکس ہے۔ (2)شوہر سےمعلوم کرنے پر معلوم ہوا کہ ان کی عدت تین ماہواری گزرگئی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(1)آپ کی یہ بات درست ہے کہ آپ کی طرف سے بیوی کو دیا گیا اختیار تفویض مقید تھا۔ اس میں آپ نے بیوی کو تین شرائط کے ساتھ اپنے اوپر طلاق واقع کرنے کا اختیار دیا تھا:
- اللہ سے ڈرتے ہوئے طلاق دے،
- حدیث نبوی کی پابندی کرتے ہوئے طلاق دے،
- یہ کہ اس حق کو 6/2/2026تک استعمال کیا جائے، اس تاریخ کے بعد یہ حق ختم ہوجائےگا،
پہلی شرط یعنی خوف الٰہی ایک دلی اور معنوی امر ہے، جس پر اطلاع ممکن نہیں، مزید یہ کہ ایک مسلمان کے بارے میں ظاہر یہی ہے کہ اس کے دل میں ہر وقت اللہ تعالی کا ہر وقت خوف ہوتا ہے۔ چنانچہ بیوی کے اپنے اوپر طلاق واقع کرنے سے یہ استدلال درست نہیں کہ اس کے دل میں اللہ کا خوف نہیں تھا، بلکہ ظاہرکے مطابق ہم یہی کہیں گے کہ یہ شرط موجو د تھی۔
دوسری شرط یعنی حدیثکی پابندی یا موافقت کا ظاہر مفہوم یہ ہے کہ بیوی اپنے آپ کو طلاق حیض کی حالت میں نہ دے، اسی طرح ایسی پاکی کی حالت میں نہ دے جس میں شوہر نے اس کے ساتھ ہم بستری کی ہو؛ کیونکہ یہی وہ حالات ہیں جن میں آپ ﷺ نے طلاق دینے سے منع فرمایا ہے۔ یہ شرط بھی صورت مسؤولہ میں موجود ہے۔
تیسری شرط (یعنی اس حق کا استعمال چھ فروری تک کیا جائے) کا پایا جانا خود آپ کی بات سے واضح ہے کہ بیوی نے یہ حق یکم فروری کو ہی استعال کر لیا تھا۔
جہاں تک آپ کے دعوی کا تعلق ہے کہ آپ کی مراد ان شرائط سے یہ تھی کہ بیوی اللہ اور اس کے رسول ﷺ سےڈرتے ہوئے اپنے آپ کو طلاق نہ دے، بلکہ صلح صفائی کے لئے تیار ہوجائے، تویہ آپ کی صریح تفویضِ طلاق سے متعارض ہے: ایک طرف آپنے بیوی کو اپنے آپ کو طلاق دینے کا اختیار دے دیا اور دوسری طرف آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ کی نیت یہ تھی کہ آپ دونوں کے درمیان جدائی نہ ہو، آپ کا یہ دعوی خود آپ کی صریح تفویض طلاق سے متعارض ہے،لہذا یہ قابل قبول نہیں ہے۔
صورت مسئولہ میں درج بالا تفصیل کی روشنی میں آپ کی طرف سے لگائی گئی ساری شرائط کی موجودگی میں بیوی نے اپنے آپ کو طلاق دی ہے، لہذا وہ طلاق درست ہوگئی تھی۔ پھر چونکہ عدت کے اندر اندر آپ نے درست شرعی طریقہ سے رجوع نہیں کیا (جس کی تفصیل جواب نمبر 8میں آئے گی) ، لہذا عدت گزرنے کے بعد وہ طلاق بائنہ بن چکی ہے۔چنانچہ اب آپ کے لئے رجوع کا کوئی راستہ نہیں ہے، الا یہ کہ میاں بیوی دونوں آپس کی رضامندی سے دوبارہ نئےمہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرنا چاہیں تو شرعا اس میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ جات
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (4/ 78):
قال لم أعن الطلاق مع ذكره لا يصدق قضاء، ويصدق ديانة لأن الله تعالى عالم بما في سره لكن لا يسع المرأة أن تقيم معه لأنها كالقاضي لا تعرف منه إلا الظاهر كذا في المبسوط.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي» (2/ 266):
والمطلقة الرجعية من نسائنا بالنص وهو قوله تعالى {وبعولتهن أحق بردهن} [البقرة: 228].
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (3/ 201):
«لأن الرجعة ليست إنشاء النكاح بل هي فسخ الطلاق ومنعه عن العمل بثبوت البينونة بانقضاء العدة.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (3/ 173):
أما صورته فهي أن يقول لها فئت إليك أو راجعتك، وما أشبه ذلك.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي» (3/ 40):
إذ معتاد الناس في الرجعة أن يرجعوا باللفظ.
الهداية في شرح بداية المبتدي» (2/ 274):
" وإذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء " لقوله تعالى: {والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء} [البقرة: 228].
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (3/ 101):
سمي هذا النوع صريحا؛ لأن الصريح في اللغة اسم لما هو ظاهر المراد مكشوف المعنى عند السامع من قولهم: صرح فلان بالأمر أي: كشفه وأوضحه، وسمي البناء المشرف صرحا لظهوره على سائر الأبنية، وهذه الألفاظ ظاهرة المراد؛ لأنها لا تستعمل إلا في الطلاق عن قيد النكاح فلا يحتاج فيها إلى النية لوقوع الطلاق؛ إذ النية عملها في تعيين المبهم ولا إبهام فيها.
الهداية في شرح بداية المبتدي» (1/ 225):
فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي " لأن هذه الألفاظ تستعمل في الطلاق ولا تستعمل في غيره فكان صريحا وأنه يعقب الرجعة بالنص " ولا يفتقر إلى النية " لأنه صريح فيه لغلبة الاستعمال.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (3/ 306):
الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي» (2/ 197):
باب الطلاق) الطلاق ضربان صريح وكناية فالصريح ما ظهر المراد منه ظهورا بينا حتى صار مكشوف المراد بحيث يسبق إلى فهم السامع بمجرد السماع حقيقة كان أو مجازا ومنه الصرح للقصر لظهوره قال رحمه الله (الصريح هو كأنت طالق ومطلقة وطلقتك) لأن هذه الألفاظ يراد بها الطلاق وتستعمل فيه لا في غيره فكانت صريحا قال رحمه الله (وتقع واحدة رجعية) لقوله تعالى {الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان} [البقرة: 229] فأثبت الرجعة بعد الطلاق الصريح، وقال تعالى {وبعولتهن أحق بردهن} [البقرة: 228] وإنما يكون هو أولى إذا كان النكاح باقيا فدل على بقاء النكاح، وتسميته بعلا أيضا يدل عليه.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (3/ 247):
فما لا يستعمل فيها إلا في الطلاق فهو صريح يقع بلا نية، وما استعمل فيها استعمال الطلاق وغيره فحكمه حكم كنايات العربية في جميع الأحكام.
«درر الحكام شرح غرر الأحكام» (1/ 361):
«الطلاق نوعان صريح وكناية، الصريح عند الأصوليين ما ظهر المراد منه ظهورا بينا حتى صار مكشوف المراد بحيث يسبق إلى فهم السامع بمجرد السماع حقيقة كان أو مجازا (صريحه ما) أي لفظ (لم يستعمل إلا فيه كطلقتك وأنت طالق ومطلقة وطلاق)»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (3/ 308):
«الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا خاص بالصريح في الجملة الأولى: أعني قولهم الصريح يلحق الصريح»
محمدسعید خان آفریدی
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
12/صفر/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد سعید خان آفریدی بن معین خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


