| 91826 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ہمارےوالدصاحب کےانتقال کےبعدہماری جائیدادتقسیم ہوئی اورکل جائیداد 56 لاکھ روپےکی ہوئی، ورثہ میں3بھائی اور7بہنیں اوربیوی زندہ تھیں، توہربہن کےحصےمیں تین،تین لاکھ روپےآئےاورجائیدادتقسیم ہونےکے بعد بھائیوں نے آپس میں مشورہ کرکےیہ طےکیاکہ ہربھائی دو،دو بہنوں کوان کاحصہ اداکرےگا،چنانچہ ایک بھائی نےاپنی دوبہنوں کو اپنےحصےکےپیسےدےکرفارغ کردیااورایک بہن کوماں کےحصے میں (ایک فلیٹ جوکہ ماں کودےدیاتھا)سےدےدیاگیا،جبکہ باقی چاربہنوں کودو بھائیوں نے کوئی حصہ ادانہیں کیااوران دوبھائیوں کےحصےمیں ایک شوروم اورایک دوکان آئی تھی اوراب تقریباً 12سال گزرچکےہیں،جس کی اس وقت قیمت کم تھی،جوبڑھ کرتقریباًڈیڑھ کروڑروپےہوگئی ہےاوران سےکرایہ وغیرہ بھی حاصل ہوتارہاہے۔
اب سوال یہ ہےکہ جن چاربہنوں کوابھی تک حصہ نہیں دیاگیا،کیاانہیں اسی وقت کےحساب سےتقریباً 3،3 لاکھ روپےدےدیےجائیں یاموجودہ قیمت (ڈیڑھ کروڑ)میں سےان کاشرعی حصہ اداکرنالازم ہے؟ نیزاس عرصہ میں حاصل ہونےوالی آمدن(کرایہ وغیرہ)کاکیاحکم ہے؟ اگرپاورآف اٹارنی سٹامپ کی ضرورت ہوتوبھی بھیج سکتاہو ں۔جزاکم اللہ خیرا
تنقیح: سائل سےاستفسارکرنےپرمعلوم ہواکہ بہنوں کوتین،تین لاکھ روپےاورماں کو فلیٹ دینےکافیصلہ بھائیوں نےازخودکیاتھا، بہنوں کواس معاملےکےمتعلق صرف اطلاع دی گئی لیکن انہوں نےاس پررضامندی ظاہرنہیں کی تھی اوروہ اس معاملےپرخاموش رہیں۔اسی طرح تمام عرصہ میں حاصل ہونےوالی آمدن(کرایہ)کےبارےمیں بھی بہنیں خاموش رہیں کیونکہ اس وقت یہ بہت کم رقم بنتی تھی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں بیان کردہ صورت اگرواقع کےمطابق ہےاورحقیقتاًجائیداداس طرح تقسیم ہوئی تھی کہ کل جائیدادکی قیمت چھپن لاکھ ہوگی اوربھائی قیمت کےاعتبارسےبہنوں کوتین،تین لاکھ روپے دیں گےتو ایک مرتبہ ثمن طےپاجانےکےبعدادائیگی میں تاخیرکےسبب اس رقم میں اضافےکامطالبہ کرنےکاحق ان کوحاصل نہیں ہوگا۔اسی طرح جب جائیدادکی قیمت طےکرکےبھائیوں نےلےلی توکرایہ کاحق بھی اس کےبعدبھائیوں کاہوگا۔
حوالہ جات
درر الحكام شرح مجلة الأحكام - العلمية (1/ 162)
الثانية : أن يكون العقار مشتركا بين اثنين لكل منهما النصف مثلا فيبيع أحدهما نصف حصته الشائعة من آخر ففي هاتين الصورتين يصح البيع إلا أنه يشترط عند الطرفين أن يكون المشتري عالما بالحصة وعند الثاني لا يشترط ويصح البيع۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 300)
أن الشركة إذا كانت بينهما من الابتداء، بأن اشتريا حنطة أو ورثاها.كانت كل حبة مشتركة بينهما فبيع كل منهما نصيبه شائعا جائز من الشريك والأجنبي۔
درر الحكام شرح مجلة الأحكام - العلمية (3/ 48)
أما في الشركة الحاصلة بصور الميراث والشراء فلا يوجد سبب لزوال الملك بعد ثبوته للشريكين فيكون ملك كل واحد منهما قائما فله بيع حصته لشريكه وللأجنبي۔
درر الحكام شرح مجلة الأحكام - العلمية (1/ 190)
إذا بيع بنوع من الثمن وقبل أن يؤدي الثمن إلى البائع رخص الثمن أو غلا فليس البائع أو المشتري مخيرا بل المشتري ملزم بأن يدفع الثمن إلى البائع من ذلك النوع والبائع ملزم بقبوله سواء أكان الثمن من النقد الغالب الغش أم الغالب الفضة أم الذهب۔
فیصل حیات بن خان بہادر
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
24/صفرالمظفر/8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | فیصل حیات بن خان بہادر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


