| 91663 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میں یوٹیوب پر AI سے بنائی گئی فرضی (Fictional) کہانیاں اپلوڈ کرنا چاہتا ہوں۔ یہ حقیقی واقعات نہیں ہوتے، بلکہ صرف تفریح اور سبق کے مقصد سے تیار کی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر:بیٹے کا باپ یا ماں سے بدلہ (Revenge Story)،باپ یا ماں کا اپنے بیٹے یا بیٹی سے بدلہ ،والدین کی اپنے بچوں کے ساتھ ناانصافی ، بچوں کی والدین کے ساتھ ناانصافی ،شوہر اور بیوی کے درمیان خاندانی مسائل ، رشتہ داروں کے ظلم، دھوکے، یا ناانصافی پر مبنی سبق آموز کہانیاں۔ان کہانیوں میں فحاشی، جنسی مناظر، گالی گلوچ، یا کسی حقیقی شخص پر جھوٹا الزام نہیں ہوتا۔ ہر ویڈیو میں صرف مرد کی آواز استعمال ہوتی ہے۔ ویڈیو میں صرف قدرتی مناظر؛ جیسے درخت، پھول، پہاڑ، دریا اور دیگر نیچر کی ویڈیوز دکھائی جاتی ہیں۔ کسی عورت کی نہ تصویر دکھائی جاتی ہے، اور نہ ہی اس کی آواز استعمال کی جاتی ہے۔
میں ہر ویڈیو کی ڈسکرپشن (Description) میں واضح طور پر لکھوں گا:"یہ کہانی فرضی (تخیلی) ہے اور صرف تفریحی مقاصد کے لیے تیار کی گئی ہے۔ یہ کسی تصدیق شدہ حقیقی واقعے پر مبنی نہیں ہے"۔
“This story is fictional and created for entertainment purposes only. It is not based on a verified real event”.
مزید یہ کہ میں یوٹیوب اسٹوڈیو (YouTube Studio) میں ڈیٹنگ (Dating) اور الکحل (Alcohol) جیسی حساس اشتہاری کیٹیگریز کو بھی بلاک کر دوں گا، تاکہ ایسے اشتہارات نہ آئیں۔
میرے سوالات یہ ہیں:
- کیا ایسی فرضی AI کہانیاں یوٹیوب پر اپلوڈ کرنا شرعاً جائز ہے؟
- کیا ان ویڈیوز سے حاصل ہونے والی یوٹیوب کی کمائی حلال ہوگی؟
- اگر میں ڈیٹنگ اور الکحل کے اشتہارات بلاک کر دوں، تو کیا اس کمائی میں شرعاً کوئی حرج باقی رہتا ہے؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1واضح رہے کہ اے آئی (AI) سے تصاویر، ویڈیوز یا کارٹون بنوانا جائز ہےبشرطیکہ وہ موسیقی، بے حیائی، یا دیگر شرعی ممنوعات پر مشتمل نہ ہوں۔ اگر ان میں موسیقی کا استعمال کیا جائے یا وہ کارٹون ایسے ہوں جن میں عریانیت، فحاشی، یا غیر محرم کی تصاویر شامل ہوں، تو ان کا بنوانا ناجائز ہے۔
اس تمہید کے بعد واضح رہے کہ اگر آپ اے آئی (AI) کے ذریعے ایسے کارٹون یا ویڈیوز تیار کروائیں جن میں نہ موسیقی ہو، نہ بے حیائی یا غیر محرم کی تصاویر، نہ ہی کوئی اور شرعی ممنوع پہلو پایا جائے، شکل بگاڑنے سے بھی اجتناب برتا جائے اورفرضی آوازیں ادا کروائی جائیں، تو ایسی ڈیجیٹل ویڈیوز بنا نا شرعاً جائز ہے،اور اسے یوٹیوب پر اپلوڈ کرنابھی جائز ہو گا ، بشرطیکہ ان کا مقصد کسی شرعی ضرورت یا معتبر دینی یا دنیوی مصلحت پر مبنی ہو۔ نیز یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ یہ اجازت صرف ڈیجیٹل استعمال تک محدود ہے، ایسی تخلیقات کو پرنٹ کرنا جائز نہیں۔
:2یوٹیوب کی کمائی کا حکم
یوٹیوب چینل سے حاصل ہونےوالی کمائی درج ذیل شرائط کے ساتھ جائزہے:
۱۔ چینل کسی جائز مقصد(دعوتی، تعلیمی ، اصلاحی مقاصد) کےلیےبنایاگیاہو۔
۲۔ چینل میں کسی قسم کی خلاف شرع ویڈیوزاور مواد اپلوڈ نہ کیا جاتاہو۔
۳۔ اپنے چینل میں ایسےاشتہارات کوفلٹرزکردیاجائےجوخلاف شرع ہوں (یعنی خلاف شرع اشتہارات نہ چلتے ہوں مثلاً: نامحرم کی تصاویر یا میوزک وغیرہ) ۔
۴۔ کسی جائز کاروباریاپروڈکٹ سےمتعلق اشتہارات چلتےہوں۔
۵ ۔ اشتہارات کی کیٹگریزفلٹر کرنے اور احتیاط کےباوجود گوگل کی طرف سے مالک کی رضامندی کےبغیراگرخلاف شرع یاناجائز کاروباراور پروڈکٹ کےاشتہارات چلائی گئی ہوں،توریویو سینٹر میں اشتہارات کاجائزہ لے کر ناجائز اشتہارات کی آمدن صدقہ کر دی جائے۔
مذکورہ شرائط کی رعایت رکھتے ہوئے یوٹیوب سے حاصل ہونےوالی انکم اور کمائی حلال ہے۔
حوالہ جات
القرآن الکریم ( المائدہ: (120:
وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۔
فقہ البیوع314/1):)
ولكن معظم استعمال التلفزيون في عصرنا في برامج لاتخلو من محظور شرعی ، وعامة المشترين يشترونه لهذه الأغراض المحظورة، من مشاهدة الأفلام والبرامج الممنوعة ، وإن كان هناك من لا يقصد به ذلك . فبما أن استعماله في مباح ممكن ، فلا نحكم بالكراهة التحريمية في بيعه مطلقاً ، إلا إذا تعين بيعه لمحظور ، ولكن نظراً إلى معظم استعماله لا يخلو من كراهة تنزيهية . وعلى هذا ، فينبغي أن يتحوط المسلم في اتخاذ تجارته مهنة له في الحالة الراهنة ، إلا إذا هيأ الله سبحانه جواً يتمحض أويكثر فيه استعماله المباح .
تكملة فتح الملهم (4 / 162):
أما التلفزون و الفديو فلا شك في حرمة استعمالهما بالنظر إلى ما يشتملان عليه من المنكرات الكثيرة من الخلاعۃ والمجون ، والکشف عن النساء المتبرجات او العاریات ، و ما الی ذلک من اسباب الفسوق ،ولکن ھل یتاتی فیھما حکم التصویر بحیث اذا کان التلفزیون او الفیدیو خالیا من ھذہ المنکرات باسرھا ، ھل یحرم بالنظر الی کونہ تصویرا؟ فان لھذا العبد الضعیف ۔عفااللہ عنہ۔ فیہ وقفۃ : وذلک لان الصورۃ المحرمۃ ما کانت منقوشۃ او منحوتۃ بحیث یصبح لھا صفۃ الاستقرار علی شیء ،وھی الصورۃ التی کان الکفار یستعملونھا للعبادہ ،أما الصورة التي ليس لها ثبات و استقرار و ليست منقوشة على شيئ بصفة دائمة فانها بالظل اشبه منها بالصورة و يبدوا أنَّ صورة التلفزون و الفديو لا تستقر على شيئ في مرحلة من المراحل.
محمد ابراہیم قریشی بن عبدالرزاق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
17/صفر المصفر /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابرہیم قریشی بن عبد الرزاق | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


