| 91932 | نماز کا بیان | امامت اور جماعت کے احکام |
سوال
دوسرا سوال یہ ہے کہ یہاں میں نے ظہر کی فرض نماز سے پہلے چار رکعت سنت شروع کیں، کیونکہ مجھے لگا کہ جماعت شروع ہونے میں کافی وقت ہے۔ لیکن یہاں لوگ اچانک آ جاتے ہیں اور جماعت شروع کر دیتے ہیں۔ وہ جماعت کے مقررہ وقت کی سختی سے پابندی نہیں کرتے۔ چنانچہ میں نے دو رکعت سنت پڑھ کر سلام پھیر دیا اور پھر جماعت میں شامل ہوگیا۔ کیا حنفی فقہ کے مطابق ایسا کرنا درست ہے، یا مجھے پہلے چار رکعت سنت مکمل کرنی چاہئیں تھیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ظہر سے پہلے والی سنتیں پڑھنے کے دوران اگر جماعت کھڑی ہوجائے ،تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر جماعت نکلنے کا ڈر نہ ہو تو ان سنتوں کو مکمل کیا جائے ، اور اس کے بعد جماعت کی نماز میں شامل ہو ۔ لیکن اگر دو رکعتیں پڑھنے کے بعد سلام پھیر لیا اور جماعت میں شامل ہوگیا تو یہ بھی جائز ہے، لیکن پورا کرنا بہتر تھا۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (2/ 53):
(والشارع في نفل لا يقطع مطلقا) ويتمه ركعتين (وكذا سنة الظهر و) سنة (الجمعة إذا أقيمت أو خطب الإمام) يتمها أربعا (على) القول (الراجح) لأنها صلاة واحدة،
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي(1/ 472):
ولو كان في السنة قبل الظهر والجمعة فأقيم أو خطب يقطع على رأس الركعتين، يروى ذلك عن أبي يوسف رحمه الله، وقد قيل يتمها
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 120):
ولو كان في السنة قبل الظهر والجمعة فأقيم أو خطب يقطع على رأس الركعتين يروى ذلك عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - وقد قيل: يتمها، كذا في الهداية وهو الأصح، كذا في محيط السرخسي وهو الصحيح، هكذا في السراج الوهاج.
وسیم اکرم بن محمد ایوب
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
26/ربیع الاول /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | وسیم اکرم بن محمد ایوب | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


