| 92093 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میں اپنی زندگی کے حوالے سے ان حضرات سے رہنمائی چاہتا ہوں جو دینی اور دنیاوی دونوں معاملات میں علم و تجربہ رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے مجھے بچپن سے اچھی صحت اور جسمانی طاقت عطا فرمائی تھی۔ مارشل آرٹس، جم اور باڈی بلڈنگ کا شوق تھا، لیکن جوانی میں بعض حادثات کی وجہ سے یہ سب چھوڑنا پڑا۔
اسی دوران گھریلو و کاروباری مشکلات، والد صاحب کی پریشانیوں اور بعض رشتہ داروں کی طرف سے جائز حقوق نہ ملنے کے سبب غربت، جسمانی تشدد اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا، جس نے میری شخصیت پر گہرا اثر ڈالا۔
میری خواہش تھی کہ حلال مال کما کر گھر والوں کو اچھی زندگی دوں، خود بھی باعزت زندگی گزاروں اور ضرورت مندوں کی مدد کروں۔ اسی نیت سے کامیاب کاروباری بننے کا ہدف بنایا، لیکن حالات کے باعث کئی سال اس پر توجہ نہ دے سکا۔اب شادی، گھر کے اخراجات اور مستقبل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بہت زیادہ محنت کر رہا ہوں، حتیٰ کہ نیند پوری نہ ہونے سے صحت متاثر اور سر میں درد رہنے لگا ہے۔ میری خواہش ہے کہ وسعتِ رزق ملنے پر گھر والوں کی خدمت، حج و عمرہ اور صدقہ و خیرات کی توفیق حاصل ہو۔
آج 28 سال کی عمر میں ماضی کی محرومیوں کا غم اور مستقبل کی فکر ہے۔ ساتھ ہی یہ سوال بھی پریشان کرتا ہے کہ نوجوانی میں اپنی طاقت پر فخر کرنا کہیں غرور تو نہیں تھا؟ اور کیا ممکن ہے کہ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے میری طاقت، شوق اور مالی اہداف میں رکاوٹیں پیدا فرمائیں؟میں چاہتا ہوں کہ شریعت کی روشنی میں اپنی زندگی کے بارے میں صحیح رہنمائی حاصل کروں۔میرے سوالات درجہ ذیل ہیں:
1۔کیا کمائی کی ایک مناسب حد مقرر کرنا شرعاً درست ہے یعنی اتنا کمانا کہ صحت متاثر نہ ہو، والدین و گھر والوں کو اچھا رکھ سکوں، شادی کر سکوں، بیوی بچوں کی مستقبل کی ضروریات پوری ہوں، اور آمدنی کا ایک حصہ (مثلاً 10 فیصد) باقاعدگی سے صدقہ کروں؟ کیا اس میں کوئی گناہ ہے؟
2۔اسلام اور شریعت کی روشنی میں زندگی، کاروبار، صحت، عبادت، خاندان اور صدقہ کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے کیا صرف مال کمانا زندگی کا بڑا ہدف بنانا درست ہے یا سب پہلوؤں کو متوازن رکھنا چاہیے؟
3۔کیا گزرے ہوئے 28 سالوں کی محرومیوں پر غم کرتے رہنا چاہیے، یا اب باقی زندگی بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے؟ ان محرومیوں کے غم سے کیسے نکلا جائے، اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ کیسے پیدا کیا جائے، اور اسلام کی روشنی میں اب سب سے اہم ترجیحات کیا ہونی چاہئیں؟
4قرآن و سنت کی روشنی میں انسان یہ کیسے پہچانے کہ زندگی میں آنے والی مشکلات محض آزمائش ہیں، کسی گناہ کا کفارہ ہیں، تنبیہ ہیں، یا کسی اور حکمت کے تحت ہیں؟
5۔کیا نوجوانی میں طاقت پر فخر کرنا غرور و تکبر شمار ہوگا؟ اگر ایسی کوئی کوتاہی ہوئی ہو تو اس کی توبہ کس طرح کی جائے؟ نیز، کیا سابقہ اہداف (صحت، طاقت، حلال رزق، خدمتِ خلق) کے حصول کے لیے دوبارہ کوشش جاری رکھی جائے، یا انہیں کسی مختلف ترتیب سے اپنایا جائے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔ اسلام میں اعتدال (میانہ روی) ایک بنیادی اصول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کی صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ خرچ کرتے وقت نہ اسراف کرتے ہیں نہ بخل، بلکہ اس کے درمیان اعتدال پر رہتے ہیں۔ یہی اصول کمانے میں بھی اپنانا چاہیےاور رزق کی تلاش میں افراط و تفریط سے بچنا چاہیے۔
لہذا اگر آپ اتنی کمائی کریں ، جس سےآپ کی صحت بھی متاثر نہ ہو، اہلِ خانہ کے حقوق و اپنی ضروریات پوری ہوں، اگر کچھ بچ جائے تو صدقہ کریں ۔ یہ عمل بالکل درست اور شرعاپسندیدہ ہے۔ اس میں کوئی گناہ نہیں۔
چونکہ زکوٰۃ کا اپنا نصاب( ڈھائی فیصد) مقررہے۔ نفلی صدقہ کی کوئی خاص شرعی حد متعین نہیں ،لہذاجتنا آسانی و سہولت سے ممکن ہو اتنا صدقہ کر دیا جائے خاص مقدار اپنے ذمہ لازم نہیں کرنی چاہیے ۔
2۔ صرف مال کمانا زندگی کا ہدف بنانا درست نہیں ہے بلکہ اپنی زندگی میں کاروبار، صحت، عبادت، خاندان اور صدقہ وغیرہ سب میں توازن رکھناچاہیے شریعتِ اسلامیہ کا مزاج ہی توازن اور اعتدال پر مبنی ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ(فدنا أبو الدرداء ليخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم بالذى أمره سلمان، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا أبا الدرداء، إن لجسدك عليك حقا مثل ما قال لك سلمان". رواه البخاري في "الصحيح" عن بندار عن جعفر بن عون.)
ترجمہ : نبی کریم ﷺ نے فرمایا" تمہاری جان کا تم پر حق ہے ،تمہارے رب کا تم پر حق ہے، تمہارے گھر والوں کا تم پر حق ہے پس ہر حق والے کو اس کا حق ادا کرو"۔
عملی طور پر توازن کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہےکہ دن کا کچھ حصہ عبادت و ذکر کے لیے، کچھ حصہ کاروبار کے لیے اس طرح کچھ حصہ مناسب نیند اور آرام کے لیے اور اپنے اہل وعیال کے لیے مقرر کرلیں۔
3۔آپ اپنی حال اور مستقبل کی زندگی پر توجہ دیں اللہ تعالی کی ملی ہوئی نعمتوں پر شکر کریں ۔28 سال ابھی جوانی کی عمر ہےجو کچھ گزر چکا ہے مسلسل اس کے غم میں رہنے کا نہ دینی فائدہ ہے اور نہ دنیاوی۔ ماضی کے غموں اور پریشانیوں کو ذہن پر مستقل حاوی کرنا نقصان دہ ہے۔
تاہم ان پریشانیوں سے نکلنے کے لیے اور اللہ تعالی پر کامل بھروسہ پیدا کرنے کے لیے کثرت سے ذکر و استغفار کریں اور اپنی تکلیفیں اللہ کے سامنے رکھیں اور جن رشتہ داروں نے ظلم کیا ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں ۔
4۔ہر مشکل کو فوری طور پر اپنے کسی مخصوص گناہ سے جوڑ دینا درست نہیں ہے ۔بلکہ مومن کی ہر تکلیف چاہے اس کی وجہ واضح ہو یا نہ ہو اس کے گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ چناچہ حدیثِ مبارکہ میں ہےکہ: مومن کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے حتی کہ کانٹا بھی چبھےتواللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کی خطائیں معاف فرما دیتے ہیں۔
عذاب اور آزمائش کے درمیان فرق کے لیے علماء كرام نے یہ اصول بتایاہے کہ:
اگر کوئی انسان تکالیف اور آزمائش میں مبتلاہونے کے بعد اللہ کی طرف رجوع کرنا چھوڑدے، اور تکلیف کے نتیجے میں وہ اللہ کی قضاءو قدر کا شکوہ کرے،اور اللہ کی طرف سے دیے گئے احکامات چھوڑدے، اور اللہ سے قربت کے بجائےدوری پیداہو تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ تکلیف اللہ کی طرف سےعذاب ہے۔
اور اگر انسان تکالیف اور مشکلات آنے پر اللہ کی طرف رجوع کر رہا ہو ،اور اس پر استغفار کر رہا ہو، اور تکالیف وآزمائشوں پر صبر کرکےاللہ سے اجر و ثواب کا امید وار ہوتو یہ اللہ کی طرف سے آزمائش ہو گی۔
5۔طاقت یا کسی بھی نعمت پر خوش ہونا بذاتِ خود غرور یا تکبر نہیں۔ بلکہ تکبر تب ہے کہ جب انسان اس نعمت کی بنا پر دوسروں کو حقیر و کمتر سمجھے یا تکبر کے ساتھ پیش آئے۔اگر آپ دوسروں کو حقیر و کمتر نہیں سمجھتے تھے بلکہ صرف اپنی طاقت پر فخر اور خوشی محسوس کر رہے تھے تو یہ جائز ہے اور اپنی کسی نعمت پر خوش ہونا شکر کی ایک صورت ہے ۔البتہ اگر واقعی آپ اپنے کسی فعل یا قول سے تکبر سے پیش آتے تھے تو اس پر توبہ و استغفار کریں اور آئندہ ایسے رویے سے اجتناب کریں اور نعمتوں پر تکبر کے بجائے شکر کا رویہ اپنائیں۔
تاہم آپ کے اہداف (صحت، طاقت، حلال رزق، خدمتِ خلق، قربتِ الٰہی) سب مستحسن ہے ان میں کوئی قباحت نہیں ، اس لیے ان کو برقرار رکھیں۔البتہ ان کے حصول میں اعتدال اور صحیح ترتیب اپنائیں ۔
حوالہ جات
"وَٱلَّذِينَ إِذَآ أَنفَقُواْ لَمۡ يُسۡرِفُواْ وَلَمۡ يَقۡتُرُواْ وَكَانَ بَيۡنَ ذَٰلِكَ قَوَامٗا" [الفرقان: 67]
السنن الكبيرللبيهقي (9/ 50 ت التركي):
عن عون بن أبي جحيفة، عن أبيه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم آخى بين سلمان وبين أبى الدرداء. قال: فجاءه سلمان يزوره، فإذا أم الدرداء [متبذلة، فقال: ما شأنك يا أم الدرداء؟ قالت: إن أخاك أبا الدرداء يقوم الليل ويصوم النهاروليس له في شئ من الدنيا حاجة. فجاء أبو الدرداء فرحب به وقرب إليه طعاما، فقال له سلمان: اطعم. قال: إني صائم. قال: أقسمت عليك لتفطرنه. قال: ما أنا بآكل حتى تأكل. فأكل معه، ثم بات عنده فلما كان من الليل أراد أبو الدرداء أن يقوم فمنعه سلمان، وقال له: يا أبا الدرداء إن لجسدك عليك حقا، ولربك عليك حقا، ولأهلك عليك حقا، صم وأفطر، وصل وأت أهلك، وأعط كل ذى حق حقه. فلما كان في وجه الصبح قال: قم الآن إن شئت. قال: فقاما فتوضآ ثم ركعا ثم خرجا إلى الصلاة، فدنا أبو الدرداء ليخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم بالذى أمره سلمان، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا أبا الدرداء، إن لجسدك عليك حقا مثل ما قال لك سلمان". رواه البخاري في "الصحيح" عن بندار عن جعفر بن عون.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح(3/ 1142):
وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن عظم الجزاء، مع عظم البلاء، وإن الله عز وجل إذا أحب قوما ابتلاهم، فمن رضي فله الرضا، ومن سخط فله السخط". رواه الترمذي، وابن ماجه (وعنه) أي: عن أنس. (قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن عظم الجزاء) : بضم العين وسكون الظاء، وقيل بكسر ثم فتح أي: عظمة الأجر وكثرة الثواب مقرون. (مع عظم البلاء) : كيفية وكمية، جزاء وفاقا، وأجرا طباقا. (وإن الله عز وجل إذا أحب) أي: إذا أراد أن يحب. (قوما ابتلاهم) : فإن البلاء للولاة، والابتلاء للأولياء. (فمن رضي) أي: بالبلاء. (فله الرضا) أي: فليعلم أن له الرضا من المولى، أو فيحصل له الرضا في الآخرة والأولى، قيل: رضا العبد محفوف برضاءين لله تعالى سابقا ولاحقا، وأنا أقول: إنما اللاحق أثر السابق، والله أعلم بالحقائق. (ومن سخط) : بكسر الخاء أي: كره بلاء الله، وفزع ولم يرض بقضائه. (فله السخط) : من الله أولا والغضب عليه آخرا. واعلم أن الرضا والسخط حالان متعلقان بالقلب، فكثير ممن له أنين من وجع وشدة مرض وقلبه مشحون من الرضا والتسليم لأمر الله. هذا وقال الطيبي: قوله: إذا أحب الله قوما ابتلاهم جميعا، وحذف ذكر أحد الفريقين لدلالة التفصيل عليه ; لأن الفاء في فمن تفصيلية، والتفصيل غير مطابق للمفصل ; لأن المفصل يشتمل على فريق واحد وهو أهل المحبة، والتفصيل على فريقين: أهل الرضا، وأهل السخط. قال ميرك: أقول: وللحديث محمل آخر، وهو أن نزول البلاء علامة المحبة فمن رضي بالبلاء صار محبوبا حقيقيا له تعالى، ومن سخط صار مسخوطا عليه، تأمل."
إكمال المعلم بفوائد مسلم(1/ 359):
عن إبراهيم النخعى، عن علقمة، عن عبد الله بن مسعود، عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: " لا يدخل الجنة من كان فى قلبه مثقال ذرة من كبر ". قال رجل: إن الرجل يحب أن يكون ثوبه حسنا ونعله حسنة. قال: " إن الله جميل يحب الجمال. الكبر بطر الحق وغمط الناس ".
الجامع المسند الصحيح(5/ 176):
عروة، عن عائشة، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما من مرض أو وجع يصيب المؤمن إلا كان كفارة لذنوبه، حتى الشوكة يشاكها أو النكبة ينكبها.
ابن امین صاحب دین
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
03/ربیع الثاني/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ابن امین بن صاحب دین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


