| 92504 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
۔ یوٹیوب پر میرا ایک یوٹیوب چینل ہے، جس کا کونٹینٹ ٹیکنیکل ایشوز کے متعلق ہے۔ کیا اس سے مجھے جو پیسے ملتے ہیں، وہ شرعی لحاظ سے حلال ہیں؟
2۔ یوٹیوب کی اسی ویڈیوز پر چلنے والے ایڈز سے جو مجھے پیسے ملتے ہیں، کیا وہ شرعی لحاظ سے حلال ہیں؟
3۔ فیس بک پیج بنا کر نان مسلمز کا کونٹینٹ کاپی کرنا (بغیر اجازت کے) اور اسے اپنے پیجز پر چلا کر پیسے کمانا کیسا ہے؟
نوٹ: غیر مسلمز کا ایسا کونٹینٹ جس سے فحاشی پھیلنے کا خطرہ نہ ہو۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔ واضح رہے کہ یوٹیوب چینل کے ذریعے ویڈیوز چلا کر کمائی درج ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے:
(1) ویڈیوز خواتین کی تصاویر، میوزک اور دوسرے شرعی منکرات پر مشتمل نہ ہوں۔
(2) جو ویڈیوز اپلوڈ کی جائیں، وہ صرف جائز اور فائدہ مند معلومات پر مشتمل ہوں۔
(3) اگر ویڈیوز میں کسی کاروبار یا کسی اسکیم کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہوں تو وہ کاروبار یا اسکیم شرعاً جائز ہونا چاہیے۔
لہٰذا مذکورہ صورت میں، چونکہ آپ کی ویڈیوز کا مواد ٹیکنیکل ایشوز سے متعلق ہے، اس لیے اگر آپ کو بذات خود ان ویڈیوز کو آپ لوڈ کرنے سے کمائی ہوتی ہے تو اس کی کمائی درجہ بالا شرائط کی پابندی کے ساتھ حلال ہے،۔
2۔ ویڈیو میں چلنے والے اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدنی درج ذیل شرائط کے ساتھ جائز و حلال ہے:
(1) جس کاروبار کا اشتہار ہو، وہ کاروبار جائز ہو؛ لہٰذا جو کاروبار ناجائز و حرام ہیں، ان کے اشتہارات کو فلٹر اور بلاک کر دیا جائے۔
(2) اشتہار بذاتِ خود بھی ناجائز مواد سے خالی ہو؛ لہٰذا اگر فلٹریشن اور احتیاط کے بعد بھی کسی ناجائز کاروبار کا اشتہار لگ جائے، یا جائز کاروبار کا کوئی ایسا اشتہار لگ جائے جو ناجائز مواد پر مشتمل ہو اور چینل کے مالک کی اس پر رضامندی اور اجازت شامل نہ ہو، تو ریویو سینٹر میں اشتہارات کا جائزہ لے کر ناجائز اشتہارات کی آمدن صدقہ کرے۔
(3) گوگل اور چینل کے مالک کے درمیان طے شدہ شرائط پر مکمل عمل کیا جائے۔
3۔ واضح رہے کہ کسی غیر مسلم کے ایسے مواد کو، جس کے حقوقِ اشاعت اس کے پاس محفوظ ہوں، اس کی اجازت کے بغیر کاپی کرکے اپنے فیس بک پیج پر نشر کرنا اور اس سے مالی منفعت حاصل کرنا شرعاً جائز نہیں؛ کیونکہ حقوقِ اشاعت شرعاً معتبر حق ہیں اور ان کی اجازت کے بغیر خلاف ورزی کرنا درست نہیں۔
البتہ اگر صاحبِ مواد نے اس کے استعمال اور دوبارہ نشر کرنے کے حقوق محفوظ نہ کیے ہوں، تو اس صورت میں اجازت کی حدود کے اندر اسے نشر کرنا درست ہے۔
حوالہ جات
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (6/ 348):
«قال ابن مسعودصوت اللهو والغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء النبات. قلت: وفي البزازية استماع صوت الملاهي كضرب قصب ونحوه حرام لقوله عليه الصلاة والسلام «استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر» أي بالنعمة فصرف الجوارح إلى غير ما خلق لأجله كفر بالنعمة لا شكر فالواجب كل الواجب أن يجتنب كي لا يسمع لما روي «أنه عليه الصلاة والسلام أدخل أصبعه في أذنه عند سماعه»
فقہ البیوع314/1):)
«ولكن معظم استعمال التلفزيون في عصرنا في برامج لاتخلو من محظور شرعی ، وعامة المشترين يشترونه لهذه الأغراض المحظورة، من مشاهدة الأفلام والبرامج الممنوعة ، وإن كان هناك من لا يقصد به ذلك . فبما أن استعماله في مباح ممكن ، فلا نحكم بالكراهة التحريمية في بيعه مطلقاً ، إلا إذا تعين بيعه لمحظور ، ولكن نظراً إلى معظم استعماله لا يخلو من كراهة تنزيهية . وعلى هذا ، فينبغي أن يتحوط المسلم في اتخاذ تجارته مهنة له في الحالة الراهنة ، إلا إذا هيأ الله سبحانه جواً يتمحض أويكثر فيه استعماله المباح»
اسداللہ بن قوت خان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
23/ ربیع الثانی /8144 ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسداللہ بن قوت خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


