03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر کی طرف سے بیوی کو طلاق کی پیشکش کا حکم
92029طلاق کے احکامکسی کو طلاق واقع کرنے کا حق دینے کا بیان

سوال

اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہے کہ:"آپ میرے ساتھ خوش نہیں ہیں اور نہ ہی زندگی گزارنا چاہتی ہیں، تو بتا دیں، میں آپ کو طلاق دے رہا ہوں۔ آپ طلاق لے لیں اور الگ رہیں۔"

جس پر بیوی کہے کہ: "میں طلاق قبول نہیں کرتی"، اور وہ کہے کہ: "میں ساتھ رہوں گی"، تو کیا ایسی صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 

واضح رہے کہ مذکورہ صورت میں ظاہری الفاظ سے شوہر کی طرف سے طلاق کی پیشکش  معلوم ہوتی ہے، جسے عورت نے رد کر دیا ہے، لہٰذا محض اس پیشکش سے طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔تاہم اس کے علاوہ اگر شوہر کسی اور نیت کا اظہار کرے تو اس پر غور کیا جاسکتا ہے۔

حوالہ جات

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 382):

«وفي الفتاوى رجل قال لامرأته: اكر تو زن مني سه طلاق مع حذف الياء لا يقع إذا قال لم أنو الطلاق لأنه لما حذف لم يكن مضيفا إليها امرأة طلبت الطلاق من زوجها فقال لها سه طلاق بر دارو رفتي لا يقع ويكون هذا تفويض الطلاق إليها وإن نوى يقع ولو قال لها سه طلاق خود بر دارو رقتي يقع بدون النية»

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 382):

«رجل دعا امرأته إلى الفراش فأبت فقال لها اخرجي من عندي فقالت طلقني حتى أذهب فقال الزوج اكرا رزوي تو جنين است جنين كير فلم تقل شيئا وقامت لا تطلق كذا في المحيط.»

اسداللہ بن قوت خان

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

   9/ ربیع الثانی /8144 ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسداللہ بن قوت خان

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب