| 92126 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
ایک خاتون تقریباً پانچ ماہ کے حمل سے ہے۔ الٹراساؤنڈ کی رپورٹ کے مطابق بچے کے سر کا حجم طبعی مقدار سے کم ہے اور بچے کے دماغ میں پانی بھی جمع ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق بچے کی یہ کیفیت ناقابلِ علاج ہے اور پیدائش کے بعد اس کے دائمی طور پر مفلوج اور معذور رہنے کا قوی امکان ہے۔ اسی بنا پر ڈاکٹر حمل کو ضائع کرنے (اسقاطِ حمل) کا مشورہ دے رہے ہیں۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ صورتِ حال میں شرعاً حمل کو ضائع کروانا جائز ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ چار ماہ پورے ہونے سے پہلے کسی معتبر عذر کی بنا پر حمل کو ساقط کرنا جائز ہے، اور بلاعذر مکروہ ہے۔ البتہ بلاعذر اسقاطِ حمل میں نہ عورت پر کوئی دیت وغیرہ ہے، نہ قتل کا گناہ؛ کیونکہ یہ کامل انسان پر جنایت نہیں البتہ مکروہ کام کرنے کی وجہ سےعورت گناہ گار ہوگی۔ لیکن چار ماہ (120 دن) پورے ہونے کے بعد حمل کو ساقط کرنا ہرگز جائز نہیں، سوائے ایک صورت کے کہ ماہر، دیندار ڈاکٹر اپنے غالب گمان سے بتائے کہ اس بچے کی وجہ سے ماں کی جان کوشدید خطرہ ہے؛ لہٰذا ایسی صورت میں ماں کی جان کو بچایا جائے گا اور حمل کو ساقط کیا جائے گا۔لہٰذا مذکورہ صورت میں اس بنا پر پانچ ماہ بعد حمل ساقط کرنا کہ بچہ معذور پیدا ہوگا، بالکل جائز نہیں۔بلکہ بعض اوقات طبی تشخیص کے برخلاف بھی صورتِ حال سامنے آتی ہے اور ایسے بچے توقع کے برخلاف صحت مند پیدا ہوتے ہیں۔
یاد رکھا جائے کہ صحت اور بیماری اللہ کے ہاتھ میں ہے؛ لہٰذا ایسی صورت میں اللہ کی طرف توجہ کی جائے، بچے کی صحت کے لیے دعا کی جائے، اور استغفار و صدقہ کا خاص اہتمام کیا جائے۔
حوالہ جات
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (3/ 176):
«مطلب في حكم إسقاط الحمل
(قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في الفتح، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج. وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه لأنه أصل الصيد فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها اهـ قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه. ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لا تأثم إثم القتل اهـ. وبما في الذخيرة تبين أنهم ما أرادوا بالتحقيق إلا نفخ الروح، وأن قاضي خان مسبوق بما مر من التفقه، والله تعالى الموفق اهـ كلام النهر ح.
«مجلة مجمع الفقه الإسلامي» (5/ 93):
«ولقد حرمت شريعة الإسلام الإجهاض – وهو قتل الجنين في بطن أمه – تحريمًا قاطعًا، ولم تبحه – كما سبق أن أشرنا – إلا إذا حكم الطبيب الثقة بأن بقاء هذا الجنين سيؤدي إلى هلاك الأم أو إلحاق ضرر محقق بها. وقال فضيلة الإمام الأكبر الشيخ محمود شلتوت ما ملخصه: (اتفق الفقهاء على أن إسقاط الحمل بعد نفخ الروح فيه – وهو كما يقولون لا يكون إلا بعد أربعة أشهر – حرام وجريمة لا يحل لمسلم أن يفعله لأنه جناية على حي متكامل ولكنهم قالوا: إذا ثبت من طريق موثوق به أن بقاءه بعد تحقيق الحياة هكذا يؤدي لا محالة إلى موت الأم فإن الشريعة بقواعدها العامة تأمر بارتكاب أخف الضررين، وهو إسقاط هذا الحمل، أما إسقاطه قبل نفخ الروح فيه – أي قبل إتمام أربعة أشهر كما يقولون – فقد اختلفوا فيه فرأى فريق أنه جائز ولا حرمة فيه، ورأى آخرون أنه حرام أو مكروه) .»
اسداللہ بن قوت خان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
10/ ربیع الثانی /8144
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسداللہ بن قوت خان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


