| 92407 | شرکت کے مسائل | شرکت متناقصہ کا بیان |
سوال
سال 2015ء میں وراثت کی تقسیم کے وقت ایک دکان پانچ افراد، جن میں تین بہنیں اور دو بھائی شامل تھے، کی مشترکہ ملکیت میں آئی۔ تینوں بہنوں کا حصہ 8.33 فیصد فی کس تھا، جبکہ باقی حصہ دونوں بھائیوں کا تھا۔
اسی سال باہمی رضامندی سے یہ معاہدہ ہوا کہ دونوں بھائی تینوں بہنوں کے حصص خرید لیں گے۔ اس وقت دکان کی مجموعی مالیت 9 کروڑ روپے مقرر کی گئی، اور اسی حساب سے ہر بہن کے حصے کی قیمت تقریباً 75 لاکھ روپے طے ہوئی، جو تین سال کے اندر ادا کرنا تھی۔
معاہدے میں یہ بھی طے ہوا تھا کہ جس بہن کو جتنی رقم ادا کی جاتی جائے گی، اتنا ہی اس کا حصہ کم ہوتا جائے گا، اور جس بہن کا جتنا حصہ باقی ہوگا، اس کے تناسب سے بھائی اس حصے کا کرایہ بہنوں کو ادا کریں گے، کیونکہ دکان بھائی استعمال کر رہے ہوں گے۔
مزید یہ کہ تیسری بہن نے معاہدے کے وقت یہ بھی کہا تھا کہ مجھے جب بھی رقم دی جائے، ایک ساتھ دی جائے؛ تھوڑی تھوڑی ماہانہ ادائیگی نہ کی جائے۔
یہ تین سالہ معاہدہ تمام بہن بھائیوں کی باہمی رضامندی سے ہوا تھا اور سب اس پر متفق تھے۔
ادائیگی کی صورتِ حال یہ رہی:
1. ایک بہن کو تقریباً ساڑھے تین سال کے عرصے میں مکمل تقریباً 75 لاکھ روپے ادا کر دیے گئے۔
2. دوسری بہن کو آج تک تقریباً نصف رقم ادا کی گئی ہے۔
3. جبکہ تیسری بہن کو آج تک کوئی رقم ادا نہیں کی گئی۔تین سال کے اندر اندر تینوں بہنوں کو کرایہ دیا جا رہا تھا ۔
اب درج ذیل امور کے بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:
1۔ چونکہ تیسری بہن کو تین سال کے اندر تو کیا، آج تک بھی کوئی رقم ادا نہیں کی گئی، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آج بھی دکان میں اس کا مکمل 8.33 فیصد حصہ برقرار ہے؟
2۔ کیا یہ بات کہ مذکورہ معاہدہ صرف تین سال کے لیے تھا اور اس کی مدت 2018ء میں ختم ہو چکی، اس امر کی دلیل ہے کہ تیسری بہن کا جو حصہ ادا نہیں ہوا، وہ بدستور اسی کی ملکیت میں رہا؟
3۔ معاہدے کے مطابق یہ طے ہوا تھا کہ جس بہن کا جتنا حصہ باقی ہوگا، اس کے تناسب سے بھائی اس حصے کا کرایہ بہنوں کو ادا کریں گے، کیونکہ دکان بھائی استعمال کر رہے ہوں گے۔ کیا اس طرح حصے کے تناسب سے کرایہ مقرر کرنا شرعاً جائز ہے؟
4۔ اگر اب دکان فروخت کی جائے، یا کوئی بھائی تیسری بہن کا حصہ خریدنا چاہے، تو کیا اس حصے کی قیمت موجودہ مارکیٹ ویلیو کے حساب سے مقرر کی جائے گی؟
براہِ کرم مذکورہ صورتِ حال کی شرعی حیثیت اور ہر سوال کا تفصیلی حکم شریعت کی روشنی میں بیان فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیراً
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
:مذکورہ معاہدہ حتمی اور فوری بیع کا نہیں، بلکہ وعدۂ بیع اور اجارہ کا تھا، جس کی شرعاً گنجائش ہے۔ اس کی نظیر شرکتِ متناقصہ کی ہے۔ شرکتِ متناقصہ سے مراد وہ شرکت ہے جس میں دو یا زیادہ شریک کسی اثاثے میں مشترکہ ملکیت حاصل کرتے ہیں، پھر ان میں سے ایک شریک دوسرے شریک کے حصص تدریجاً خریدتا رہتا ہے، یہاں تک کہ پورا اثاثہ اس کی ملکیت میں آجاتا ہے۔
اس معاہدے کی رو سے بھائیوں نے اب تک جتنی ادائیگی کی ہے، اتنے حصے کی باہمی رضامندی سے تعاطی کے ذریعے بیع منعقد ہوچکی ہے، جبکہ جن حصص کی ابھی تک ادائیگی نہیں ہوئی، وہ بدستور بہنوں کی ملکیت میں ہیں، لہٰذا ان حصص کا بہنوں کو کرایہ ادا کرنا لازم ہے۔
2:تین سال کے اندر تیسری بہن کو ابھی تک کوئی ادائیگی نہیں ہوئی، اس لیے دکان میں اس کا حصہ بدستور اسی کی ملکیت میں باقی ہے، جس کا کرایہ اس کو ادا کرنا حسبِ سابق لازم رہے گا۔ نیز چونکہ مذکورہ معاہدہ تین سال کے لیے تھا اور تین سال کی مدت اب گزر چکی ہے، اس لیے اب تیسری بہن پر سابقہ وعدے کی پابندی لازم نہیں، لہٰذا اسے اپنے حصے کے بارے میں آئندہ فیصلہ کرنے کا اختیار ہے۔
3۔ جی ہاں، اس طرح باقی ماندہ حصص کے تناسب سے ان کا کرایہ مقرر کرنا اور ادا کرنا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ خریداری کا وعدہ اجارہ کے معاملے میں شرط نہ ہو اور دونوں عقود کو صرف وعدہ کی حد تک ایک ساتھ جمع کیا گیا ہو۔ بصورتِ دیگر، اگر دونوں عقود کو ایک ساتھ اس طرح جمع کیا گیا تھا کہ ایک عقد کو دوسرے کے لیے شرط قرار دیا گیا تھا، تو یہ صورت شرعاً جائز نہیں ہوگی۔ چونکہ مذکورہ صورت میں ابتداء میں صرف وعدے کے طور پر مفاہمت ہوئی تھی، اجارہ اور بیع کے باقاعدہ عقد مختلف اوقات میں ہوں گے، اس لیے مذکورہ صورت جائز ہے۔
4۔ تین سال کی مدت کے دوران چونکہ بہنوں نے اپنے اپنے حصے کو 75 لاکھ روپے میں فروخت کرنے کا وعدہ کیا تھا، اس لیے وعدے کی پابندی کرتے ہوئے اس مدت کے اندر ان حصص کی قیمت 75 لاکھ روپے ہی مقرر ہوئی تھی۔ البتہ تین سال کی مدت گزرنے کے بعد اب بہنوں کو شرعاً اختیار ہے کہ وہ اپنے حصص بھائیوں کو جس قیمت پر فروخت کرنا چاہیں، وہ کرسکتی ہیں، بلکہ ان کو یہ بھی اختیار ہے کہ جو حصے اب تک فروخت نہیں کیے، وہ اب فروخت نہ کریں۔
حوالہ جات
«بحوث في قضايا فقهية معاصرة» (ص250):
«الشركة المتناقصة:
والطريق الثاني للتمويل العقاري يبتنى على أساس الشركة المتناقصة. وإن هذا الطريق يتلخص في نقاط تالية: إن الممول والعميل يشتريان البيت على أساس شركة الملك، فيكون البيت مشاعا بينهما بنسبة حصة الثمن التي دفعها كل واحد منهما، فإن دفع كل منهما نصف الثمن، يكون البيت مشاعا بينهما بالنصف، وإن دفع أحدهما الثلث والآخر الثلثين، كان البيت بينهما أثلاثا، وهكذا. ثم يؤجر الممول حصته من البيت إلى العميل بأجرة شهرية أو سنوية معلومة بينهما.
ج- وتقسم حصة الممول على سهام متعددة معلومة، كالعشرة مثلا.
د- وبعد كل فترة دورية متفق عليها بين الفريقين (كستة أشهر مثلا) يشتري العميل
سهما من هذه السهام بحصة من الثمن، فإن كانت حصة الممول مثلا تساوي ستة أشهر يشتري العميل سهما بعشرين ألف ربية.
هـ - وبعد شراء سهم من حصة الممول تنتقص ملكيته في البيت، وتزداد ملكية العميل.
ووبعد شراء كل سهم من حصة الممول تنتقص الأجرة بحساب ذلك السهم، فإن كانت أجرة حصة الممول بكاملها ألف ربية مثلا، فإنها تنتقص بعد شراء كل سهم بقدر مائة ربية، فتصير الأجرة بعد شراء السهم الأول تسعمائة ربية، وبعد شراء السهم الثاني ثمانمائة ربية، وهكذا.
ز- حتى إذا اشترى العميل سهام الممول كلها صار البيت كله مملوكا للعميل، وانتهت الشركة والإجارة معا.
وإن هذا الطريق من التمويل العقاري، يشتمل على عقود ثلاثة:
العقد الأول: لإحداث شركة الملك.
والثاني: إجارة حصة الممول.
والثالث: بيع السهام المتعددة من حصة الممول إلى العميل. فلنتكلم أولا على كل عقد على حدة، ثم لنبحث عن مدى شرعية هذا الطريق بمجموعه.
أما شراء البيت بمالهما المشترك، فلا مانع منه شرعا، ويحدث بذلك شركة الملك بينهما، فإن شركة الملك عرفها الفقهاء كالتالي: " شركة الملك هي أن يملك متعدد عينا أو دينا بإرث أو بيع أو غيرهما " .
فهذه الشركة في البيت قد حدثت بالشراء بمالهما المشترك.
وأما إجارة حصة الممول من العميل، فهذه إجارة جائزة أيضا. لأن إجارة المشاع من غير الشريك وإن كان في جوازه خلاف بين الفقهاء، فلا خلاف في
جواز إجارة المشاع من الشريك. قال ابن قدامة رحمه الله: " ولا تجوز إجارة المشاع لغير الشريك، إلا أن يؤجر الشريكان معا وهذا قول أبي حنيفة وزفر، لأنه لا يقدر على تسليمه فلم تصح إجارته. . . واختار أبو حفص العكبري جواز ذلك، وقد أومأ إليه أحمد، وهو قول مالك والشافعي وأبي يوسف ومحمد، لأنه معلوم يجوز بيعه، فجازت إجارته كالمفروز، ولأنه عقد في ملكه يجوز مع شريكه، فجاز مع غيره " (1) وجاء في الدر المختار للحصكفي: (وتفسد-أي الإجارة-أيضا بالشيوع … إلا إذا آجر كل نصيبه أو بعضه من شريكه، فيجوز، وجوازه بكل حال "
وبما أن إجارة الحصة المشاعة تقع في الطريق المذكور من الشريك، فإنها جائزة بإجماع الفقهاء.
أما بيع الحصة الشائعة من الدار، فإنه يجوز أيضا، فإن كان المبيع حصة في العرضة والبناء كليهما، فلا خلاف في جواز البيع، وأما إذا كان المبيع الحصة الشائعة في البناء فقط، فيجوز البيع مع شريكه بالإجماع، وفي جواز البيع من الأجنبي خلاف، وقدمنا ما ذكره ابن عابدين في رد المحتار من قوله " ولو باع أحد الشريكين في البناء حصته لأجنبي لا يجوز، ولشريكه جاز " وبما أن البيع ههنا لا يقع إلا من الشريك، فلا خلاف في جوازه.
فظهر بهذا أن هذه العقود الثلاثة من المشاركة في الملك، والإجارة، والبيع، كل واحد منها صحيح في حد ذاته، فإن وقعت هذه العقود من غير أن يشترط أحدها في الآخر، بل يعقد كل منها مستقلا، فلا غبار على جوازها.
وأما إذا وقعت هذه العقود باتفاق سابق بين الفريقين، فربما يبدو أن ذلك لا يجوز، لكونه صفقة في صفقة، أو لكون العقد الواحد شرطا زائدا في العقد الآخر، وإن الصفقة في الصفقة لا تجوز، حتى عند من يجوز بعض الشروط في البيع، كالحنابلة، قال ابن قدامة رحمه الله: " الثاني - أي النوع الثاني من الشرط - فاسد، وهو ثلاثة أنواع: أحدها: أن يشترط على صاحبه عقدا آخر، كسلف أو قرض، أو بيع أو إجارة، أو صرف الثمن أو غيره، فهذا يبطل البيع، ويحتمل أن يبطل الشرط وحده، المشهور في المذهب أن هذا الشرط فاسد يبطل به البيع، لأن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ((لا يحل بيع وسلف، ولا شرطان في بيع)) .
قال الترمذي: هذا حديث صحيح، ((ولأن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيعتين في بيعة)) حديث صحيح وهذا منه، قال أحمد: " وكذلك كل ما في معنى ذلك، مثل أن يقول: على أن تزوجني بابنتك، أو على أن أزوجك ابنتي. فهذا كله لا يصح، قال ابن مسعود صفقتان في صفقة ربا، وهذا قول أبي حنيفة والشافعي وجمهور العلماء، وجوزه مالك وجعل العوض المذكور في الشرط فاسدا ۔
ولكن هذا المحظور إنما يلزم إذا كان العقد الواحد مشروطا بالعقد
الآخر في صلب العقد، أما إذا وقعت هناك مواعدة بين الفريقين، بأنهما يعقدان الإجارة في الوقت الفلاني، والبيع في الوقت الفلاني، وانعقد كل عقد في وقته مطلقا عن أي شرط، فالظاهر أنه لا يلزم منه الصفقة في الصفقة وقد صرح به الفقهاء في عدة مسائل ولا سيما في مسألة البيع بالوفاء»
اسداللہ بن قوت خان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
17/ ربیع الثانی /8144 ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسداللہ بن قوت خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


