| 92067 | مضاربت کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
مسئلہ یہ ہے کہ میرے بہت قریبی رشتہ دار ہیں، جو میرے لیے نہایت قابلِ اعتماد تھے۔ انہوں نے مجھ سے ڈھائی سال پہلے، نومبر 2023ء میں، ایک زمین کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہمارا گروپ ایک بڑی زمین کا سودا کر رہا ہے اور اس میں انویسٹرز کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ ہمیں انویسٹمنٹ دیں، ہم نے زمین عام لوگوں سے خریدی ہوئی ہے، ان لوگوں کو پیمنٹ کرنی ہے، اور آگے وہ زمین ہم نے ایک مشہور ادارے سے بات کر کے ان کو تین گنا زیادہ قیمت میں بیچ بھی دی ہے۔ آپ نے صرف پیسے ہمیں دینے ہیں، اور ہم آپ کو زیادہ سے زیادہ تین مہینوں میں اصل رقم بمعہ منافع (جو ہمارا آپس میں طے ہو گیا تھا) واپس دینے کے پابند ہوں گے۔چونکہ وہ میرے قریبی رشتہ دار بھی ہیں اور حلیے سے دین دار بھی ہیں، اس لیے میں نے بغیر لکھت پڑھت کے ان کو اپنے ماموں سے کچھ پیسے لے کر، اور اپنی ذاتی واحد گاڑی اور اہلیہ کے کچھ زیورات ان کے حوالے کر دیے، جس کی کل مالیت اس وقت 34 ملین تھی۔دیے گئے وقت پر جب میں نے ان سے تقاضا کیا تو انہوں نے ٹال مٹول سے کام لیا۔ وہ لوگ اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں اور میں کراچی میں۔ اس معاملے کے حل کے لیے میں ڈھائی سال کے مختلف اوقات میں ان کے پاس کراچی سے اسلام آباد گیا اور وہاں مجھے مہینوں مہینوں رکنا پڑا۔ میں گھر کا واحد کفیل ہوں۔ میرے گھر پر صرف میری والدہ اور اہلیہ ہیں، جنہوں نے اس سارے وقت میں کافی تکلیفیں اٹھائیں۔
ماموں نے جو انویسٹمنٹ دی تھی، اس میں انہوں نے اپنے کسی دوست سے بھی پیسے لیے تھے۔ وہ مجھ سے ہر وقت پیسوں کی واپسی کا تقاضا کرتے رہتے ہیں۔ میں اسلام آباد آٹھ دفعہ ان کے پاس گیا، جس کی وجہ سے میں کسی کام کاروبار کے قابل نہیں رہا، اور ہر بار مجھ سے کچھ وقت لے کر وعدہ کرتے رہے کہ اس بار اس وقت پر آپ کے پیسے مل جائیں گے۔ اور جب وہ وقت آتا تو میں ان کو کال اور میسج کر کر کے تھک جاتا، لیکن ان کی طرف سے ہر بار وعدہ خلافی ہوتی رہی۔
میرے علاوہ انہوں نے کافی سارے لوگوں کو ان کے پیسے واپس کیے، کیونکہ ان لوگوں نے گھیرا کافی تنگ کر دیا تھا۔ چونکہ میری ان سے رشتہ داری ہے، اس لیے میں نے ابھی تک کوئی اور راستہ نہیں چنا۔آخری بار میں ان کے پاس جنوری 2026ء میں اسلام آباد گیا تو ان لوگوں نے بیچ میں ایک ثالث بٹھایا۔ ثالث نے ساری بات سنی اور انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں کی ڈیل سود کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ جس پر میں نے کہا کہ جب میں ان کے ساتھ انویسٹمنٹ کر رہا تھا، اس وقت ان سے میں نے یہ سوال پوچھا تھا تو انہوں نے مجھے جواب دیا تھا کہ ہم خالصتاً کاروبار کے غرض سے آپ کے پیسے انویسٹ کر رہے ہیں، اور وہاں سے ہمیں سو فیصد منافع ہونا ہے، اور ہم آپ کو منافع کے ساتھ تین مہینوں میں سارے پیسے واپس کرنے کے پابند ہوں گے۔ اور انہوں نے کہا تھا کہ تسلی رکھیں، ہم سود کا کام نہیں کرتے۔میں نے شروع میں عرض کی تھی کہ ایک تو میرا قریبی رشتہ ہے، دوسرا ان کا دینی حلیہ، جس پر میں نے آنکھیں بند کر کے اعتبار کیا تھا۔یہاں ایک بات آپ نوٹ کریں کہ انہوں نے پیسے زمین میں لگا تو لیے تھے، لیکن کام ابھی تک نہیں ہوا۔ اس کے باوجود انہوں نے کافی لوگوں کو پیسے واپس کیے۔ثالث نے ان سے میرے پیسوں کے حوالے سے جب تفصیل پوچھی تو پتہ چلا کہ میرے 34 ملین میں سے موصوف نے صرف 20 ملین زمین میں لگائے تھے، اور باقی رقم اپنے ذاتی استعمال میں لے لی تھی۔ اس بات کا مجھے اس سے پہلے علم نہیں تھا۔
34 ملین میں سے ان لوگوں نے میرے ماموں کو جنوری 2026ء میں 9 ملین اور مجھے 2 ملین واپس کر دیے تھے، اور باقی 23 ملین کے لیے انہوں نے مجھ سے اپریل 2026ء کا وعدہ کیا۔ اب وقت آنے پر ایک بار پھر وعدہ خلافی کر رہے ہیں۔آپ میری شریعت کی رو سے اصلاح فرمائیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ ماموں سے میں نے 29 ملین تین مہینے کی بنیاد پر لیے تھے، اور آج ڈھائی سال گزر گئے، اور ان کو صرف 9 ملین واپس کیے۔ ان لوگوں کے جھوٹ کی وجہ سے مجھے اور میرے ماموں کو کافی بڑا نقصان بھی ہوا، اور ہمیں اس عرصے میں شدید ذہنی اذیت بھی پہنچی۔
ہم ڈھائی سال کے بعد بھی صرف اپنے اصل پیسوں کا تقاضا کر رہے ہیں، جو کہ اب ویلیو کے اعتبار سے آدھے رہ گئے ہیں۔ اب بھی ٹال مٹول کر رہے ہیں، جبکہ ثبوت موجود ہیں کہ گزشتہ چار مہینوں میں بھی اس گروپ نے لوگوں کو کافی بڑی اماؤنٹ واپس کی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ آپ کی دی ہوئی رقم میں سے آپ کے رشتہ دار نے جو رقم اپنے ذاتی استعمال میں لی تھی، وہ اس کے ذمے قرض ہے، اور جو رقم زمین خریدنے میں لگائی ہے، اس میں آپ کا اصل سرمایہ اور نفع (اگر نفع ہوا ہو) آپ کا شرعی حق ہے، جو آپ کے رشتہ دار کے ذمے ادا کرنا لازم ہے۔
اب چونکہ وہ آپ کی رقم ادا نہیں کر رہا، تو اس صورتِ حال میں آپ درج ذیل طریقوں سے اپنا حق وصول کر سکتے ہیں:
1۔ دیگر قرض خواہوں کی طرح اس سے اپنے حق کی وصولی کے لیے مسلسل تقاضا کریں اوران کا پیچھا کرے۔ مناسب طریقے سے حق وصولیابی رشتہ داری کے خلاف نہیں بلکہ حق نہ دینا اور وعدہ خلافی کرنا شریعت اور رشتہ داری کے خلاف ہے ۔
2۔ عدالت کے ذریعے اپنا حق وصول کریں۔
3۔ اس کی اجازت کے بغیر، اپنی جان اور اولاد کو خطرے میں ڈالے بغیر، اس کے کسی مال کو اپنے قبضے میں لے کر اسی مال سے اپنا حق وصول کر سکتے ہیں۔
حوالہ جات
«الكوكب الدري على جامع الترمذي» (2/ 315):
«قال الخطابي هذا الحديث يعد مخالفًا في الظاهر حديث هند (أي امرأة أبي سفيان) وليس بينهما في الحقيقة خلاف وذلك لأن الخائن هو الذي يأخذ ما ليس له أخذه ظلمًا فأما من كان مأذونًا في أخذ حقه من مال خصمه فليس بخائن، والمعنى لا تخن من خانك بأن تقابله بخيانة مثل خيانته وكان مالك يقول إذا أودع رجل رجلاً ألف درهم فجحده ثم أودعه الجاحد ألفًا لم يجز له أن يجحده قال ابن القاسم أظنه ذهب إلى هذا الحديث، وقال أصحاب الرأي يسعه أن يأخذ ألفًا قصاصًا عن حقه ولو كان بدله حنطة أو شعير لم يجز له ذلك فإن هذا بيع، وقال الشافعي يسعه أن يأخذ عن حقه في الوجهين لحديث هند، وقال الحافظ استدل بحديث هند على أن من له عند غيره حق وهو عاجز عن استيفائه جاز له أن يأخذ من ماله بقدر حقه بغير الإذن، وهو قول الشافعي وجماعة وتسمى مسألة الظفر، والراجح عندهم لا يأخذ غير جنس حقه إلا إذا تعذر جنس حقه وعن أبي حنيفة المنع وعنه يأخذ جنس حقه ولا يأخذ من غير الجنس إلا أحد النقدين بدل الآخر وعن مالك ثلاث روايات كهذه الآراء وعن أحمد المنع مطلقًا، هكذا في البذل.»
«مجلة مجمع الفقه الإسلامي» (9/ 602):
«وحاصل المسألة أن الدائن إذا ظفر بمال المدين هل يجوز له أن يستوفي حقه من ماله الذي ظفر به؟ وقد ذكر الفقهاء أن المدين إن كان مانعا للدين لأمر يبيح المنع، كالتأجيل والإعسار، لم يجز أخذ شيء من ماله، وكذلك إن كان المدين مانعا بغير حق، لكن يقدر الدائن على استخلاص حقه بالحاكم، لم يجز له الأخذ أيضا، وهذا لا خلاف فيه بين العلماء، إلا أن هناك وجها عند الشافعي رحمه الله يجيز له الأخذ. وأما إذا لم يقدر الدائن على استخلاص حقه بحكم الحاكم فهذا موضع خلاف بين الأئمة على الشكل التالي. (3)
1- قال الشافعي رحمه الله تعالى: جاز له أخذ حقه مما ظفر به، سواء كان المال الذي يجده من جنس حقه، أو من خلاف جنسه، وهو رواية عن مالك رحمه الله.
2- قال أحمد رحمه الله تعالى في المشهور عنه: ليس له الأخذ من ذلك المال، بل يرده، ثم يطالبه بدينه، وهو رواية عن مالك رحمه الله.
3- وقال أبو حنيفة رحمه الله: يجوز له الأخذ إن كان ما وجده من جنس حقه، مثل أن تكون له على المدين دراهم، فوجد دراهم مملوكة له. يجوز له أخذها بقدر حقه، ولا يجوز له إن كان من غير جنسه، مثل أن تكون له على المدين دراهم، فوجد دنانير، لا يجوز له الأخذ.
هذا أصل مذهب الحنفية، لكن المتأخرون من فقهاء الحنفية أفتوا في هذه المسألة بقول الشافعي، رحمه الله، فأجازوا للظافر أن يستوفي حقه مما ظفر به من مال المدين مطلقا، سواء كان المال الذي ظفر به من جنس حقه، أو لم يكن.
يقول ابن عابدين ناقلا عن شرح القدوري للأخصب:
(إن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس كان في زمانهم، لمطاوعتهم في الحقوق. والفتوى اليوم على جواز الأخذ عند القدرة من أي مال كان، لا سيما في ديارنا، لمداومتهم العقوق) . (1)»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (6/ 151):
«قال الحموي في شرح الكنز نقلا عن العلامة المقدسي عن جده الأشقر عن شرح القدوري للأخصب: إن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس كان في زمانهم لمطاوعتهم في الحقوق، والفتوى اليوم على جواز الأخذ عند القدرة من أي مال كان لا سيما في ديارنا لمداومتهم العقوق قال الشاعر:
عفاء على هذا الزمان فإنه … زمان عقوق لا زمان حقوق وكل رفيق فيه غير مرافق … وكل صديق فيه غير صدوق ط. (قوله: خلافا لهما وبه يفتى) الأولى أن يقول وقالا: يبيع وبه يفتى كما لا يخفى»
اسداللہ بن قوت خان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
3/ ربیع الثانی /8144 ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسداللہ بن قوت خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


