03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کریڈٹ کارڈ کی شرعی حیثیت
90528سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! سوال یہ ہے کہ میں سرکاری ملازم ہوں، میری ماہانہ تنخواہ تقریبا ایک لاکھ ہے۔ میرے اوپر کچھ قرضہ چڑھ گیا، جس کے اتارنے کی میں کوشش کر رہا ہوں اور کافی حد تک ادا کر چکا ہوں۔ تاہم مجھے یہ پریشانی لاحق ہے کہ جب میری سیلری آتی ہے تو میں پہلے اس سے قرض ادا کرتا ہوں۔ لیکن اس کی وجہ سے پھر گھریلو اخراجات کے لیے رقم باقی نہیں رہتی، جس کی وجہ سے پھر مجھے کہیں سے قرض لینا پڑتا ہے۔ اب اس ترتیب کو کافی عرصہ ہو چکا ہے اور اکثر جاننے والوں سے قرض لے چکا ہوں، اب بار بار انہیں تنگ کرنا مناسب نہیں لگ رہا۔ میں نے اپنی اس پریشانی کا ایک دوست سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ آپ بینک سے کریڈٹ کارڈ بنوا لیں۔ میں نے اس کی تفصیلات پوچھیں تو ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ وہ کریڈٹ کارڈ بنوا لیتے ہیں تو آپ اس سے بل پے کر سکتے ہیں، دیگر اخراجات راشن وغیرہ کا سامان شاپ سے لے سکتے ہیں۔ پھر اگر 40 دن سے پہلے پہلے آپ وہ رقم جمع کروا دیتے ہیں تو آپ سے کسی قسم کی کوئی اضافی رقم نہیں لی جائے گی۔ مجھے اپنی ذات پر مکمل اعتماد ہے کہ میں ہر ماہ 40 دن سے پہلے پہلے وہ رقم جمع کروا دیا کروں گا، کیونکہ میری جیسے ہی  سیلری آئے گی، تو میں فورا پہلے یہ کام کر لوں گا اور پھر دو چار دن کے بعد کریڈٹ کارڈ سے ضروریات پوری کر کے اگلے ماہ سیلری آنے پر 40 دن سے پہلے پہلے پھر وہ جمع کروا دوں گا ۔تو     آپ    سے پوچھنا یہ ہے ،کیا      میرے لیے کریڈٹ کارڈ بنوانا جائز ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ حرام کےقریب جانا بھی بہتر نہیں کیونکہ حرام کے ارتکاب کا اندیشہ ہو تا ہے۔  چنانچہ سردار دو عالم  ﷺنے فرمایا :

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ، اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں، جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے (کہ حلال ہیں یا حرام) پھر جو شخص ان مشتبہ چیزوں سے بچا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو ان میں پڑ گیا وہ حرام میں پڑ گیا (اور اس کی مثال) اس چرواہے کی سی ہے جو چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چراتا ہے اور قریب ہے کہ اس میں گھس جائے“

نیز ابوالحوراء شیبان سعدی کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن علی رضی الله عنہما سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا چیز یاد کی ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد کیا ہے کہ ”اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈالے اور اسے اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے، سچائی دل کو مطمئن کرتی ہے، اور جھوٹ دل کو بے قرار کرتا اور شک میں مبتلا کرتا ہے“

کریڈٹ کارڈ کے حوالے سے حکم شرعی میں تفصیل  یہ ہے کہ چونکہ کریڈٹ کارڈ  بنواتے وقت  ابتداء ہی سے معاہدہ   میں یہ  شرط ہوتی ہے کہ اگر  حامل کارڈ   ایک متعینہ مدت تک بل اداء نہ کرے تو سود چارج ہونا شروع ہو جائیگا ،جو کہ حرام اور سودی شرط ہے ؛ اس لیے عام حالات میں کریڈٹ کارڈ بنوانا اور  استعمال کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔البتہ اگر کسی شخص کیلئے کریڈٹ کارڈ کا استعمال ناگزیر ہو جیسا کہ بعض ممالک میں کریڈٹ کارڈ ہی استعمال ہوتا ہے یا کریڈٹ کارڈ کے علاوہ لین دین میں غیر معمولی مشکلات پیش آتی ہوں، تو اس صورت میں اس شخص کیلئے کریڈٹ کارڈ لینے اور استعمال کرنے کی درجہ ذیل شرائط کے ساتھ  گنجائش ہے:

الف۔ حامل کارڈ کو یقین ہو  اور اس کی  پختہ نیت  ہو کہ وہ   سود کی متعین مدت شروع ہونے سے پہلے پہلے ادائیگی کردے گا اور معاملہ سود عائد ہونے تک موخر نہیں کرےگا۔  ورنہ بروقت ادائیگی نہ کرنے پر اضافی رقم بلا شبہ سود ہے اور ناجائز ہے ۔

ب۔ عملا بھی بروقت ادائیگی کا پورا پور انتظام ہو جیسا کہ  Full Payment Auto Debit  کا طریقہ کار اختیار کرنا(جس کا مطلب:

کسی شخص یا ادارے کی پیشگی اجازت کے تحت بینک یا مالیاتی نظام کی طرف سے مقررہ تاریخ پر خودکار طریقے سے اکاؤنٹ سے رقم کا کاٹ لیا جانا، تاکہ کسی واجب الادا ادائیگی، قرض، بل یا قسط کو ادا کیا جا سکے)

ج۔ اس کارڈ کو  غیر شرعی امور میں استعمال نہ کیا جائے ۔

د۔کریڈٹ کارڈ سے نقد رقم (Cash Withdrawal)نکلوانا شرعاً جائز نہیں ہے؛ کیونکہ کیش وید ڈرا کی صورت میں اس وقت سے سود لاگو ہونا  شروع ہو جا تا ہے ۔

ہ۔ اگرضرورت ڈیبٹ کارڈ سے پوری ہوسکتی ہوتوبہتریہ ہےکہ اس کارڈ کواستعمال نہ کریں۔

 چونکہ اصل معاہدے میں سودی شرط شامل ہوتی ہے،اس لیے   اگر چہ کہا جاسکتا ہے کہ شرعا، حامل کارڈ کی نیت ، ضرورت اور پیشگی ادائیگی انتظامات کی وجہ سے  گویا وہ با طل ہے اور امید ہے کہ عنداللہ  پکڑ نہیں  ہوگی ؛تاہم پھر بھی توبہ استغفار کا اہتمام کرنا چاہئے  ، حتی الامکان کریڈٹ کارڈ کے استعمال سے گریز کرنا چاہئے    ۔البتہ اگر وہ مذکورہ شرائط کی پابندی کرتا ہے تو کریڈیٹ کارڈ بنوانے کی گنجائش ہے۔

حوالہ جات

فقہ البیوع علی المذاھب الاربعۃ(1/462):

القسم الأول: بطاقة الإئتمان

المراد من "بطاقة الإئتمان " في الاصطلاح المصرفي بطاقة يتيح لحاملها فرصة أن يشتري بها بضائع، وأن يؤدي مُصدر البطاقة ثمنها إلى التاجر، ثم إنه يُعطى حامل البطاقة أجلاً لدفع ذلك الثمن مع فائدة ربوية. وإن العملية في هذه البطاقة عملية ربوية بحتة لا تجوز، ولا يحتاج بيان حكمها إلى تفصيل آخر۔۔۔۔۔۔۔۔

المسألة الثالثة: حكم التعاقد مع مصدر البطاقة في حين أن العقد يُصرح بأن حامل البطاقة إن لم يسدد الفاتورة خلال فترة السماح، التي هي شهر عادة، فإن المصدر يتقاضى عليه زيادة، فإن مثل هذا الاشتراط محرم شرعاً لكونه رباً، ولكن يمكن الحامل البطاقة التحرر منه بأن يأمر مصدر البطاقة أن يحسم مبلغ الفاتورة من حسابه مباشرة. وقد تسمح بعض شركات البطاقة بذلك إما من حساب حامل البطاقة عند المصدر، وإما من حسابه في بنك آخر.

أما إذا لم يتيسر ذلك، فهل يجوز لمسلم أن يأخذ البطاقة ويُوقع على العقد الذي فيه هذا الشرط بنية أنه سيدفع الفواتير في حينها قبل أن تفرض عليها زيادة ربوية ولا يطبق هذا الشرط فعلاً؟ فيه خلاف للعلماء المعاصرين، فقال بعضهم: إن مجرد التوقيع على هذا الشرط دخول في عقد محرم، فلا يجوز، ولو كان بنية عدم تطبيقه في الواقع. وقال آخرون: إن حامل البطاقة إن كان على يقين بأن هذا الشرط لا يطبق فعلاً لعزم أداءه مبلغ الفاتورة خلال الفترة المحددة، فإنه يجوز، واستأنسوا لذلك بحديث عائشة في قصة بريرة رضى الله تعالى عنهما، حيث قال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اشترطى لهم الولاء، فإن الولاء لمن أعتق ) فأجاز هذا الاشتراط، لأن الشرط لا يطبق فعلاً.

ولكن هذا الاستدلال فيه نظر، لأن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان في قدرته أن۔۔۔۔۔۔۔

بطل هذا الشرط، وقد أبطل ذلك في خطبته التي خطبها بعد ذلك، أما حامل البطاقة، فليس في مكنته أن يبطل هذا الشرط غاية ما في وسعه أن يؤدي الفاتورة في حينه لثلاً يطبق الشرط. ولكن مثل هذه الشروط قد عمت بها البلوى في زماننا، فإن مثل هذه الشروط توجد في كثير من التعاملات مثل التعامل مع شركة الكهرباء، وشركات الهواتف، وغيرها، فإن شرط غرامة التأخير موجود في جميع ذلك، ولكن يشكل القول بأنه لا يجوز للإنسان أن يتعاقد مع هذه الشركات للحصول على الكهرباء والهاتف وغير ذلك، بل جرى التعامل على أن الإنسان يتعاقد معها من غير نكير بشرط أن يكون في عزمه أن يؤدي واجباته في حينها، وإنما أجيز ذلك لحاجة عامة. فإن لم يتيسر الحصول على بطاقة الحسم الفوري، ولا التعاقد مع مصدر البطاقة بأن يسحب مبلغ الفاتورة من حساب الحامل، واشتدت الحاجة إلى مثل هذه البطاقة، فالمرجو أن حامله يُعتبر معذوراً في الدخول في هذا العقد إن شاء الله تعالى بعد أخذ جميع الاحتياطات اللازمة لأن لا يلجأ إلى دفع الفائدة الربوية، والله سبحانه وتعالى أعلم

اسداللہ بن قوت خان

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

30 /ذوالقعدہ/7144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسداللہ بن قوت خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب